کیا مسلمان کے لئے حلال ہے کہ وہ کافروں کی دکان پر کافر ہی کو شراب بیچے

سوال:کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلے کے بارے میں کہ کفار کی اکثریت والے بعض ممالک میں غیر مسلموں کی دکانوں پر شراب عام بکتی ہے اور ایسی دکانوں پر مسلمان نوکری کرتے ہیں کیا مسلمان کے لئے حلال ہے کہ وہ کافروں کی دکان پر کافر ہی کو شراب بیچے؟ کیا اس کی تنخواہ حلال ہوگی؟

الجواب بعون الملك الوھاب اللھم ھدایة الحق و الصواب

کافر کو شراب بیچنے کی نوکری ناجائز ہے کیونکہ کافروں کو بھی شراب پینے کی اجازت نہیں، وجہ یہ ہے کہ صحیح قول کے مطابق غیر مسلم بھی فروعات کے مکلف ہیں پھر  یہ کہ شراب بیچنا گناہ میں تعاون کرنا ہے اور گناہ میں تعاون کرنا بھی ناجائز ہے، البتہ اگر کافر کسی مسلمان کو شراب اٹھانے اور کسی کو پہنچانے کی نوکری پر رکھے تو اس کی اجرت کے جائز ہونے نہ ہونے میں امام اعظم اور صاحبین کا اختلاف ہے،امام اعظم کے نزدیک اجرت حلال ہے جبکہ صاحبین عدم جواز کے قائل ہیں،فقہاء کرام کی عبارتوں اور ان کے مفتی بہ قول کو ذکر کرنے کے اسلوب پر غور کرنے سے پتا چلتا ہے کہ ترجیح امام اعظم کے قول کو ہے یعنی ایسی نوکری سے حاصل ہونے والی تنخواہ حلال ہے۔

کفار کے مکلف بالفروع ہونے کے حوالے سے علماء نے جس آیت سے استدلال کیا ہے وہ ملاحظہ ہو۔اللہ کریم سورہ مدثر کی آیت 42 اور 43  میں ارشاد فرماتا ہے: مَا سَلَكَكُمۡ فِي سَقَرَ ۝٤٢ قَالُواْ لَمۡ نَكُ مِنَ ٱلۡمُصَلِّينَ ۝٤٣

وَلَمۡ نَكُ نُطۡعِمُ ٱلۡمِسۡكِينَ ۝٤٤ ترجمہ:کون سی چیز تمہیں دوزخ میں لے گئی؟ وہ کہیں گے ہم نماز نہیں پڑھتے تھے۔اور مسکین کو کھانا نہیں کھلاتے تھے۔

تفسیر بیضاوی میں ہے:”فیہ دلیل ان الکفار مخاطبون بالفروع” اس آیت میں دلیل ہے اس بات پر کہ کفار فروع کے مکلف ہیں۔

(بیضاوی،تحت الآیہ 44،دار احیاء التراث العربی)

تفسیر روح المعانی میں اس کے تحت ہے:”واستدل بالآیہ علی ان الکفار مخاطبون بفروع العبادات” ترجمہ: اس آیت سے استدلال کیا گیا ہے کہ کفار فروعی عبادات کے مکلف ہیں۔

(معانی،تحت الآیۃ 42،المنیریہ)

 بدائع الصنائع میں ہے: بدائع الصنائع میں ہے:’’حرمۃ الخمر والخنزیر ثابتۃ فی حقھم کما ھی ثابتۃ فی حق المسلمین،لانھم مخاطبون بالحرمات وھو الصحیح عند اھل الاصول‘‘ترجمہ:شراب اور خنزیر کی حرمت غیر مسلموں کے حق میں بھی بالکل اسی طرح ثابت ہے ،جس طرح مسلمانوں کے حق میں ثابت ہے ،کیونکہ وہ بھی محرمات کے مکلف ہیں اور یہی اہل اصول کے نزدیک صحیح ہے ۔

(بدائع الصنائع،جلد 9، کتاب السیر،صفحہ 449، دار الکتب العلمیہ)

ہدایہ میں ہے :”ولا ان یسقی ذمیا ولا ان یسقی صبیا للتداوی والوبال علی من سقاہ” ترجمہ:ذمی اور بچہ کو دوا کے لیے شراب پلانا جائز نہیں اور اس کا وبال پلانے والے پر ہو گا۔

(ھدایہ، کتاب الاشربہ، جلد 4)

فتاوی قاضی خان میں ہے:”ذمی استاجر مسلما لیحمل لہ خمرا جاز فی قول ابی حنیفۃ رحمہ اللہ تعالی۔۔۔۔۔۔۔وقال صاحباہ لا یجوز” ترجمہ:کافر اگر مسلمان کو نوکری پر رکھے تاکہ وہ اس کے لئے شراب اٹھائے تو امام اعظم کے نزدیک اس کی اجرت حلال ہے اور صاحبین عدم جواز کے قائل ہیں۔

(فتاوی قاضی خان،جلد 2،کتاب الاجارات،صفحہ 225،دار الکتب العلمیہ)

قاضی خان رحمۃ اللہ علیہ نے پہلے جواز والے قول کو ذکر کیا ہے اور ان کے نزدیک جو راجح ہوتا ہے اسی کو ذکر کرتے ہیں۔

اعلی حضرت رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں:”ما قدم الامام قاضی خان فھو الاظھر الاشھر”ترجمہ: قاضی خاں اسی کو مقدم کرتے ہیں جو اظہر واشہر ہو۔

(فتاوی رضویہ،جلد 1،صفحہ 185،رضا فاؤنڈیشن لاہور)

علامہ قاضی خان کی تصحیح کے بارے میں علامہ شامی نے لکھا ہے:” قالوا لا یعدل عن تصحیح قاضی خان فانہ فقیہ النفس”ترجمہ: علماء نے فرمایا ہے کہ امام قاضی خان کی تصحیح سے عدول نہ کیاجائے گا کیونکہ وہ فقیہ النفس ہیں۔

(رد المحتار،جلد 5،کتاب الھبہ،صفحہ 695 دار الفکر بیروت)

ھدایۃ میں ہے: “ومن حمل للذمی خمرا فانہ یطیب لہ الاجر عند ابی حنیفۃ و قال ابو یوسف و محمد یکرہ لہ ذالک لأنه إعانة على المعصية، وقد صح  أن النبي عليه الصلاة والسلام لعن في الخمر عشرا حاملها و المحمول إليه وله أن المعصية في شربها وهو فعل فاعل مختار، وليس الشرب من ضرورات الحمل ولا يقصد به والحديث محمول على الحمل المقرون بقصد المعصية”ترجمہ:اور جس مسلمان نے کافر کے لئے شراب اٹھائی تو اس کی اجرت حلال ہے امام اعظم کے نزدیک اور صاحبین نے فرمایا یہ مکروہ تحریمی ہے۔

کیونکہ یہ گناہ پر مدد کرنا ہے اور تحقیق صحیح روایت سے یہ ثابت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے شراب کے بارے میں دس پر لعنت فرمائی ہے جن میں  شراب اٹھانے والا اور جس کی طرف اٹھا کر لے جائی جائے وہ بھی شامل ہیں۔امام اعظم ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کی دلیل یہ ہے کہ گناہ تو شراب پینے میں ہے اور یہ فاعل مختار کا فعل ہے اور شراب پینا اٹھانے کی ضروریات سے نہیں  ہے اور شراب اٹھانے والے کا مقصود ذمی کو پلانا نہیں ہوتا اور حدیث کو محمول کیا جائے گا اس اٹھانے کے ساتھ جس میں گناہ کا ارادہ ہوتا ہے۔

(ھدایۃ،کتاب الکراھیۃ،جلد 4،صفحہ 475)

صاحب ھدایہ کی عادت یہی ہے کہ آپ کے نزدیک جو قول راجح ہوتا ہے اس کی دلیل بعد میں ذکر کرتے ہیں۔

(شروحات الھدایۃ)

لہذا معلوم ہوا کہ آپ کے نزدیک بھی امام اعظم کا قول راجح ہے۔

علامہ کاسانی رحمۃ اللہ لکھتے ہیں :” ومن استأجر حمالا يحمل له الخمر فله الأجر في قول أبي حنيفة و عند أبي يوسف و محمد لا أجر له كذا ذكر في الأصل“ترجمہ: جس نے کسی سامان اٹھانے والے سے اپنے لئے شراب اٹھائے کا اجارہ کیا تو امام اعظم ابو حنیفہ کے قول کے مطابق اسے اجرت ملے گی، اور امام ابو یوسف و امام محمد کے نزدیک اجرت نہیں ملے گی، ایسا ہی الاصل میں ذکر کیا ہے۔

(بدائع الصنائع، کتاب الاجارہ، جلد 4، صفحہ 190، دار الکتب العلمیہ)

ملتقی الابحر میں ہے:”و من حمل لذمی خمرا باجر طاب لہ و عندھما یکرہ” ترجمہ: جس نے کافر کے لئے شراب اٹھائی کچھ اجرت کے عوض امام اعظم کے نزدیک اجرت حلال ہے اور صاحبین کے نزدیک ناجائز ہے۔

(ملتقی الابحر،کتاب الکسب،صفحہ 187،دار الکتب العلمیہ)

ملتقی الابحر میں امام اعظم کے قول کو پہلے ذکر کرنے سے واضح ہے کہ یہی قول راجح ہے جیسا کہ ان کا طریقہ ہے۔

ان جزئیات سے پتا چلا کہ کافر کی دکان میں شراب بیچنے کی تنخواہ حلال ہے البتہ ایسی نوکری نہ کی جائے۔

واللہ اعلم عزوجل و رسولہ اعلم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

کتبہ : ابو بنتین محمد فراز عطاری مدنی بن محمد اسماعیل

نظرِ ثانی: ابو احمد مفتی انس رضا قادری دامت برکاتہم العالیہ

( مورخہ 1 جون 2021 بمطابق 19 شوال المبارک 1442ھ بروز منگل )