غير مسلم كا وقف

سوال کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ ایک مسجد کے ٹرسٹ کو ایک غیر مسلم نے تین  مرلے  کا پلاٹ وقف کیا ہوا ہے اب مسجد والے اسے بیچنا چاہتے ہیں کیااس کو خرید سکتا ہوں ؟

 الجواب بعون الملک الوھاب اللہم ھدایۃ الحق والصواب

کافر اپنی زمین  مسجد  کے لیے وقف نہیں  کرسکتا  ،وہ   اگرکر  بھی دے  تو وہ  وقف   نہیں ہوگی۔ لہذا پوچھی گئی صورت میں  پلاٹ   اسی کا  ہے،آپ ٹرسٹ والوں  سے  خرید  نہیں سکتے کیونکہ  ٹرسٹ والے  مالک نہیں  ۔البتہ یاد رہے اگر کافر  ٹرسٹ والوں کو مالک بناتا ہے تو اسکے احکام مختلف ہونگے ۔

اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے:وَّ اَنَّ الْمَسٰجِدَ لِلہِ” مسجدیں اﷲ تعالٰی کی ہیں۔

(الجن :آیت:08)

 اور ارشاد فرمایا “مَاکَانَ لِلْمُشْرِکِینَ اَن یَّعْمُرُوا مَسٰجِدَ اللہِ  ۚیعنی مشرکوں کو نہیں پہنچتا کہ اللہ  کی مسجدیں آباد کریں ۔

(سورۃ التوبہ :آیت:17 )

ایک اور مقام پر فرمایا:لَا یَتَّخِذِالْمُؤْمِنُونَ الْکٰفِرِینَ اَوْلِیَآءَمِن دُوْنِ الْمُؤْمِنِینَ یعنی مسلمان کافروں کو اپنا دوست نہ بنالیں مسلمانوں کے سوا۔

(سورۃ  آ لعمران:آیت:28 )

 تفسیر ارشاد العقل السلیم میں ہے: عن الاستعانۃ بھم فی الغزووسائر الامور الدینیۃ۔ یعنی (نہ لو) مدد کفار سے  جہاد اور تمام  دینی کاموں میں ۔

(ارشاد العقل السلیم تحت آیۃ ۳/ ۲۸    ۲/ ۲۳)

صدرالشریعہ مفتی امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:کوئی  کافر اگراپنی خوشی سے زمین  مسجد کے لیے دے  جب بھی مسجد نہیں ہوسکتی کہ مسجد  کے لیے نیت تقرب ضرور  ہے اور کافر اسکا اہل نہیں۔

(فتاوی امجدیہ 03ص114)

امام اہلسنت امام احمد رضا خان علیہ الرحمہ فرماتے ہیں :کافر کی زمین پر مسجد تعمیر نہیں ہوسکتی،نہ وہ مسجد مسجد ہوگی،نہ مسجد وقف ہوگی،مسلمان اسے وقف نہیں کرسکتے کہ پرائی ملک ہے۔

مزید فرماتے ہیں : ہاں اگر کافر کسی مسلمان کو اپنی زمین بیعا یا ہبۃ دے دیتا اور مسلمان کی ملک ہوجاتی وہ اپنی طرف سے وقف کرتا تو جائز تھا اور مشرک سے امو دینیہ میں مددلینی بھی جائز نہیں،

(فتاوی رضویہ ج21ص285 ملتقطا)

اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔

کتبہ احسان احمد عطاری  بن حضور بخش سکندری

:مفتی ابواحمد محمد انس قادری صاحب  دامت برکاتہ