سیکس مووی یا فحاشی جیسی چیز دیکھنے سے روزہ پر اثر

کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ کیا سیکس مووی یا فحاشی جیسی چیز دیکھنے سے روزہ پر کوئی اثر پڑے گا کہ نہیں؟

بسم اللہ الرحمن الرحیم

الجواب بعون الملک الوہاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب.

فحش تصاویر اور ویڈیوز دیکھنا ناجائز و حرام ہے, روزہ میں دیکھنا اور زیادہ حرام. البتہ اس سے روزہ نہیں ٹوٹتا اگر چہ دیکھنے کی وجہ سے غسل واجب ہو جائے جب کہ خود اپنے عمل سے یا چھونے سے  واجب نہ ہوا ہو. مشت زنی یا چھونے سے غسل واجب کیا ہو تو روزہ ٹوٹ جاتا ہے  اور صرف قضا لازم ہوتی ہے کفارہ نہیں. لیکن یاد رہے اس سے روزہ کی نورانیت ختم ہو جاتی ہے اللہ تعالیٰ نے ہم پر رمضان المبارک کے روزے صرف بھوکا، پیاسا رہنے کیلئے فرض نہیں فرمائے بلکہ اس لئے فرض فرمائے ہیں تاکہ ہمیں تقویٰ و پرہیزگاری ملے۔

جیسا کہ اِرشادِ باری تعالیٰ ہے:) یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا كُتِبَ عَلَیْكُمُ الصِّیَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَۙ(۱۸۳)

 ( ترجمۂ کنز الایمان:”اے ایمان والو! تم پر روزے فرض کئے گئے جیسے اگلوں پر فرض ہوئے تھے کہ کہیں تمہیں پرہیزگاری ملے۔“ (پ 2، البقرۃ:183)

یہ کیسا روزہ دار ہے جو سیکس مووی یا فحاشی چیزیں دیکھ کر اور گناہوں کی حالت میں اپنا وقت پاس کرتے ہوئے خود ہی اپنی آخرت برباد کرے؟

رسولُ اللہ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: مَنْ لَّمْ يَدَعْ قَوْلَ الزُّوْرِ وَالْعَمَلَ بِهٖ فَلَيْسَ لِلهِ حَاجَةٌ فِيْ اَنْ يَّدَعَ طَعَامَهُ وَشَرَابَهُ

 ترجمہ: جو جھوٹی (بُری) بات کہنا اور اُس پر عمل کرنا نہ چھوڑے، تو اللہ کو اس کے بھوکا پیاسا رہنے کی کوئی حاجت نہیں۔(بخاری،ج1ص628، حدیث: 1903)

روزه ایک ایسی بدنی عبادت ہے جس کی برکت سے انسان اپنے آپ کو ظاہری گناہوں کے ساتھ ساتھ باطنی گناہوں سے بھی بچا سکتا ہے۔ اگر کوئی شخص بظاہر کھانا، پینا تو چھوڑ دے لیکن گناہوں کے کاموں سے اپنے آپ کو نہ بچائے تو وہ روزے کا مقصد حاصل نہیں کرسکتا، اسی لئے فرمایا گیا کہ اس کے بھوکے پیاسے رہنے کی اللہ پاک کو کوئی حاجت نہیں کہ اس نے حلال چیزوں کو تو ترک کردیا لیکن جو کام (جھوٹ، غیبت، چغلی، نماز قضا کرنا، فلمیں ڈرامے دیکھنا، بدنگاہی کرنا، لوگوں کو دھوکا دینا وغیرہ) حرام تھے ان سے اپنے آپ کو نہ بچایا تو اس کے روزے کا کیا فائدہ؟

شارح بخاری علامہ بدرالدین محمود عینی علیہ رحمۃ اللہ الغنِی اس حدیث کے تحت فرماتے ہیں:جو بندہ روزے کی حالت میں بھی جھوٹی بات کہنا اور اس پر عمل کرنا نہ چھوڑے جو کہ اکبر الکبائر (بڑے کبیرہ گناہوں) میں سے ہے، اسے سوچنا چاہئے کہ وہ اپنے روزے کے ساتھ کیا کررہا ہے؟ (عمدۃ القاری ،ج 8ص34 ،  تحت الحدیث :1903ملخصاً)

حضرت علامہ ابنِ بطال رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ فرماتے ہیں:اس حدیث کا مطلب یہ نہیں ہے کہ جو شخص اپنے آپ کو گناہوں سے نہ بچا سکے وہ روزہ ہی نہ رکھے بلکہ مقصد یہ ہے اپنے آپ کو گناہوں سے بچائے۔ (شرح بخاری لابن بطال،ج4ص23، تحت الحدیث:1903)

 حضرت علامہ ابنِ رجب حنبلی علیہ رحمۃ اللہ القَوی فرماتے ہیں:اس میں راز یہ ہےکہ مباح چیزوں یعنی کھانے پینے اور  صحبت سے پرہیز کرنے سے بارگاہِ الٰہی میں مقامِ قرب اسی وقت ہی مل پاتا ہے جب کہ حرام کردہ چیزوں سے بھی بچا جائے لہٰذا جو بھی حرام کام کرے اور مباح چیزوں کو چھوڑ کر اللہ پاک کا قرب پانے کی کوشش کرے وہ ایسا ہی ہے جو فرض کو چھوڑ کر نوافل کے ذریعے اللہ کا قرب پانے کی کوشش کرے۔ (لطائف المعارف، ص179 )

حکیم الامت مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃ  الرَّحمٰن فرماتے ہیں: یہاں جھوٹی بات سے مراد ہر ناجائز گفتگو ہے، جھوٹ، بہتان، غیبت، چغلی، تہمت، گالی، لعن طعن وغیرہ جن سے بچنا فرض ہے اور بُرے کام سے مُراد ہر ناجائز کام ہے آنکھ کان کا ہو، یا ہاتھ پاؤں وغیرہ کا، چونکہ زبان کے گناہ دیگر اعضاء کے گناہوں سے زیادہ ہیں، اس لئے ان کا علیحدہ ذکر فرمایا، یہ حدیث بہت جامع ہے۔ دو جملہ میں ساری چیزیں بیان فرمادیں اگرچہ بُرے کام ہر حالت میں اور ہمیشہ ہی بُرے ہیں مگر روزے کی حالت میں زیادہ بُرے کہ ان کے کرنے میں روزے کی بے حرمتی اور    ماہِ رمضان کی بے ادبی ہے، اس لئے خصوصیت سے روزے کا ذکر فرمایا، ہر جگہ ایک گناہ کا عذاب ایک، مگر مکہ مکرمہ میں ایک گناہ کا عذاب ایک لاکھ ہے، کیوں؟ اس زمین پاک کی بے ادبی کی وجہ سے۔

 مزید فرماتے ہیں:یہاں’’ حاجت‘‘ بمعنی ’’ضرورت‘‘ نہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ ضرورتوں سے پاک ہے بلکہ بمعنی توجہ، التفات پرواہ یعنی اللہ تعالیٰ ایسے شخص کا روزہ قبول نہیں فرماتا قبول نہ ہونے سے روزہ گویا فاقہ بن جاتا ہے۔اس میں اشارۃً فرمایا گیا کہ یہ روزہ شرعًا تو درست ہوجائے گا کہ فرض ادا ہوجائے گا مگر قبول نہ ہوگا شرائطِ جواز تو صرف نیت ہے اور کھانا پینا،صحبت چھوڑدینا، مگر شرائط قبول میں باتیں چھوڑنا ہے جو روزہ  کا  اصل مقصود  ہے۔ روزے کا منشاء نفس کا زور توڑنا ہے جس کا انجام گناہ چھوڑنا ہے، جب روزے میں گناہ نہ چھوٹے تو معلوم ہوا نفس نہ مرا۔ق صوفیائے کرام فرماتے ہیں کہ روزہ ہر عضو کا ہونا چاہئے، صرف حلال چیزوں یعنی کھانے پینے کو نہ چھوڑو بلکہ حرام چیزوں یعنی جھوٹ و غیبت کو بھی چھوڑو۔مرقات نے فرمایا کہ ایسے بے باک روزے دارکو اصل روزہ کا ثواب ملے گا اور ان چیزوں کا گناہ۔ (مراٰۃ المناجیح،ج3ص159،158)

علامہ علاء الدین سمرقندی فرماتے ہیں : “لوﻧﻈﺮ ﺇﻟﻰ ﻓﺮﺝ اﻣﺮﺃﺓ ﺷﻬﻮﺓ ﻓﺄﻣﻨﻰ ﺃﻭ ﺗﻔﻜﺮ ﻓﺄﻣﻨﻰ ﻻ ﻳﻔﺴﺪ ﺻﻮﻣﻪ”

ترجمہ: اگر شہوت سے کسی عورت کی شرمگاہ کی طرف دیکھنے یا محض خیال جمانے سے انزال ہوجائے تو اس سے روزہ نہیں ٹوٹتا.(تحفۃ الفقہاء ج1ص353,دار الکتب العلمیہ)

علامہ نظام الدین بلخی فرماتے ہیں : ﻭﺇﺫا ﻧﻈﺮ ﺇﻟﻰ اﻣﺮﺃﺓ ﺑﺸﻬﻮﺓ ﻓﻲ ﻭﺟﻬﻬﺎ ﺃﻭ ﻓﺮﺟﻬﺎ ﻛﺮﺭ اﻟﻨﻈﺮ ﺃﻭﻻ ﻻ ﻳﻔﻄﺮ ﺇﺫا ﺃﻧﺰﻝ ﻛﺬا ﻓﻲ ﻓﺘﺢ اﻟﻘﺪﻳﺮ، ﻭﻛﺬا ﻻ ﻳﻔﻄﺮ ﺑﺎﻟﻔﻜﺮ ﺇﺫا ﺃﻣﻨﻰ”

ترجمہ:جب کسی عورت کی شرمگاہ یا چہرہ کی جانب شہوت سے دیکھا اور انزال ہوگیا تو اس سے روزہ نہیں ٹوٹتا. ایسا ہی فتح القدیر میں ہے. اور اسی طر ح روزہ فاسد نہیں ہوتا جب خیال جمائے رکھنے سے انزال ہوجائے. (فتاوی عالمگیری, ج1ص204,دار الفکر)

صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں :”بوسہ لیا مگر انزال نہ ہوا تو روزہ نہیں  ٹوٹا۔ یوہیں  عورت کی طرف بلکہ اس کی شرم گاہ کی طرف نظر کی مگر ہاتھ نہ لگایا اور انزال ہوگیا، اگرچہ بار بار نظر کرنے یا جماع وغیرہ کے خیال کرنے سے انزال ہوا، اگرچہ دیر تک خیال جمانے سے ایسا ہوا ہو ان سب صورتوں  میں  روزہ نہیں  ٹوٹا۔ ” (بہار شریعت حصہ پنجم ص 988, مکتبہ المدینہ کراچی)

مزید فرماتے ہیں :”مردہ یا جانور سے وطی کی یا ران یا پیٹ پر جماع کیا یا بوسہ لیا یا عورت کے ہونٹ چُوسے یا عورت کا بدن چُھوا اگرچہ کوئی کپڑا حائل ہو، مگر پھر بھی بدن کی گرمی محسوس ہوتی ہو۔

             اور ان سب صورتوں  میں  انزال بھی ہوگیا یا ہاتھ سے منی نکالی یا مباشرت فاحشہ سے انزال ہوگیا………ان سب صورتوں  میں  صرف قضا لازم ہے، کفارہ نہیں .” بہار شریعت حصہ پنجم ص995,مکتبہ المدینہ کراچی)

واللہ اعلم عز و جل ورسولہ اعلم صلی اللہ علیہ والہ و سلم.

کتبہ: سگ عطار محمد عمر رضا عطاری بن محمد رمضان قادری مدنی

مؤرخہ: 8 رمضان المبارک 1443 بمطابق 10 اپریل 2022ء

اپنا تبصرہ بھیجیں