ایام تشریق کے چوتھے دن اگر کوئی قربانی کرے تو کیا قربانی ہو جائے گی

سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین مسئلہ ذیل میں کہ ایام تشریق کے چوتھے دن اگر کوئی قربانی کرے تو کیا قربانی ہو جائے گی ؟ بینوا توجروا۔

 الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب۔

 قربانی کا وقت دسویں ذی الحجہ سے بارہویں کے غروب آفتاب تک ہے، یعنی تین دن ، دو راتیں اور ان دنوں کو ایام نحر کہتے ہیں اور گیارہ ذوالحجہ سے تیرہ تک تین دنوں کو ایام تشریق کہتے ہیں۔ اب اگر کوئی عید کے چوتھے دن قربانی کرتا ہے جو کہ ایام تشریق کا تیسرادن بنتا ہے ،تو اس کی قربانی نہ ہوگی۔

اللہ پاک قرآنِ پاک میں ارشاد فرماتا ہے: ” {ويذكروا اسم الله في أيام معلومات على ما رزقهم من بهيمة الأنعام} “. ( پارہ 17، سورۃ الحج، آیت نمبر 18 )۔

اس آیت کے تحت امام احمد بن علی ابو بکر الرازی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں: ” لما ثبت أن النحر فيما يقع عليه اسم الأيام وكان أقل ما يتناوله اسم الأيام ثلاثة وجب أن يثبت الثلاثة، وما زاد لم تقم عليه الدلالة فلم يثبت “.

ترجمہ: جب ثابت ہو گیا کہ ایامِ معلومات سے مراد قربانی کے دن ہیں اور لفظِ ایام کم سے کم تین دنوں کو شامل ہے تو یہ لازمی سی بات ہے کہ قربانی بھی تین دن ہو گی، اور تین دن سے زیادہ پر کوئی دلیل نہیں پس وہ ثابت بھی نہیں۔

( احکام القرآن للجصاص، جلد 03، صفحہ 305، مطبوعہ دار الکتب العلمیہ بیروت ).

سنن البيهقي میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے حوالے سے منقول ہے:  ” الأضحى يومان بعد يوم الأضحى “.

ترجمہ: عید الاضحیٰ کے بعد قربانی دو دن ہے۔

اور اسی میں سیدنا حضرت انس رضی اللہ عنہ سے منقول ہے : ” الذبح بعد النحر يومان “.

ترجمہ: عید کے بعد دو دن قربانی ہے۔

( السنن الکبری للبیہقی، جلد 19، صفحہ 371، مطبوعہ مرکز ھجر للبحوث والدراسات العربیہ والاسلامیہ )۔

فقہ حنفی کی مشہور کتاب ” الہدایہ “ میں ہے: ” و هي جائزة في ثلاثة أيام: يوم النحر ويومان بعده “۔

ترجمہ: قربانی کرنا تین دن تک جائز ہے: عید کا دن اور اس کے بعد کے دو دن۔

( الھدایہ فی شرح بدایۃ المبتدی، جلد 04، صفحہ 357، مطبوعہ دار احیاء التراث العربی- بیروت-لبنان )۔                                                                             

 بہارشریعت میں ہے:قربانی کا وقت دسویں ذی الحجہ کے طلوع صبح صادق سے بارہویں کے غروب آفتاب تک ہے یعنی تین دن ، دوراتیں اور ان دنوں کو ایام نحر کہتے ہیں اور گیارہ سے تیرہ تک تین دنوں کو ایام تشریق کہتے ہیں لہٰذا بیچ کے دو دن ایام نحر وایام تشریق دونوں ہیں اور پہلا دن یعنی دسویں ذی الحجہ صرف یوم النحرہے اور پچھلا دن یعنی تیرہویں ذی الحجہ صرف یوم التشریق ہے۔

بہارشریعت،حصہ15،صفحہ336،مکتبۃ المدینہ کراچی

واللہ اعلم عزوجل و رسولہ الکریم اعلم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

                        کتبہ            

سگِ عطار محمد رئیس عطاری بن فلک شیر غفرلہ

نظرِ ثانی: ابو احمد مفتی انس رضا قادری دامت برکاتہم العالیہ