نوکری حاصل کرنے کے لئے اپنے آپ کو غیر مسلم بتانا

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس بارے میں کہ میرے دوست کو ایک غیر مسلم ملک میں استاد کی نوکری کے لئے منتخب کیا گیا ہے وہاں اسے ایک حلف نامہ پر دستخط کرنا ہوگا جو بدھ مت تعلیمات پر مشتمل ہے،حلف نامہ میں مندرجہ ذیل باتیں درج ہیں: “میں نے بدھ مت کی بنیادی روحانی تعلیم حاصل کی ہے اور اسی پر عمل پیرا ہوں۔میں حلف لیتا ہوں کہ میں سچا پکا بدھ مت بنوں گا،ساتھ ہی میں وعدہ کرتا ہوں کہ بطور استاد اپنے منصب کی تعظیم کروں گا اور طلبا کی رہنمائی اور اسکول کی ترقی کے لئے ہر ممکن کوشش کروں گا”۔

ہم نے عہدیداران سے بات کی ہے اور اپنے مسلمان ہونے کے بارے میں بتایا ہے مگر وہ کہتے ہیں کہ یہ ایک لازمی مگر رسمی کاغذات ہیں،آپ کو بدھ مت تعلیمات پر عمل نہیں کرنا پڑے گا۔انھوں نے یہ بھی کہا کہ یہاں کی یونیورسٹیوں میں عیسائی یا بدھ مت تعلیمات پر مشتمل حلف پر دستخط کرنا ہر ایک پر لازم ہے،کیا اس طرح کے حلف نامہ پر دستخط کرنا جائز ہے؟ کیا کسی غیر مسلم سے اس پر دستخط کروا کر نوکری حاصل کرنا جائز ہے؟اگر نہیں تو کیا کسی غیر مسلم سے اس پر دستخط کروا سکتے ہیں؟

بسم الله الرحمن الرحيم

الجواب بعون الملک الوهاب اللهم هداية الحق والصواب

نوکری حاصل کرنے یا کسی بھی دوسرے مقصد کے لئے اس طرح کے حلف نامہ پر دستخط کرنا قطعا جائز نہیں کیونکہ اس میں اپنے غیر مسلم ہونے کا اقرار پایا جا رہا ہے نیز کفر پر رضا پائی جا رہی ہے اور مسلمان کا اپنے آپ کو غیر مسلم بتانا یا کفر پر راضی ہونا اگرچہ رسما ہو یا مذاقا ہو کفر ہے۔لہذا اس طرح کے حلف نامہ پر دستخط کرنے والا کافر ہوجائے گا اگر شادی شدہ ہے تو نکاح ٹوٹ جائے گا اور کسی کا مرید ہے تو بیعت بھی ٹوٹ جائے گی۔اسی طرح کسی اور سے بطور وکیل دستخط کروانا بھی ہرگز جائز نہیں بلکہ کفر ہی ہے۔

عالمگیری میں ہے:”مسلم قال انا ملحد یکفر”ترجمہ: کسی مسلمان نے کہا میں ملحد ہوں اس کی تکفیر کی جائے گی۔(عالمگیری،جلد 2،کتاب السیر،صفحہ 298،باب احکام المرتدین،دار الکتب العلمیہ)

شارح بخاری مفتی شریف الحق امجدی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں:”جس نے یہ کہا کہ ہم مسلمان نہیں۔۔۔۔وہ مسلمان نہ رہے،ان سب پر فرض ہے کہ اس جملے سے توبہ کریں پھر سے کلمہ پڑھ کر مسلمان ہوں اور اپنی بیویوں سے دوبارہ نکاح کریں۔”(فتاوی شارح بخاری،جلد2،صفحہ 420،دار البرکات)

امیر اہلسنت علامہ الیاس قادری دامت برکاتہم العالیہ لکھتے ہیں:”بعض لوگ جو اِزالۂ قرض و تنگدستی یا دولت کی زیادتی کے لئے کفار کے یہاں نوکری کی خاطر یا ویزا فارم پر یا کسی طرح کی رقم وغیرہ کی بچت کیلئے درخواست پر خود کو عیسائی(کرسچین)، یہودی، قادیانی یا کسی بھی کافر و مرتد گروہ کا ’’فرد‘‘  لکھتے یا لکھواتے ہیں ان پر حکمِ کفر ہے۔(کفریہ کلمات کے بارے میں سوال جواب،صفحہ 453،مکتبہ المدینہ)

فتاوی عالمگیری میں ہے:”من یرضی بکفر نفسه فقد کفر”ترجمہ:”جو شخص اپنے کفر پر راضی ہو تو وہ کافر ہوگیا۔(فتاوی عالمگیری،جلد 2،کتاب السیر،باب احکام المرتدین،صفحہ 280،دار الکتب العلمیہ)

امام اہلسنت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:”عزم کفر فی الحال کفر ہے۔”(فتاوی رضویہ،جلد 15،صفحہ 293،رضا فاؤنڈیشن)

واللہ اعلم عزوجل و رسولہ اعلم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

کتبہ : ابو بنتین محمد فراز عطاری مدنی بن محمد اسماعیل

نظرِ ثانی: ابو احمد مفتی انس رضا قادری دامت برکاتہم العالیہ

( مورخہ 16 فروری، 2022 بمطابق 14 رجب المرجب،1443ھ بروز بدھ)

اپنا تبصرہ بھیجیں