میں نے فلاں سے بات نہ کرنے کی قسم کھائی ہوئی ہے

سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین مسئلہ ذیل میں کہ اگر کسی شخص نے کسی سے کہا کہ میں نے فلاں سے بات نہ کرنے کی قسم کھائی ہوئی ہے حالانکہ اس نے قسم نہیں کھائی تھی جھوٹ بولا تو اس قسم کا کیا حکم ہو گا؟ 

الجواب بعون الملك الوهاب اللهم هداية الحق والصواب

اگر کسی شخص نے کسی سے کہا کہ میں نے فلاں سے بات نہ کرنے کی قسم کھائی ہوئی ہے حالانکہ اس نے قسم نہیں کھائی تھی جھوٹ بولا تھا تو یہ قسم نہیں ہے البتہ جھوٹ بولنے کا گناہ ہو گا۔ لہذا شخصِ مذکور اپنے اس گناہ سے توبہ کرے اور آئندہ جھوٹ نہ بولنے کا پختہ عہد کرے۔

محیطِ برہانی اور فتاویٰ عالمگیری میں ہے: ” وإن قال: سوكند خورده أم إن كان صادقا كان يمينا وإن كان كاذبا فلا شيء عليه كذا في المحيط “ ۔

ترجمہ: اگر کسی شخص نے کہا کہ میں نے قسم کھائی ہے اگر اس بات میں سچا ہے تو یہ قسم ہے اور اگر جھوٹا ہے تو یہ قسم نہیں ہے ایسا ہی محیطِ میں ہے۔

( محیطِ برہانی، جلد 04، صفحہ 204، مطبوعہ دار الکتب العلمیہ بیروت لبنان )۔

( الفتاویٰ الھندیۃ، کتاب الأیمان، الباب الثانی فیما یکون یمینًا، جلد 02، صفحہ 57، مطبوعہ دار الفکر بیروت )۔

صدر الشریعہ بدرالطریقہ حضرت علامہ مولانا مفتی امجد علی اعظمی علیہ رحمۃ اللہ القوی بہارِ شریعت میں فرماتے ہیں: ” اگر کہا میں نے قسم کھائی ہے کہ یہ کام نہ کروں گا اور واقع میں قسم کھائی ہے تو قسم ہے اور جھوٹ کہا تو قسم نہیں جھوٹ بولنے کا گناہ ہوا۔

( بہارِ شریعت، جلد 02، حصہ 09، صفحہ 302، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ کراچی ).

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

       کتبہ            

 سگِ عطار ابو احمد محمد رئیس عطاری بن فلک شیر غفرلہ

نظرِ ثانی: ابو احمد مفتی انس رضا قادری دامت برکاتہم العالیہ