تالی اور سیٹی بجانا
کیا فرماتے ہیں علمائےکرام اس مسئلہ میں کہ تالیاں بجانا یا سیٹی بجانا کیسا ہے؟
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب
تالیاں بجانا اور سیٹیاں بجانا ممنوع ہے کہ یہ کفارو فساق کا فعل ہے۔ البتہ اگر سیٹی بجانا لہو و لعب کے لیے نہ ہو کسی غرض صحیح(جیسے چوکیداری ،ٹریفک نظام یا رمضان میں سحری وغیرہ) کے لیے ہو تو جائز ہے۔
اللہ تبارک وتعالیٰ قرآن پاک میں ارشاد فرماتا ہے:
”وَ مَا كَانَ صَلَاتُهُمْ عِنْدَ الْبَیْتِ اِلَّا مُكَآءً وَّ تَصْدِیَةًفَذُوْقُوا الْعَذَابَ بِمَا كُنْتُمْ تَكْفُرُوْنَ“
ترجمۂ کنز العرفان:اوربَیْتُ اللہ کے پاس ان کی نمازصرف سیٹیاں بجانا اور تالیاں بجانا ہی تھا تو اپنے کفر کے بدلے عذاب کا مزہ چکھو۔ (سورت انفال ۔۔۔آیت 35)
مفتی قاسم عطاری دامت برکاتہم العالیہ اس آیت کے تحت تفسیر صراط الجنان میں فرماتے ہیں:
” حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالیٰ عَنْہُمَا فرماتے ہیں کہ کفار ِقریش ننگے ہو کر خانہ کعبہ کا طواف کرتے تھے اور سیٹیاں اور تالیاں بجاتے تھے اور ان کا یہ فعل یا تو اس باطل عقیدے کی وجہ سے تھا کہ سیٹی اور تالی بجانا عبادت ہے اور یا اس شرارت کی وجہ سے کہ اُن کے اِس شور سے تاجدارِ رسالت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو نماز میں پریشانی ہو۔ “(صراط الجنان:جلد 3 ص۔۔554،مکتبۃ المدینہ ،کراچی)
فتاویٰ رضویہ میں اس آیت کے تحت ہے:
”عبداللہ بن عباس اور حسن بصری نے فرمایا :قرآن مجید میں جو لفظ “المکاء” آیا ہے اسکے معنی سیٹی بجانا ہے اور تصدیہ کے معنی ہیں تالی بجانا۔ ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ قریش کعبہ شریف کا ننگے ہو کر طواف کرتے اور سیٹیاں اور تالیاں بجاتے تھے ۔“(فتاویٰ رضویہ جلد 24۔۔ص۔۔92 مطبوعہ:رضا فاؤنڈیشن)
بہار شریعت میں ہے:
” ناچنا، تالی بجانا، ستار، ایک تارہ، دو تارہ، ہارمونیم، چنگ، طنبورہ بجانا، اسی طرح دوسرے قسم کے باجے سب ناجائز ہیں۔“(بہار شریعت۔۔۔حصہ ۔16 ،صفحہ514،مکتبۃ المدینہ،کراچی)
مزید بہار شریعت میں ہے:
”لوگوں کو بیدار کرنے اور خبردار کرنے کے ارادہ سے بگل(سیٹی) بجانا جائز ہے، جیسے حمام میں بگل اس لیے بجاتے ہیں کہ لوگوں کو اطلاع ہوجائے کہ حمام کھل گیا۔ رمضان شریف میں سحری کھانے کے وقت بعض شہروں میں نقارے بجتے ہیں ، جن سے یہ مقصود ہوتا ہے کہ لوگ سحری کھانے کے لیے بیدار ہوجائیں اور انھیں معلوم ہوجائے کہ ابھی سحری کا وقت باقی ہے یہ جائز ہے، کہ یہ صورت لہو ولعب میں داخل نہیں ۔ “ (بہار شریعت ،حصہ 16،صفحہ514،مکتبۃ المدینہ ،کراچی)
واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
کتبـــــہ
ممبر فقہ کورس
١٧ شعبان المعظم 1446ھ 16 فروری2025ء
نظرثانی:
مفتی محمد انس رضا قادری