حالت تشہد میں انگلیوں کا گھٹنوں سے آگے بڑھی ہونے کا حکم

حالت تشہد میں انگلیوں کا گھٹنوں سے آگے بڑھی ہونے کا حکم

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس بارے میں کہ نماز میں حالت تشہد میں بیٹھے ہوئے کسی شخص کی انگلیاں اگر گھٹنوں سے آگے بڑھ جائیں تو لوگوں میں مشہور ہے کہ وہ انگلیاں جہنم میں ہیں یا وہ انگلیاں قیامت والے دن کاٹ دی جائیں گی ،کیا یہ بات شرعی لحاظ سے درست ہے ؟رہنمائی فرما دیجئے۔

بسم اللہ الرحمن الرحیم

الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق وا لصواب

بیان کی گئی گئی صورت کا شرعی حکم یہ ہے کہ ایسی کوئی بات روایات یا کتب فقہ سے ثابت نہیں ہے۔البتہ تشہد میں انگلیاں گھٹنوں سے آگے بڑھی ہونا خلاف ِ سنت ہے کیونکہ سنت طریقہ یہ ہے کہ دائیں ہتھیلی کو دائیں ران پر اور بائیں ہتھیلی کو بائیں ران پر اس طرح رکھا جائے کہ انگلیاں تھوڑی سی کشادہ ہوں اور ان کا رخ قبلہ کی طرف ہو اور انگلیوں سے گھٹنوں کو رکوع کی حالت کی طرح اس طرح نہ پکڑا جائے کہ انگلیوں کا رخ زمین کی طرف ہوجائے۔

ہدایہ شریف میں ہے

”وإذا رفع رأسه من السجدة الثانية في الركعة الثانية افترش رجله اليسرى فجلس عليها ونصب اليمنى نصباً ووجه أصابعه نحوالقبلة هكذا وصفت عائشة رضي الله عنها قعود رسول الله صلى الله عليه وسلم في الصلاة. ووضع يديه على فخذيه وبسط أصابعه وتشهد يروى ذلك في حديث وائل بن حجر رضي الله عنه؛ ولأن فيه توجيه أصابع يديه إلى القبلة“

ترجمہ:اور جب وہ (نمازی) دوسری رکعت میں دوسرے سجدے سے سر اٹھائے تو وہ اپنا بایاں پاؤں بچھا دے اور اس پر بیٹھے، اور دایاں پاؤں کھڑا رکھے اور اپنی انگلیوں کا رخ قبلہ کی طرف کرے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا نماز میں بیٹھنا اسی طرح بیان کیا ہے۔اور وہ اپنے ہاتھوں کو اپنی رانوں پر رکھے، اور اپنی انگلیوں کو کشادہ رکھے(ملا کر نہ رکھے) اور تشہد پڑھے۔یہ حضرت وائل بن حجر رضی اللہ عنہ کی روایت میں بیان کیا گیا ہےاور اس وجہ سے کہ اس میں اپنے ہاتھوں کی انگلیوں کو قبلہ کی طرف متوجہ کرنا ہے۔(الھدایہ٬کتاب الصلوٰۃ٬باب صفۃ الصلوٰۃ٬ جلد 1 ٬صفحہ 325، مکتبۃ المدینہ کراچی)

غنیۃ المستملی میں شیخ ابراہیم حلبی علیہ الرحمۃ(متوفی 956ھ) فرماتے ہیں

”( و يضع يديه ) حال التشهد (على فخذيه ويفرج أصابعه لا كل التفريج )“

ترجمہ:اور وہ تشہد کی حالت میں اپنے ہاتھ اپنی رانوں پر رکھے اور اپنی انگلیوں کو(تھوڑا)کھلا رکھے نہ کہ مکمل طور پر۔(غنیۃ المستملی فی شرح منیۃ المصلی ٬ کتاب الصلوٰۃ ٬ صفحہ 328 ٬مطبوعہ دارسعادت)

البحرالرائق میں علامہ ابن نجیم(متوفی970ھ)فرماتےہیں

”(قوله ووضع يديه على فخذيه وبسط أصابعه) يعني وضع يده اليمنى على فخذه اليمنى ويده اليسرى على فخذه اليسرى لحديث مسلم عن ابن عمر مرفوعا كذلك أشار إلى رد ما ذكره الطحاوي أنه يضع يديه على ركبتيه ويفرق بين أصابعه كحالة الركوع لحديث مسلم أيضا عن ابن عمر كذلك…… ورجح في الخلاصة الكيفية الأولى، فقال: ولا يأخذ الركبة، هو الأصح فتحمل الكيفية الثانية في الحديث على الجواز، والأولى على بيان الأفضلية، وعلل له في البدائع بأنه على الكيفية الأولى تكون الأصابع متوجهة إلى القبلة وعلى الثانية إلى الأرض“

ترجمہ: مصنف کا قول( اور اپنے ہاتھوں کو اپنی رانوں پر رکھے اور اپنی انگلیوں کو کھلا رکھے) یعنی وہ اپنا دایاں ہاتھ دائیں ران پر اور بایاں ہاتھ بائیں ران پر رکھے اور اپنی انگلیوں کو کشادہ یعنی کھلا رکھےیہ امام مسلم کی روایت ہے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مرفوعاً (نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تک منسوب روایت)۔ اس سے امام طحاوی کی اس بات کی تردید ہوتی ہے کہ (نماز میں تشہد کے وقت) آدمی اپنے ہاتھ گھٹنوں پر رکھے اور انگلیوں کو رکوع کی حالت کی طرح پھیلائے، کیونکہ امام مسلم کی روایت میں ایسا مذکور نہیں بلکہ اس کے برعکس ہے۔

“الخلاصة” میں پہلی کیفیت کو راجح قرار دیا گیا ہے، اور کہا گیا ہے کہ “گھٹنے کو نہ پکڑا جائے، یہی زیادہ صحیح ہے۔” اس بنا پر دوسری کیفیت(یعنی رکوع کی طرح گھٹنوں کو پکڑنا) کو صرف جواز پر محمول کیا جائے گا، اور پہلی کیفیت کو افضلیت (زیادہ بہتر) کے بیان پر۔البدائع میں اس کی علت یوں بیان کی گئی ہے کہ پہلی کیفیت میں انگلیاں قبلہ رخ ہوتی ہیں، جب کہ دوسری کیفیت میں زمین کی طرف۔(البحر الرائق,،كتاب الصلاة، باب صفة الصلاة، آداب الصلاة،جلد 1 ٬ صفحہ 342، مطبوعہ ایچ ایم سعيد کمپنی)

الدرالمختار شرح تنویر الابصار میں ہے

” (ويضع يمناه على فخذه اليمنى ويسراه على اليسرى، ويبسط أصابعه) مفرجة قليلا (جاعلا أطرافها عند ركبتيه) ولا يأخذ الركبة هو الأصح لتتوجه للقبلة“

ترجمہ:(اور وہ اپنا دایاں ہاتھ اپنی دائیں ران پر اور بایاں ہاتھ بائیں ران پر رکھے، اور اپنی انگلیوں کو تھوڑا سا کھلا رکھے) اس طرح کہ انگلیوں کے سِرے گھٹنوں کے پاس ہوں، اور گھٹنے کو نہ پکڑے یہی زیادہ صحیح قول ہے تاکہ انگلیوں کا رخ قبلہ کی طرف ہو۔(الدرالمختار علی تنویر الابصار٬ کتاب الصلوٰۃ٬ باب صفۃ الصلوٰۃ٬جلد 2 ٬ صفحہ 265 ٬مطبوعہ رشیدیہ کوئٹہ)

رد المحتار علی الدر المختار میں ہے:

”(قوله: ولا يأخذ الركبة) أي كما يأخذها في الركوع لأن الأصابع تصير موجهة إلى الأرض خلافا للطحاوي، والنفي للأفضلية لا لعدم الجواز كما أفاده فی “البحر“

ترجمہ:صاحب درمختارکا قول(اور گھٹنے کو نہ پکڑے) یعنی رکوع کی طرح گھٹنے نہ پکڑے، کیونکہ اس صورت میں انگلیوں کا رخ زمین کی طرف ہو جائے گا، یہ قول امام طحاوی کے خلاف ہے۔ اور یہ ممانعت افضیلت کے خلاف ہونے کے لیے ہے، نہ کہ جواز کے منافی، جیسا کہ “البحرالرائق” میں واضح کیا گیا ہے۔(رد المحتار علی الدرالمختار ٬ کتاب الصلوٰۃ٬ باب صفۃ الصلوٰۃ ٬ جلد 2 ٬صفحہ 265 ٬مطبوعہ رشیدیہ کوئٹہ)

بہارشریعت میں سنت کے باب میں ہے:

” دوسری رکعت کے سجدوں سے فارغ ہونے کے بعد بایاں پاؤں بچھا کر،دونوں سرین اس پر رکھ کر بیٹھنا، اور داہنا قدم کھڑا رکھنا، اور داہنے پاؤں کی انگلیاں قبلہ رُخ کرنا یہ مرد کے ليے ہے، اور عورت دونوں پاؤں داہنی جانب نکال دے، اور بائیں سرین پر بیٹھے،اور داہنا ہاتھ داہنی ران پر رکھنا، اور بایاں بائیں پر، اور انگلیوں کو اپنی حالت پر چھوڑنا کہ نہ کھلی ہوئی ہوں، نہ ملی ہوئی، اور انگلیوں کے کنارے گھٹنوں کے پاس ہونا، گھٹنے پکڑنا نہ چاہیے۔“

(بہارشریعت،حصہ3،صفحہ530،مکتبۃ المدینہ،کراچی)

واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم

کتبـــــــــــــــــــــــــــہ

محمد عرفان مدنی قصوری

14 شوال المکرم 1446ھ بمطابق13 اپریل 2025ء

نظرثانی:

مفتی محمد انس رضا قادری

اپنا تبصرہ بھیجیں