صف مکمل کرنے کے لیےسنت پڑھنےوالے نماز ی کے آگے سے گزر کر جماعت میں شامل ہونا
سوال:مفتی صاحب، ظہر کے وقت مسجد میں کافی سارے نمازی سنت ادا کررہے ہوتے ہیں،جماعت کھڑی ہو جاتی ہے، بعض اوقات صف مکمل کرنے کے لیے کسی نمازی کے آگے سے گُرنا پڑتا ہے، کیا ایسا کر سکتے ہیں؟
(سائل:محمد طاہر)
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوہاب اللہم ہدایۃ الحق والصواب
بغیر سُترے کے نمازی کے آگے سے گُزرنا جائز نہیں ،حدیث مبارکہ میں اس پر سخت وعید آئی ہے، لہذا اس صورت میں نمازی کے سامنے سُترہ رکھ کر یا ستون کے پیچھے سے یا پھر دو، چار صف پیچھے آکر نمازی کے پیچھے سے گُزر کے جماعت میں شامل ہوں۔
اگر نمازی، نماز ہی ایسی جگہ پڑھے جہاں گُزرنے والوں کو حرج ہو مثلا مسجد کے دروازے میں ہی نماز شروع کر دی اور سُترے کا بھی بندوبست نہیں، تو اب اُسکے آگے سے گزر کر جماعت میں شامل ہو سکتے ہیں، اس صورت میں گُزرنے والا گنہگار نہیں۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :لو يعلم المار بين يدي المصلي ماذا عليه، لكان أن يقف أربعين خيرا له من أن يمر بين يديه قال أبو النضر: لا أدري، أقال أربعين يوما، أو شهرا، أو سنۃ. یعنی اگر نمازی کے آگے سے گزرنے والا یہ جانتا کہ اس پر کیا سزا ہے تو وہ نمازی کے آگے سے گزرنے کے بجائے چالیس تک کھڑے رہنے کو بہتر جانتا، ابونضر فرماتے ہیں کہ مجھے نہیں معلوم کہ آپ علیہ السلام نے چالیس دن، مہینے یا سال کیا کہا۔ [البخاري، صحيح البخاري،كتاب الصلاة ،حدیث نمبر 510، ١٠٨/١]
رد المحتار میں ہے : لو صلى عند باب المسجد وقت إقامة الجماعة لأن للمار أن يمر على رقبته كما يأتي….وعليه فلو صلى في نفس طريق العامة لم تكن صلاته محترمة كمن صلى خلف فرجة الصف فلا يمنعون من المرور لتعديه فليتأمل.
[الدر المختار وحاشية ابن عابدين،کتاب الصلاۃ ،باب ما یفسد الصلاۃ وما یکرہ،1/635]
واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کـتبـــــــــــــــــــــــہ
ابوالحسن محمد حق نوازمدنی
08 شعبان المعظم 1445ء 19 فروری 2023ھ