کیا شہری اور دیہاتی کے لیے قربانی کے وقت میں کچھ فرق ہے

سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین مسئلہ ذیل میں کہ شہری اور دیہاتی کے لیے قربانی کے وقت میں کچھ فرق ہے یا نہیں؟ بینوا توجروا۔

جواب: الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب۔

شہری اور دیہاتی کے لئے قربانی کے وقت میں کوئی فرق نہیں ہے ہاں جس جگہ قربانی کی جائے گی، اس جگہ کے اعتبار سے فرق ہے لہذا اگر کوئی ( خواہ شہری ہو یا دیہاتی ) شہر میں قربانی کرے گا تو اس کے لئے شرط یہ ہے کہ عید کی نماز ہو چکی ہو، اگر عید کی نماز سے پہلے قربانی کی تو نہیں ہو گی، اور دیہات میں چونکہ عید نماز پڑھنے کا حکم نہیں ہے تو یہاں طلوعِ فجر کے بعد سے قربانی ہو سکتی ہے، لیکن بہتر یہ ہے کہ طلوعِ آفتاب کے بعد قربانی کی جائے، اور شہر میں  بہتر یہ ہے کہ عید کا خطبہ ہو چکنے کے بعد قربانی کی جائے ( یعنی عید کی نماز ہو چکی ہو اور ابھی خطبہ نہ ہوا ہو تو اس صورت میں  قربانی ہو جائے گی مگر ایسا کرنا مکروہ ہے ).

اگر شہر میں  کئی جگہوں پر عید کی نماز ہوتی ہو تو پہلی جگہ نماز ہو چکنے کے بعد قربانی کرنا جائز ہے یعنی یہ ضروری نہیں کہ عیدگاہ میں نماز ہو جائے جب ہی قربانی کی جائے، بلکہ کسی مسجد میں عید کی نماز ہو گئی اور عیدگاہ میں نہ ہوئی جب بھی قربانی ہو سکتی ہے۔

اور اگر کسی وجہ سے شہر میں عید کی نماز نہ ہوئی تو قربانی کے لیے یہ ضروری ہے کہ نماز کا وقت جاتا رہے یعنی زوال کا وقت آ جائے اب قربانی ہو سکتی ہے اور دوسرے یا تیسرے دن نماز عید سے پہلے بھی ہو سکتی ہے۔

فتاویٰ ہندیہ المعروف فتاویٰ عالمگیری میں ہے: وَالْوَقْتُ الْمُسْتَحَبُّ لِلتَّضْحِيَةِ فِي حَقِّ أَهْلِ السَّوَادِ بَعْدَ طُلُوعِ الشَّمْسِ، وَفِي حَقِّ أَهْلِ الْمِصْرِ بَعْدَ الْخُطْبَةِ، كَذَا فِي الظَّهِيرِيَّةِ.

ترجمہ: دیہات میں قربانی والوں کے لئے مستحب وقت یہ ہے کہ طلوعِ آفتاب کے بعد قربانی کریں، اور شہر والوں کے لیے بہتر یہ ہے کہ عید کا خطبہ ہو چکنے کے بعد قربانی کریں۔

( الفتاوی الھندیۃ، کتاب الأضحیۃ، الباب الثالث فی وقت الأضحیۃ، جلد 05، صفحہ 295، مطبوعہ دار الفکر بیروت )۔

فتاویٰ شامی میں ہے: ” (قَوْلُهُ: وَالْمُعْتَبَرُ مَكَانُ الْأُضْحِيَّةَ إلَخْ) فَلَوْ كَانَتْ فِي السَّوَادِ وَالْمُضَحِّي فِي الْمِصْرِ جَازَتْ قَبْلَ الصَّلَاةِ، وَفِي الْعَكْسِ لَمْ تَجُزْ “.

ترجمہ: ( مصنف کا قول: قربانی کی جگہ کا اعتبار ہے…الخ ) اگر قربانی دیہات میں ہو اور  قربانی کرانے والا شہر میں ہو تو عید کی نماز سے پہلے بھی قربانی جائز ہے اور اس کے الٹ کیا تو جائز نہیں۔

اسی میں ہے: ” وَلَوْ ضَحَّى بَعْدَ مَا صَلَّى أَهْلُ الْمَسْجِدِ وَلَمْ يُصَلِّ أَهْلُ الْجَبَّانَةِ أَجْزَأَهُ اسْتِحْسَانًا۔۔۔، وَكَذَا عَكْسُهُ “.

ترجمہ: اگر مسجد والوں کے نمازِ عید پڑھنے کے بعد قربانی کی حالانکہ صحرا والوں نے عید کی نماز نہیں پڑھی تھی تو استحساناً قربانی جائز ہے اور اگر اس کے الٹ کیا جب بھی یہی حکم ہے۔

( رد المحتار علی الدر المختار، جلد 06، صفحہ 318، مطبوعہ دار الفکر بیروت )۔

بہارِ شریعت میں ہے: ” دسویں  کو اگر عید کی نماز نہیں  ہوئی تو قربانی کے لیے یہ ضرور ہے کہ وقت نماز جاتا رہے یعنی زوال کا وقت آ جائے اب قربانی ہو سکتی ہے اور دوسرے یا تیسرے دن نماز عید سے قبل ہوسکتی ہے “.

( بہار شریعت جلد 03، حصہ 15، صفحہ 337، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ کراچی ).

واللہ اعلم عزوجل و رسولہ الکریم اعلم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

                   کتبہ            

سگِ عطار محمد رئیس عطاری بن فلک شیر غفرلہ

نظرِ ثانی: ابو احمد مفتی انس رضا قادری دامت برکاتہم العالیہ

( مورخہ 14 ذوالقعدۃ الحرام 1442ھ بمطابق 25 جون 2021ء بروز جمعہ )۔