مزار کی زیارات کرنا

ہمارے بنگلہ دیش میں جو لوگ بت پرستی کرتے ہیں ان کو پوزاری یعنی پوجاری کہتے ہیں ، مسلمان  لوگ مزار کی زیارات کرتے ہیں تو بدمذہب لوگ ان کو مزار پوزاری کہتے ہیں.

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ

زیارتِ قبور سنت ہے، خصوصاً اولیاء کرام کے مزارات کی زیارت مسلمانوں کے لئے باعثِ سعادت وبرکت ہے.

لہذا ایک جائز و مستحسن عمل پر کسی مسلمان کو پوزاری (یعنی پوجاری ) کہنا ہر گز جائز نہیں بلکہ بطور گالی کہنے پر حرام اور بمعنی بت پرست کہنا کفر ہے.

نیز محض مزارات اولیاء پر جانے کو شرک، کفر و بت پرستی سمجھنا کہنا شریعت اسلامیہ پر افتراء ہے کیونکہ مسلمان مزارات اولیاء کی زیارت و احترام کرتے ہیں، پوجتے ہر گز نہیں، زیارت و احترام اور پوجنے میں بڑا فرق ہے، جو ہر ذی شعور پر بالکل واضح ہے.

نبی پاک علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ارشاد فرمایا: “ألا فزوروہا فإنّہا تزہّدکم في الدنیا وتذکّرکم الآخرۃ” ترجمہ: سن لو! قبور کی زیارت کرو کہ وہ تمہیں  دنیا میں  بے رغبت کرے گی اور آخرت یاددلائے گی۔ (سنن ابن ماجہ ، الحدیث 1571 ، المستدرک ، الحدیث   1525۔1528)

ردالمحتار زیارت قبور کے باب میں علامہ شامی علیہ الرحمتہ اولیاء کرام کے مزارات پر جانے کے حوالے سے فرماتے ہیں: “وأما الأولياء فإنهم متفاوتون في القرب من الله تعالى، ونفع الزائرين بحسب معارفهم وأسرارهم. قال ابن حجر في فتاويه ولا تترك لما يحصل عندها من منكرات ومفاسد كاختلاط الرجال بالنساء وغير ذلك لأن القربات لا تترك لمثل ذلك” ترجمہ : بہرحال اللہ تعالیٰ کے ہاں اولیاء کے درجات مختلف ہیں اور وہ اپنے معارف و اسرار کے اعتبار سے زیارت کرنے والوں کو نفع بھی دیتے ہیں، ابن حجر نے اپنے فتاوی میں فرمایا:وہاں منکرات شرعیہ و مفاسد کی وجہ سے زیارت قبور کی حاضری کو ترک نہیں کیا جائے گا جیسے مردوں عورتوں کا اختلاط وغیرہ ایسی باتوں سے نیک کام ترک نہیں کیا جاتا. ( ,الدر المختار وحاشية ابن عابدين  ,2/242)

لواقح الانوار فی طبقات الاخیار میں ہے حضرت سیدی محمد شمس الدین حنفی رضی اللہ تعالی عنہ اپنے مرضِ موت میں فرماتے تھے “من کانت حاجۃ فلیأت الی قبری و یطلب حاجتہ اقضھا لہ فانّ مابینی وبینکم غیر ذراعٍ من تراب وکل رجل یحجبہ عن اصحٰبہ ذراع من تراب فلیس برجل” ترجمہ: جسے کوئی حاجت ہو وہ میری قبر پر حاضر ہو کر حاجت مانگے میں رَوا فرمادوں گا کہ مجھ میں تم میں یہی ہاتھ بھر مٹی ہی تو حائل ہے اور جس مرد کو اتنی مٹی اپنے اصحاب سے حجاب میں کردے ، وہ مرد کاہے کا۔ (لوا قح الانوار فی طبقات الاخیار، ترجمہ سیدنا ومولٰنا شمس الدین الحنفی، جلد2،صفحہ96، مصر)

فتاوی رضویہ شریف میں ہے  ’’زیارتِ قبور سنت ہے ، رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں : “ألا فزوروہا فإنّہا تزہّدکم في الدنیا وتذکّرکم الآخرۃ ” سن لو! قبور کی زیارت کرو کہ وہ تمہیں دنیا میں  بے رغبت کرے گی اور آخرت یاددلائے گی۔ خصوصاً زیارتِ مزاراتِ اولیائے کرام کہ ُموجبِ ہزاراں ہزار برکت وسعادت ہے، اسے بدعت نہ کہے گا مگر وہابی نابکار ،ابنِ تیمیہ کا فضلہ خوار، وہاں  جاہلوں نے جوبدعات مثل رقص ومزامیر ایجاد کرلئے ہیں وہ ضرور ناجائز ہیں، مگر ان سے زیارت کہ سنت ہے بدعت نہ ہوجائے گی جیسے نماز میں قرآن شریف غلط پڑھنا، رکوع وسجود صحیح نہ کرنا، طہارت ٹھیک نہ ہونا عام عوام میں جاری وساری ہے اس سے نماز بُری نہ ہو جائیگی‘‘  (فتاویٰ رضویہ، ج29، ص282 رضا فاؤنڈیشن لاہور)

بہارشریعت میں ہے “اِن (اولیاء) کے مزارات پر حاضری مسلمان کے لیے سعادت وباعثِ برکت ہے۔ (بہار شریعت، ج1،حصہ 1، ص 277 ،مکتبۃ المدینہ ،کراچی)

کسی مسلمان کو کافر کہنے کے متعلق صحیح بخاری شریف میں ہے “عن أبي هريرة رضي الله عنه:أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال:إذا قال الرجل لأخيه يا كافر، فقد باء به أحدهما” ترجمہ: حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کوئ شخص کسی اپنے بھائی کو کہتا ہے اے کافر تو کفر ان دونوں میں سے کسی ایک پر لوٹتا ہے. (صحيح بخاری، حدیث نمبر، 6103)

در مختار میں ہے “وعزر الشاتم بيا كافر وهل يكفر إن اعتقد المسلم كافرا؟ نعم وإلا لا به يفتى” ترجمہ : کسی مسلم کو کافر کہہ کر بلانے والے کو سزا دی جائے گی اور کیا وہ خود کافر ہو گا اگر مسلم کو کافر اعتقاد کرے؟ جی ہاں (کافر ہو جائے گا) ورنہ نہیں (یعنی اس کے کافر ہونے کا اعتقاد نہ کیا تو کافر نہ ہوگا) اسی پر فتوی ہے. (الدر المختار وحاشية ابن عابدين، کتاب الحدود، باب التعزیر، ج4 ، ص 69)

بہار شریعت میں ہے  “کسی مسلمان کو کافرکہا تو تعزیر ہے رہا یہ کہ وہ قائل خود کافر ہو گا یا نہیں اس میں    دو صورتیں ہیں اگر اوسے مسلمان جانتا ہے تو کافر نہ ہوا۔ اور اگر اوسے کافر اعتقاد کرتا ہے تو خود کافر ہے کہ مسلمان کو کافر جاننا دین اسلام کو کفر جاننا ہے اور دین اسلام کو کفر جاننا کفر ہے۔” (بہارشریعت ،ج2 ،حصہ9،ص411، مکتبۃ المدینہ)

صحیح العقیدہ سنی کو پجاری کہنے کے متعلق شارح بخاری مفتی شریف الحق امجدی علیہ الرحمتہ فرماتے ہیں : ” آپ کے سوال کے مطابق انیس سنی صحیح العقیدہ ہے ،اسے بچاری کہہ کر عبدالنعیم کم از کم سخت گنہگار ہوا اگر بچاری کہنا بطور گالی ہے تو حرام اور اگر پچاری بمعنی بت پرست کہا تو عبد النعیم کافر ہو گیا” (فتاوی شارح بخاری ،جلد 2، ص 596،دائرۃ البرکات)

مزار پر جانے کو شرک کہنے والے شخص کے متعلق شارح بخاری مفتی شریف الحق امجدی علیہ الرحمتہ فرماتے ہیں: “یہ شخص دہریہ ملحد ہونے کے ساتھ ساتھ وہابیت زدہ ہے اور جاہل مطلق، خود حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم جنت البقیع میں صحابہ کرام کے مزارات پر تشریف لے جایا کرتے تھے، شہدائے احد کے مزارات پر تشریف لیجاتے تھے اس خدا ناترس نے مزارات کی حاضری کو شرک کہہ کر حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کو مشرک کہا” (فتاوی شارح بخاری ،جلد 2، ص 453-454،دائرۃ البرکات)

فرمان باری تعالیٰ  “قُلْ یٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ لَا تَغْلُوْا فِیْ دِیْنِكُمْ غَیْرَ الْحَقِّ” ترجمہ: تم فرماؤ اے کتاب والو اپنے دین میں ناحق غلو (زیادتی) نہ کرو.

(المائدۃ، آیت نمبر 77)

کے تحت صراط الجنان میں ہے “اولیاء کرام کی تعظیم کرنا اور فیوض و برکات حاصل کرنے کے لئے ان کے مزارات پر حاضری دینا جائز اور پسندیدہ عمل ہے کیونکہ اولیاءِ کرام اللہ تعالیٰ کے مقبول بندے ہیں اور ان کے مزارات رحمتِ الٰہی اترنے کے مقامات ہیں لیکن فی زمانہ اولیاءِ کرام اور ان کے مزارات کے حوالے سے انتہائی غلو سے کام لیاجاتا ہے کہ بعض حضرات ان کی جائز تعظیم کو ناجائز و حرام کہتے اور ان کے مزارات پر حاضری کو شرک و بت پرستی سے تعبیر کرتے ہیں اور بعض نادان ان کی تعظیم کرنے میں شرعی حد پار کر جاتے اوران کے مزارات پر ایسے امور سر انجام دیتے ہیں جو شرعاً ناجائز و حرام ہیں جیسے تعظیم کے طور پر مزار کا طواف کرنا اور صاحبِ مزار کو سجدہ تعظیمی کرنا، مزارات پر مزامیر کے ساتھ قوالیاں پڑھنا، عورتوں کا مزارات پر مخلوط حاضر ہونا اور عرس وغیرہ کے موقع پر لہوو لعب کا اہتمام کرنا وغیرہ۔ تعظیمِ اولیاء کو ناجائز و حرام کہنے والوں اور مزارات پر حاضری کو شرک و بت پرستی سمجھنے والوں کو چاہئے کہ وہ ا س آیت کو سامنے رکھتے ہوئے اپنی حالت پر غور کریں اور شرعاً جائز عمل کو اپنی طرف سے ناجائز و حرام کہہ کر دین میں زیادتی نہ کریں بلکہ حق کی پیروی کریں اور مزارات پر ناجائز و حرام کام کرنے والوں کو چاہئے وہ بھی اپنے ان افعال سے باز آ جائیں تاکہ دشمنانِ اولیاء ان کی نادانیوں کی وجہ سے لوگوں کو اللہ  تعالیٰ کے مقبول بندوں سے دور کرنے کی سعی نہ کر سکیں۔ (صراط الجنان، تحت المائدۃ، آیت نمبر 77)

ایک شبہہ کا ازالہ:

 جس طرح بت پرست مندروں میں جاتے ہیں، مٹی و پتھر کے بنے بتوں کی تعظیم پوجا پاٹ وغیرہ کرتے ہیں یونہی مسلمان بھی تو پتھر مٹی کی بنی قبروں و مزارات پر جاتے ہیں لہذا یہ بھی مثلِ بت پرستی مزار پرستی ہی ہے ؟؟

ایسا سمجھنا نری جہالت و حماقت ہے کیونکہ مسلمان نہ مزار کی عبادت کرتے ہیں اور نہ ہی صاحب مزار کو معبود سمجھتے جبکہ بت پرست بتوں کی عبادت کرتے ہیں اور انہیں معبود سمجھتے ہیں

مفتی شریف الحق امجدی علیہ الرحمتہ سے غیر مسلموں کی طرف سے اس طرح کا اعتراض ہوا کہ ہم اگر پتھروں سے بنے بتوں کی تعظیم کرتے ہیں تو تم مسلمان بھی تو حجر اسود کی تعظیم کرتے ہو تو آپ نے فرمایا ” بے تکی بات جب تک چاہو بولتے رہو، ورنہ دونوں میں فرق ظاہر ہے، مسلمان حجر اسود کی پوجا نہیں کرتے صرف بوسہ دیتے ہیں بوسہ و پوجا میں زمین و آسمان کا فرق ہے، مشرکین مورتیوں کی پوجا کرتے ہیں ان کی دنڈوت کرتے ہیں اسکو سجدہ کرتے ہیں، ان سے اپنی حاجتیں طلب کرتے ہیں، مورتیوں کو مستقل حاجت روا جانتے ہیں اور مسلمان صرف حجر اسود کا بوسہ دیتے ہیں دونوں میں بین فرق ہے، مسلمان اسے معبود نہیں جانتا اور مشرکین بتوں کو معبود اعتقاد کرتے ہیں ” (فتاوی شارح بخاری ،جلد 2 ،صف 462-463، دائرۃ البرکات)

(والله تعالى اعلم بالصواب)

کتبہ : ابو الحسن حافظ محمد حق نواز مدنی

( مورخہ9مارچ 2022 بمطابق5شعبان المعظم1443ھ بروز بدھ)

اپنا تبصرہ بھیجیں