اگر عورت کسی چیز میں اپنا دودھ ملا کر بچے کو پلا دے تو حرمت رضاعت ہو جائے گی؟

سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین مسئلہ ذیل میں کہ اگر عورت کسی چیز میں اپنا دودھ ملا کر بچے کو پلا دے تو حرمت رضاعت ہو جائے گی؟ بینوا توجروا۔

جواب: الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب۔

پانی یا دوا میں عورت کا دودھ ملا کر پلایا تو اگر دودھ غالب ( یعنی زیادہ ) ہے یا برابر ہے تو حرمتِ رضاعت ثابت ہو جائے گی وگرنہ نہیں۔ اسی طرح اگر بکری وغیرہ کسی جانور کے دودھ میں ملا کر بچے کو دودھ پلایا تو اگر یہ دودھ غالب ہے تو حرمتِ رضاعت ثابت ہو گی وگرنہ نہیں۔

کھانے میں عورت کا دودھ ملا کر بچے کو دیا، اگر وہ پتلی چیز پینے کے قابل ہے اور دودھ غالب یا برابر ہے تو حرمتِ رضاعت ثابت ہو گی، ورنہ نہیں اور اگر پتلی چیز نہیں ہے تو حرمتِ رضاعت ثابت نہیں ہو گی۔

الدرالمختار شرح تنویر الابصار میں ہے: ” ( و مخلوط بماء أو دواء أو لبن أخرى أو لبن شاة إذا غلب لبن المرأة وكذا إذا استويا ) إجماعا۔۔۔  (لا) يحرم (المخلوط بطعام) مطلقا “.

ترجمہ: ( عورت کا ) وہ دودھ جو پانی، دوا، دوسرے دودھ، یا بکری کے دودھ کے ساتھ ملایا گیا ہو تو اگر ( عورت کا دودھ ) زیادہ ہے یا برابر ہے تو بالاجماع حرمتِ رضاعت ثابت ہو جائے گی۔ وہ دودھ جس کو کھانے کے ساتھ ملایا گیا ہو اس کے ساتھ مطلقاً حرمتِ رضاعت ثابت نہیں ہو گی۔

( الدرالمختار شرح تنویر الابصار، صفحہ 203، مطبوعہ دارالکتب العلمیہ ).

خلیفہ اعلیٰ حضرت صدر الشریعہ بدر الطریقہ حضرت علامہ مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمی  علیہ رحمۃ اللہ الغنی فرماتے ہیں : ” پانی یا دوا میں عورت کا دودھ ملا کر پلایا تو اگر دودھ غالب ہے یا برابر تو رضاع ہے مغلوب ہے تو نہیں۔ یوہیں اگر بکری وغیرہ کسی جانور کے دودھ میں ملا کر دیا تو اگر یہ دودھ غالب ہے تو رضاع نہیں ورنہ ہے۔۔۔ الخ “.

مزید فرماتے ہیں: ” کھانے میں عورت کا دودھ ملا کر دیا، اگر وہ پتلی چیز پینے کے قابل ہے اور دودھ غالب یا برابر ہے تو رضاع ثابت، ورنہ نہیں اور اگر پتلی چیز نہیں ہے تو مطلقاً ثابت نہیں “.

( بہار شریعت جلد 02 ، حصہ 07، صفحہ 39، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ کراچی ).

واللہ اعلم عزوجل و رسولہ الکریم اعلم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

                   کتبہ            

سگِ عطار محمد رئیس عطاری بن فلک شیر غفرلہ

نظرِ ثانی: ابو احمد مفتی انس رضا قادری دامت برکاتہم العالیہ

( مورخہ 20 شوال المکرم 1442ھ بمطابق یکم جون 2021ء بروز منگل )۔