استحاضہ کی تعریف و پہچان
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس بارے میں کہ استحاضہ کیا ہے اور اس کی پہچان کیسے ہو ؟
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
حیض و نفاس کی مدت و عادت سے زائدجو خون بیماری کی وجہ سے آئے اسے استحاضہ کہتے ہیں۔ استحاضہ میں نہ نماز مُعاف ہے نہ روزہ ،نہ ایسی عورت سے صحبت حرام۔
مشکوٰۃ شریف میں ہے:
”عن عائشة قالت: جاءت فاطمة بنت أبي حبيش إلى النبي صلى الله عليه وسلم فقالت يا رسول الله إني امرأة أستحاض فلا أطهر أفأدع الصلاة فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم : لا إنما ذلك عرق وليس بحيض فإذا أقبلت حيضتك فدعي الصلاة وإذا أدبرت فاغسلي عنك الدم ثم صلي“
ترجمہ: حضرتِ فاطمہ بنت حبیش رضی اللہ عنہا نے عرض کی یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھے حیض آتاہے توپاک ہی نہیں ہوتی کیانمازچھوڑدوں توحضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایایہ رگ کاخون ہے حیض نہیں تم ایامِ حیض میں نمازچھوڑدواسکے بعدغسل کرکے نمازپڑھو۔(مشکوۃ،کتاب الطہارۃ،باب المستحاضہ، ج1ص175،ح557،بیروت)
بہار شریعت میں ہے:
”دس دن کے اندر رطوبت میں ذرا بھی میلا پن ہے تووہ حیض ہے اور دس دن رات کے بعد بھی میلا پن باقی ہے تو عادت والی کے لیے جو دن عادت کے ہیں حیض ہے اور عادت سے بعد والے استحاضہ اور اگرکچھ عادت نہیں تو دس دن رات تک حیض باقی استحاضہ۔“(بہار شریعت،جلد1،صفحہ373،مکتبۃ المدینہ،کراچی)
سنن ابن ماجہ میں ہے:
”عن انس ، قال: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم وقت للنفساء اربعين يوما إلا ان ترى الطهر قبل ذلك“
ترجمہ: حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نفاس والی عورتوں کے لیے مدت نفاس کی چالیس دن مقرر فرمائی مگر یہ کہ وہ اس سے پہلے پاکی دیکھ لیں۔(سنن ابن ماجہ،ابواب التيمم ، باب النفساءكم تجلس، حدیث 649،موسوعۃالقرآن و الحدیث)
واللہ و رسولہ اعلم عزوجل و صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم
کتبہ
ممبر فقہ کورس
16-02-2025
نظرثانی:
مفتی محمد انس رضا قادری