وقف شدہ مسجد یا مدرسہ کو کسی صورت بیچا جاسکتا ہے ؟

سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین مسئلہ ذیل میں کہ وقف شدہ مسجد یا مدرسہ کو کسی صورت بیچا جاسکتا ہے ؟. بینوا توجروا۔

  الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب۔

وقف شدہ مسجد یا مدرسہ کو کسی بھی صورت نہیں بیچا جا سکتا، کیونکہ وقف کا حکم یہ ہے کہ وقف کی ہوئی چیز وقف کرنے والے کی ملک سے نکل جاتی ہے، موقوف علیہ ( یعنی جس پر وقف کیا ہے اس) کی ملکیت میں بھی داخل نہیں ہوتی، بلکہ خالص اللہ تعالیٰ کی ملک قرار پاتی ہے، اسی وجہ سے وقف شدہ مدرسہ، مسجد یا کسی بھی چیز کو کسی بھی صورت میں نہ بیچا جا سکتا ہے،  نہ تحفۃً دیا جا سکتا ہے اور نہ ہی ختم کیا جا سکتا ہے۔

فتاویٰ ھندیہ المعروف فتاویٰ عالمگیری میں ہے: ” ولا يباع ولا يوهب ولا يورث كذا في الهداية “.

ترجمہ: وقف شدہ چیز کو نہ بیچا جائے گا، نہ تحفۃً دیا جائے گا اور نہ ہی ( اس میں ) وراثت جاری ہو گی۔

( الفتاوی الھندیۃ، کتاب الوقف،الباب الاول فی تعریفہ ورکنہٖ ۔۔۔ إلخ، جلد 02، صفحہ 351، مطبوعہ دار الفکر بیروت )

خلیفہ اعلیٰ حضرت حضرت علامہ مولانا مفتی امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ  فرماتے ہیں: ” وقف کو نہ باطل کرسکتا ہے نہ اس میں میراث جاری ہوگی نہ اس کی  بیع ہو سکتی ہے نہ ہبہ ہو سکتا ہے “

.  ( بہار شریعت جلد 02، حصہ 10، صفحہ 523، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ کراچی )۔

مزید ایک اور جگہ فرماتے ہیں: ” وقف کا حکم یہ ہے کہ نہ خود وقف کرنے والا اس کا مالک ہے نہ دوسرے کو اس کامالک بنا سکتا ہے نہ اس کو بیع کر سکتا ہے نہ عاریتاً دے سکتا ہے نہ اس کو رہن رکھ سکتا ہے “.

( بہار شریعت جلد 02، حصہ 10، صفحہ 533، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ کراچی )۔

واللہ اعلم عزوجل و رسولہ الکریم اعلم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

                     کتبہ            

سگِ عطار محمد رئیس عطاری بن فلک شیر غفرلہ

نظرِ ثانی: ابو احمد مفتی انس رضا قادری دامت برکاتہم العالیہ