کیا چور یا ڈاکو کو قتل کرنا جائز ہے

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس بارے میں کہ کیا چور یا ڈاکو کو قتل کرنا جائز ہے؟

بسم الله الرحمن الرحيم

الجواب بعون الملک الوهاب اللهم هداية الحق والصواب

قتلِ ناحق حرام،گناہ کبیرہ اور جہنم میں لے جانے والا کام ہے اور جب تک حاجت شدیدہ نہ ہو اس وقت تک قتل کی اجازت نہیں، لہذا اگر چور یا ڈاکو کا شور اور چیخ و پکار کی وجہ سے سامان چھوڑ کر بھاگنا ممکن ہو تو اس کو قتل کرنا ناجائز ہے اگر کسی نے قتل کیا تو گناہ گار ہوگا اور قصاص بھی لازم ہوگا جبکہ اس کی شرائط پائی جائیں، اور اگر چیخ و پکار سے اس کو بھگانا ممکن نہ ہو یا اپنی جان جانے کا صحیح خطرہ ہو تو چور یا ڈاکو کو قتل کرنا جائز ہے۔قتل کا حکم عین واردات کے وقت کا ہے اگر بعد میں وہ کہیں مل گیا تو اس کو قتل کرنا جائز نہیں۔

مسلم شریف کی حدیث پاک ہے:”جاء رجل الى رسول اللہ صلی اللہ عليه و سلم فقال يا رسول اللہ أرأيت إن جاء رجل يريد أخذ مالي؟ قال فلا تعطه مالك قال أرأيْت إن قاتلني؟ قال قاتله قال أرأيت إن قتلني؟ قال فأنت شهيد قال أرايت إن قتلته؟قال هو في النار”ترجمہ:ایک شخص حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوا پھر عرض کی یارسول ﷲ اگر کوئی شخص آئے اور میرا مال لینا چاہے تو؟ ارشاد فرمایا اسے اپنا مال نہ دے، اس نے عرض کی اگر وہ مجھ سے لڑنا شروع کردے فرمایا تو اس سے اپنے دفاع میں لڑ عرض کیا اگر وہ مجھے قتل کردے فرمایا تو شہید ہے عرض کیا اگر میں اسے قتل کردوں فرمایا وہ دوزخ میں ہوگا۔”(مسلم،کتاب الایمان،باب الدلیل علی ان من اخذ المال۔۔۔الخ،جلد 1،صفحہ 87)

امام نووی رحمۃ اللہ علیہ اس کی شرح میں فرماتے ہیں:”ففیہ جواز القتل القاصد لاخذ المال بغیر حق سواء کان المال قلیلا او کثیرا لعموم الحدیث و ھذا قول الجماہیر من العلماء”ترجمہ:اس روایت میں کسی کا مال ناحق لینے کا ارادہ کرنے والے قتل کے جواز کی دلیل ہے برابر ہے کہ مال قریب ہو یا کثیر۔(شرح صحیح مسلم للنووی،جلد 2،صفحہ 165،المصریہ بالازھر)

 علامہ علی قاری لکھتے ہیں:”و معنی ھو فی النار انہ لا شیء علیک و فیہ ان دفع القاتل و ھلکہ فی الدفع مباح”ترجمہ:ھو فی النار کا معنی یہ ہے کہ تم پر کوئی الزام نہیں اور اس میں دلیل ہے اس بات پر کہ قاتل سے اپنا دفع کرنا اور دفع کرنے میں اس کا ہلاک ہوجانا مباح ہے۔(مرقاۃ شرح مشکوۃ،جلد 7،صفحہ 70،دار الکتب العلمیہ)

مرآۃ المناجیح میں ہے: “نہ تو گنہگار ہے نہ تجھ پر قصاص یا دیت ہے۔”(مرآۃ المناجیح،کتاب القصاص،باب ما لا یضمن من الجنایات،صفحہ 289،نعیمی کتب خانہ)

ھدایہ میں ہے:”ومن دخل علیہ غیرہ لیلا و اخرج السرقۃ فاتبعہ و قتلہ فلا شئ علیہ۔۔۔۔۔و تاویل المسالۃ اذا کان لا یتمکن من الاسترداد الا بالقتل”ترجمہ: اور جس کے گھر میں کوئی چور رات میں داخل ہوا اور مال چرا کر جانے لگا تو صاحب خانہ نے اس کا پیچھا کیا اور اس کو قتل کردیا تو قاتل پر کچھ لازم نہیں۔۔۔اس مسئلہ کی تاویل یہ ہے کہ کہ جب کہ قتل کے علاوہ کسی اور ذریعے سے روکا نہ جا سکتا ہو۔(ھدایہ،کتاب الجنایات،باب ما یوجب القصاص وما لا یوجبہ،جلد 4،صفحہ 563)

علامہ بدر الدین عینی اس کے تحت لکھتے ہیں:”فحينئذ يباح له القتل، وأما إذا علم أنه لو صاح به يترك ما أخذه ويذهب فلم يفعل هكذا، ولكن إن قتله كان عليه القصاص لأنه قتله بغير حق”ترجمہ:تو اس وقت اسے قتل کرنا مباح ہوگا اور بہر حال اگر معلوم ہو کہ وہ چیخے گا تو چور سامان چھوڑ کر بھاگ جائے گا تو پھر اس کو قتل نہیں کر سکتا اور اگر قتل کردیا تو قاتل پر قصاص ہوگا اس لئے کہ اس نے قتل ناحق کیا ہے۔(البناية شرح الهداية،جلد 13،کتاب الجنایات،صفحہ 108،دار الکتب العلمیہ)

بہار شریعت میں ہے:”گھر میں  چور گھسا اور مال چرا کر لے جانے لگا صاحب خانہ نے پیچھا کیا اور چور کو مار ڈالا تو قاتل کے ذمہ کچھ نہیں  مگر یہ اس وقت ہے کہ معلوم ہے کہ شور کرے گا اور چلائے گا تو مال چھوڑ کر نہیں  بھاگے گا اور اگر معلوم ہے کہ شور کرے گا تو مال چھوڑ کر بھاگ جائے گا تو قتل کرنے کی اجازت نہیں  بلکہ اس وقت قتل کرنے سے قصاص واجب ہوگا۔(بہار شریعت،جلد 3،حصہ 18،صفحہ 787،مکتبہ المدینہ)

اسی میں ہے:”جو شخص تلوار مار کر بھاگ گیا کہ اب دوبارہ مارنے کا ارادہ نہیں رکھتا پھر اسے کسی نے مار ڈالا تو قاتل سے قصاص لیا جائے گا۔ یعنی اسی وقت اس کو قتل کرنا جائز ہے جب وہ حملہ کر رہا ہو یا حملہ کرنا چاہتا ہے بعد میں  جائز نہیں۔(بہار شریعت،جلد 3،حصہ 18،صفحہ 787،مکتبہ المدینہ)

واللہ اعلم عزوجل و رسولہ اعلم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

کتبہ : ابو بنتین محمد فراز عطاری مدنی بن محمد اسماعیل

نظرِ ثانی: ابو احمد مفتی انس رضا قادری دامت برکاتہم العالیہ

اپنا تبصرہ بھیجیں