انبیاء و دیگر لوگوں کا شفاعت کرنا
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید کا عقیدہ ہے قیامت کے دن صرف حضور صلی اللہ علیہ وسلم شفاعت فرمائیں گے دیگر انبیاء کرام کو شفاعت کرنے کی اجازت نہیں ہوگی اور بطور دلیل وہ حدیث پاک بیان کرتا ہے جس میں ہے کہ قیامت کے دن لوگ شفاعت کی بھیک لینے انبیاء کی بارگاہ میں حاضر ہوں تو تمام نبی یہی کہیں گے” اذھبوا الی غیری“ یعنی میرے علاوہ کسی دوسرے نبی کے پاس جاؤ اور پھر آخر میں عیسی علیہ السلام ،حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں بھیجیں گے تو جب لوگ حضور کی بارگاہ میں پہنچے گے تو آپ فرمائیں گے ”انا لھا“ یعنی میں ہی ہوں شفاعت کےلئے،زید اس حدیث سے یہ ثابت کرتا ہے کہ دیگر انبیاء کو شفاعت کا اختیار نہیں ہوگا،عندالشرع کیا یہ عقیدہ رکھنا درست ہے؟
بسم الله الرحمن الرحیم
الجواب بعون الوھاب اللھم ھدایةالحق والصواب
زید کا یہ عقیدہ رکھنا کہ انبیاء کرام کو قیامت کے دن شفاعت کرنے کا حق نہیں ملے گا، باطل اورکئی اُن احادیث کے خلاف ہے جن میں دیگر اللہ کے نیک بندوں کا شفاعت کرنا ثابت ہے اور جو حدیث زید بطور دلیل بیان کرتا ہے اس سے بھی یہ ثابت نہیں ہورہا کہ انبیاء کرام کو شفاعت کا حق نہیں ملے گا بلکہ اس حدیث پاک کی شرح دوسری احادیث سے ہوتی ہے کہ اس سے مراد یہ ہے کہ سب سے پہلے شفاعت کا دروازہ آقا صلی اللہ علیہ وسلم کھولیں گے پھر دیگر انبیاء کرام کو اللہ تعالیٰ کی بارگاہ سے شفاعت کا حق دلوائیں گے پھر اس کے بعد دیگر انبیاء ،اولیاء،حفاظ،علماء بلکہ ہر وہ شخص شفاعت کرے گا جو کسی منصب دینی پر قائم ہوگا ۔حضور علیہ السلام کے علاوہ دیگر انبیاء،اولیاء،علماء ومقربین کے شفاعت کرنے کے بارے میں یہ عقیدہ شفاعت رکھنا بھی واجب ہے،لہذازید پر توبہ و رجوع لازم ہے۔
ترمذی شریف اور مشکوۃ شریف میں ہے:
”عن ابی بن کعب رضی اللہ عنہ عن النبي ﷺ قال: “اذا كان يوم القيامة كنت امام النبيين وخطيبهم وصاحب شفاعتهم غير فخر“
ترجمہ:حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : میں قیامت کے دن سب انبیاء کا امام ہوں گا اور ان کی طرف سے اللہ تعالیٰ کے ساتھ گفتگو کرنے والا اور ان کو اللہ تعالیٰ سے شفاعت کا حق دلانے والا ہوں گا، یہ بات بطور فخر نہیں کہہ رہا۔ (ترمذی شریف،ابواب المناقب،جلد۵،صفحہ نمبر۵۸۶،التراث)
مسلم شریف میں ہے:
”عن انس ابن مالک قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم انا اول شفيع في الجنة لم يصدق نبي من الانبياء ما صدقت وان من الانبياء نبيا ما صدقه من امته الا رجل واحد “
ترجمہ: حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں جنت میں سب سے پہلا شفاعت کرنے والا ہوں، کسی نبی کی اتنی تصدیق نہیں کی گئی جتنی میری کی گئی، اور انبیاء میں نبی ایسے بھی تھے جن کی امت میں سے صرف ایک آدمی نے ان کی تصدیق کی۔(مسلم شریف،کتاب الایمان،جلد اول،صفحہ نمبر۱۸۸، التراث)
مشکوۃ شریف اور ابن ماجہ کی حدیث ہے:
”وعن عثمان بن عفان قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم يشفع يوم القيامة ثلاثة الانبياء ثم العلماء ثم الشهداء“
ترجمہ: حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن تین قسم کے لوگ شفاعت کریں گے: پہلے انبیاء، پھر علماء، پھر شہداء۔(مشکوۃ شریف،باب الحوض والشفاعۃ،جلد ۳،صفحہ نمبر۱۵۶۱،التراث)
المعجم الاوسط للطبرانی میں ہے:
”عن جابر قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم يفتقد اهل الجنة ناسا كانوا يعرفونهم في الدنيا فياتون الانبياء فيذكرونهم فيشفعون فيهم فيشفعون فيقال لهم الطلقاء وكلهم طلقاء يصب عليهم ماء الحياة“
ترجمہ: حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جنتی کچھ لوگوں کو یاد کریں گے جنہیں وہ دنیا میں جانتے تھے، تو وہ انبیاء کے پاس آئیں گے اور ان کا ذکر کریں گے، پس انبیاء ان کے لیے شفاعت کریں گے اور ان کی شفاعت قبول کی جائے گی، پھر ان سے کہا جائے گا: “یہ آزاد کیے گئے ہیں” اور سب کے سب آزاد کردیے جائیں گے، ان پر زندگی کا پانی بہایا جائے گا۔(المعجم الاوسط ،باب الالف،جلد۳،صفحہ نمبر۲۴۳،التراث)
ترمذی شریف میں ہے:
”عن علي بن ابي طالب قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم من قرا القران واستظهره فاحل حلاله وحرم حرامه ادخله الله به الجنة وشفعه في عشرة من اهل بيته كلهم قد وجبت له النار“
ترجمہ: حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص قرآن پڑھے اور اسے یاد کرے، پھر اس کے حلال کو حلال سمجھے اور اس کے حرام کو حرام جانے، اللہ اسے قرآن کے ذریعے جنت میں داخل کرے گا اور اس کے ذریعے اس کے خاندان کے دس افراد کی شفاعت قبول کرے گا، حالانکہ ان سب پر جہنم واجب ہو چکی ہوگی۔(ترمذی شریف،ابواب فضائل القرآن،جلد۵،صفحہ نمبر ۲۸،التراث)
المعتقد المنتقد میں ہے :
”ویجب الایمان بانہ یشفع غیرہ ایضا من الانبیاء و الملائکۃ و العلماء و الشھداء و الصٰلحین و کثیر من المومنین وغیرھم من القرآن و الصیام و الکعبۃ وغیرھا مما ورد فی السنۃ“
ترجمہ:اور اس بات پر ایمان بھی واجب ہے کہ حضور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے علاوہ دیگر انبیاء، فرشتے، علماء، شہداء، نیک لوگ اور کثیر مومنین اور ان کے علاوہ قرآن پاک، روزہ، کعبہ، وغیرہا وہ چیزیں کہ جن کی شفاعت کا احادیث میں ذکر ہوا ، وہ تمام بھی شفاعت کریں گی۔“(المعتقد المنتقد، صفحہ 129)
والله اعلم عزوجل ورسوله اعلم صلی الله علیه وآله وسلم
کتبہ ابو الامین محمد مبین اختر مدنی
22شعبان المعظم 1446ھ/21فروری 2025ء
نظرثانی:
مفتی محمد انس رضا قادری