وکیل کااپنے پاس سے تنخواہ دے دینا

سوال:اگرہمارے پاس کسی کے اجارے کی رقم دیرمیں آتی ہے اسے پہلے پیسے چاہیے ہوں تواپنے پاس سے اسے دے سکتےہیں پھرجب وہ رقم آئے توخود رکھ لیں؟

User ID: Abeha Khan

بسم اللہ الرحمن الرحیم

الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

جب اس شخص کورقم کی ضرورت ہے اورتنخواہ آنے میں دیرہے اوروہ آپ سے قرض کامطالبہ کرےتویہ طریقہ جائزہے کہ آپ اپنے پاس سے(ذاتی ملکیت سے نہ کہ چندے کی رقم سے)بطورقرض اسے رقم دے دیں اورجب اسکی تنخواہ آپ کے پاس آئے تورکھ لیں ایسی صورت میں مقروض کی اجازت بھی درکارنہیں۔

بہارشریعت میں ہے: ‌قرضدارقرض ادانہیں کرتااگرقرض خواہ کواسکی کوئی چیزاسی جنس کی جوقرض میں دی ہے مل جائے توبغیردیے لے سکتاہے بلکہ زبردستی چھین لے جب بھی قرض اداہوجائے گا۔(بہارشریعت،قرض کابیان،ج2،ح11،ص765،مکتبۃ المدینہ)

واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

کتبـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ

تیموراحمدصدیقی

10رجب المرجب 1445ھ/22جنوری 2024 ء

اپنا تبصرہ بھیجیں