قربانی کی گائے خریدنے کے بعد میں اس گائے میں کسی اور کو شریک کرنا

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلے کے بارے میں کہ ایک شخص نے قربانی کی گائے خریدی بعد میں اس گائے میں کسی اور کو شریک کرسکتا ہے یا نہیں؟

الجواب بعون الملك الوھاب اللھم ھدایة الحق و الصواب

جس پر شرعا  قربانی واجب نہیں اگر اس نے قربانی کی نیت سے جانور خریدا تو اس پر اسی جانور کی قربانی کرنا واجب ہے نہ اسے بدل سکتا ہے اور نہ کسی کو شریک کر سکتا ہے۔

جس پر شرعا قربانی واجب ہے اگر وہ قربانی کی نیت سے جانور خریدے تو اس پر اسی جانور کی قربانی کرنا واجب نہیں ہوتا بلکہ وہ اس میں دوسرے مسلمانوں کو بھی شریک کر سکتا ہے اور اس سے زیادہ قیمت والے جانور سے بدل بھی سکتا ہے لیکن بہتر یہ ہے کہ جانور خریدنے سے پہلے ہی دوسروں کو شریک کرنے کی نیت کرلی جائے اس لئے کہ اگر پہلے سے دوسروں کو شریک کرنے کی نیت نہ کی ہو تو بعد میں شریک کرنا مکروہ ہے البتہ قربانی اس صورت میں بھی سب کی ہوجائے گی اور اگر پہلے سے نیت ہوگی تو اب مکروہ بھی نہیں رہے گا بلا کراہت دوسروں کو شریک کرنا جائز ہوگا۔

فتاوی عالمگیری میں ہے:”ولو اشترى بقرةً يريد أن يضحي بها، ثم أشرك فيها ستة يكره ويجزيهم؛ لأنه بمنزلة سبع شياه حكماً، إلا أن يريد حين اشتراها أن يشركهم فيها فلا يكره، وإن فعل ذلك قبل أن يشتريها كان أحسن، وهذا إذا كان موسراً، وإن كان فقيراً معسراً فقد أوجب بالشراء فلا يجوز أن يشرك فيها”۔ترجمہ:اگر کسی نے قربانی کی نیت سے گائے خریدی پھر اس میں چھ افراد کو شریک کرلیا تو یہ مکروہ ہے اور سب کی قربانی ہوجائے گی، اس لئے کہ حکما یہ سات بکریوں کی طرح ہے،لیکن خریدتے وقت ہی دوسروں کو شامل کرنے کا ارادہ ہو تو مکروہ نہیں،اگر خریدنے سے پہلے ہی دوسروں کو شامل کرلے تو یہ بہتر ہے،اور یہ ساری صورت اس وقت ہے کہ خریدنے والا غنی ہو، اگر خریدنے والا فقیر ہو تو قربانی کی نیت سے جانور خریدتے ہی اس پر اسی جانور کی قربانی واجب ہوگئی اور اس میں کسی کو شامل کرنا ناجائز ہے۔

(فتاوی عالمگیری،جلد 5،کتاب الاضحیہ،باب فیما یتعلق بالشرکۃ فی الضحایا،صفحہ 376،دار الکتب العلمیہ)

بہار شریعت میں ہے:”قربانی کے لیے گائے خریدی پھر اس میں  چھ شخصوں  کو شریک کر لیا سب کی قربانیاں  ہو جائیں  گی مگر ایسا کرنا مکروہ ہے ہاں  اگر خریدنے ہی کے وقت اوس کا یہ ارادہ تھا کہ اس میں  دوسروں  کو شریک کروں  گا تو مکروہ نہیں  اور اگر خریدنے سے پہلے ہی شرکت کر لی جائے تو یہ سب سے بہتر اور اگر غیر مالک نصاب نے قربانی کے لیے گائے خریدی تو خریدنے سے ہی اوس پر اس گائے کی قربانی واجب ہوگئی اب وہ دوسرے کو شریک نہیں  کرسکتا”۔

(بہار شریعت،جلد 3،صفحہ 351،مکتبۃ المدینہ)

واللہ اعلم عزوجل و رسولہ اعلم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

کتبہ : ابو بنتین محمد فراز عطاری مدنی بن محمد اسماعیل

نظرِ ثانی: ابو احمد مفتی انس رضا قادری دامت برکاتہم العالیہ

( مورخہ 26 جون 2021 بمطابق 15 ذو القعدہ المبارک 1442ھ بروز ہفتہ )