وقف کا جھوٹا اقرار کرنا

سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین مسئلہ ذیل میں کہ اگر کوئی جھوٹا اقرار کرے کہ یہ جگہ میں نے مسجد کے لیے وقف کر دی ہے تو کیا اس اقرار کی وجہ سے وقف ہوجائے گی؟ بینوا توجروا۔

الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب۔

جب کوئی شخص جھوٹا اقرار کرے کہ یہ جگہ میں نے مسجد کے لیے وقف کر دی ہے تو یہ وقف کا اقرار ہے اور زمین وقف ہو جائے گی اگر اس میں وقف کی دیگر شرائط بھی پائی جائیں۔

محیطِ برہانی اور فتاویٰ عالمگیری میں ہے: ” هذه الأرض وقف، إقرار بالوقف وليس بابتداء وقف حتى لا تشترط له شرائط الوقف “۔

ترجمہ: ( کسی نے کہا ) یہ زمین وقف ہے تو یہ وقف کا اقرار ہے لیکن جب تک وقف کی شرائط نہ پائی جائیں تب تک یہ وقف کی ابتداء نہیں ہو گی۔ ( الفتاویٰ الھندیۃ، کتاب الوقف، الباب الثامن فی الإقرار، جلد 02، صفحہ 442، مطبوعہ دار الفکر بیروت )۔

( محیطِ برہانی، جلد 06، صفحہ 129، مطبوعہ دار الکتب العلمیہ بیروت لبنان )۔

صدر الشریعہ بدرالطریقہ حضرت علامہ مولانا مفتی امجد علی اعظمی علیہ رحمۃ اللہ القوی بہارِ شریعت میں فرماتے ہیں: ” جو زمین اس کے قبضہ میں ہے اُوسکی نسبت یہ کہا کہ وقف ہے تو یہ کلام وقف کا اقرار ہے اور وہ زمین وقف قرار پائے گی مگر اسکے کہنے سے وقف کی ابتدا نہ ہو گی تاکہ و قف کے تمام شرائط اس وقت درکار ہوں “۔

( بہارِ شریعت، جلد 02، حصہ 10، صفحہ 602، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ کراچی ).

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

       کتبہ            

 سگِ عطار ابو احمد محمد رئیس عطاری بن فلک شیر غفرلہ

نظرِ ثانی: ابو احمد مفتی انس رضا قادری دامت برکاتہم العالیہ

( مورخہ 23 ربیع الغوث 1443ھ بمطابق 29 نومبر 2021ء بروز پیر )۔