جو باوجود صاحب نصاب ہونے کے قربانی نہ کرےاس کا حکم

سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین مسئلہ ذیل میں کہ جو باوجود صاحب نصاب ہونے کے قربانی نہ کرے اور قربانی کے دن گزر جائیں تو اس کے لیے کیا حکم ہے؟

الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب۔

جو شخص مالکِ نصاب ہونے کے باوجود قربانی نہ کرے اور وقت گزر جائے تو قربانی فوت ہو گئی، اب نہیں ہو سکتی۔ اب جانور خرید رکھا ہے یا نہیں، اس کو بعد میں ذبح کیا ہے یا نہیں، اس اعتبار سے اس کی مختلف صورتیں ہیں۔ جن کی تفصیل یہ ہے۔

(01) اگر فقیر نے قربانی کی نیت سے جانور خریدا ہے اور قربانی کے دن نکل گئے چونکہ اس پر بھی اسی معین جانور کی قربانی واجب ہے لہٰذا اس جانور کو زندہ صدقہ کر دے۔

(02) اگر وہ جانور بعد میں ذبح کر ڈالا ہے تو سارا گوشت صدقہ کرے اس میں سے کچھ نہ کھائے اور اگر کچھ کھا لیا ہے تو جتنا کھایا ہے اس کی قیمت صدقہ کرے۔ پھر اگر ذبح کیے ہوئے جانور کی قیمت زندہ جانور سے کچھ کم ہے تو جتنی کمی ہے اسے بھی صدقہ کرے۔

نوٹ: یہ حکم اسی صورت میں ہے کہ فقیر نے جانور قربانی ہی کے لیے خریدا ہو اور اگر اس کے پاس پہلے سے کوئی جانور تھا اور اس نے اس کے قربانی کرنے کی نیت کر لی یا خریدنے کے بعد قربانی کی نیت کی تو اس پر قربانی واجب نہ ہوئی۔

(03) غنی نے قربانی کے لیے جانور خرید لیا ہے تو وہی جانور صدقہ کر دے اور ذبح کر ڈالا تو وہی حکم ہے جو مذکور ہوا اور خریدا نہ ہو تو بکری کی قیمت صدقہ کرے۔

فقیر نے قربانی نہ کی اس حوالے سے بدائع الصنائع میں ہے: وَكَذَلِكَ الْمُعْسِرُ إذَا اشْتَرَى شَاةً لِيُضَحِّيَ بِهَا فَلَمْ يُضَحِّ حَتَّى مَضَى الْوَقْتُ۔۔۔ “.ترجمہ: اگر فقیر نے قربانی کی نیت سے بکری ( یعنی کوئی بھی جانور ) خریدا ہے اور قربانی کے دن نکل گئے ( تو زندہ بکری یا جانور صدقہ کرے گا ).

قربانی کے دن گزرنے کے بعد جانور ذبح کرنے کے حوالے سے درمختار میں ہے: ” ولو ذبحها تصدق بلحمها “.ترجمہ: اگر ذبح کر لیا تو اس کا گوشت صدقہ کر دے.

( الدرالمختار شرح تنویر الابصار، صفحہ 646، مطبوعہ دارالکتب العلمیہ ).

غنی ( یعنی مالدار ) نے جانور نہ خریدا ہو تو اس حوالے سے درمختار، الاختیار لتعلیل المختار، ملتقی الابحر، مجمع الانہر، الدر المنتقی، ھدایہ، فتح القدیر، کفایہ، عنایہ، المحیط البرھانی، فتاوی قاضی خان، خلاصۃ الفتاوی، فتاوی بزازیہ، در الحکام شرح غرر الاحکام اور بدائع الصنائع وغیرہ میں ہے واللفظ للبدائع ( اور الفاظ بدائع الصنائع کے ہیں ) : ” وَإِنْ كَانَ لَمْ يُوجِبْ عَلَى نَفْسِهِ وَلَا اشْتَرَى وَهُوَ مُوسِرٌ حَتَّى مَضَتْ أَيَّامُ النَّحْرِ تَصَدَّقَ بِقِيمَةِ شَاةٍ تَجُوزُ فِي الْأُضْحِيَّةَ؛ لِأَنَّهُ إذَا لَمْ يُوجِبْ وَلَمْ يَشْتَرِ لَمْ يَتَعَيَّنْ شَيْءٌ لِلْأُضْحِيَّةِ وَإِنَّمَا الْوَاجِبُ عَلَيْهِ إرَاقَةُ دَمِ شَاةٍ فَإِذَا مَضَى الْوَقْتُ قَبْلَ أَنْ يَذْبَحَ – وَلَا سَبِيلَ إلَى التَّقَرُّبِ بِالْإِرَاقَةِ بَعْدَ خُرُوجِ الْوَقْتِ لِمَا قُلْنَا – انْتَقَلَ الْوَاجِبُ مِنْ الْإِرَاقَةِ وَالْعَيْنِ أَيْضًا لِعَدَمِ التَّعْيِينِ إلَى الْقِيمَةِ وَهُوَ قِيمَةُ شَاةٍ يَجُوزُ ذَبْحُهَا فِي الْأُضْحِيَّةَ “.

ترجمہ: اگر اس نے اپنے اوپر قربانی لازم نہ کی اور نہ اس نے خریدی جبکہ وہ غنی ہو یہاں تک کہ قربانی کے دن گزر گئے تو وہ ایک ایسی بکری کی قیمت صدقہ کرے جو قربانی میں جائز ہوتی ہے کیونکہ جب اس نے خود واجب نہیں کی اور خریدی بھی نہیں تو قربانی کیلئے کوئی چیز متعین نہ ہوئی، اور اس پر ایک بکری کا خون بہانا واجب ہے تو جب ذبح سے پہلے وقت گزر گیا اور وقت کے گزرنے کے بعد خون بہا کر تقرب کا کوئی ذریعہ نہ رہا ( اس وجہ سے جو ہم نے کہا ) تو واجب کسی چیز کے متعین نہ ہونے کی وجہ سے اراقۃ الدم ( یعنی جانور کا خون بہانے ) اور عین سے قیمت کی طرف منتقل ہوگیا اوروہ ایسی بکری کی قیمت ہے جو قربانی میں جائز ہو۔ 

( بدائع الصنائع، کتاب التضحیۃ، جلد 05، صفحہ 65، مطبوعہ دارالکتب العلمیہ، بیروت ).

بہارِ شریعت میں ہے: ایامِ نحر گزر گئے اور جس پر قربانی واجب تھی اوس نے نہیں کی ہے تو قربانی فوت ہوگئی اب نہیں ہو سکتی پھر اگر اوس نے قربانی کا جانور معین کر رکھا ہے مثلاً معین جانور کے قربانی کی منت مان لی ہے وہ شخص غنی ہو یا فقیر بہرِ صورت اوسی معین جانور کو زندہ صدقہ کرے اور اگر ذبح کر ڈالا تو سارا گوشت صدقہ کرے اوس میں سے کچھ نہ کھائے اور اگر کچھ کھا لیا ہے تو جتنا کھایا ہے اوس کی قیمت صدقہ کرے اور اگر ذبح کیے ہوئے جانور کی قیمت زندہ جانور سے کچھ کم ہے تو جتنی کمی ہے اوسے بھی صدقہ کرے اور فقیر نے قربانی کی نیت سے جانور خریدا ہے اور قربانی کے دن نکل گئے چونکہ اس پر بھی اسی معین جانور کی قربانی واجب ہے لہٰذا اس جانور کو زندہ صدقہ کر دے اور اگر ذبح کر ڈالا تو وہی حکم ہے جو منت میں مذکور ہوا۔ یہ حکم اوسی صورت میں ہے کہ قربانی ہی کے لیے خریدا ہو اور اگر اوس کے پاس پہلے سے کوئی جانور تھا اور اوس نے اوس کے قربانی کرنے کی نیت کر لی یا خریدنے کے بعد قربانی کی نیت کی تو اوس پر قربانی واجب نہ ہوئی۔ اور غنی نے قربانی کے لیے جانور خرید لیا ہے تو وہی جانور صدقہ کر دے اور ذبح کر ڈالا تو وہی حکم ہے جو مذکور ہوا اور خریدا نہ ہو تو بکری کی قیمت صدقہ کرے۔

( بہار شریعت جلد 03، حصہ پندرہ، صفحہ 338، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ کراچی ).

                                                      نوٹ: یادرہے کہ غنی جس نے قربانی نہ کی اس پر پورے ایک سال کے بکرے کی قیمت صدقہ کرنالازم ہوگی۔ اب وہ یہ نہیں کرسکتا کہ ایک گائے کے حصے کی مقدار قیمت صدقہ کردے یا اگلے سال گائے میں حصہ ملا لے یا سابقہ سال کا بکر قضا کے طورپر ذبح کرے بلکہ فقط قیمت صدقہ کرنا ہوگی اور توبہ بھی کرنا ہوگی کہ بروقت واجب ادا نہ کیا۔

واللہ اعلم عزوجل و رسولہ الکریم اعلم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

                       کتبہ            

سگِ عطار محمد رئیس عطاری بن فلک شیر غفرلہ

نظرِ ثانی: ابو احمد مفتی انس رضا قادری دامت برکاتہم العالیہ