اجتماعی قربانی میں اگر  غیر مسلم یا ایسا بدمذہب شامل ہوجائے تو قربانی ہو گی یا نہیں؟

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلے کے بارے میں کہ اجتماعی قربانی میں اگر  غیر مسلم یا ایسا بدمذہب شامل ہوجائے جس کی بدمذہبی حد کفر تک پہنچی ہو تو باقی لوگوں کی قربانی کا کیا حکم ہوگا؟

الجواب بعون الملك الوھاب اللھم ھدایة الحق و الصواب

اجتماعی قربانی کے درست ہونے کے لئے ضروری ہے کہ تمام حصہ داروں کی نیت قربت اور نیکی کی ہو اگرچہ قربت الگ الگ قسم کی ہو یعنی کسی کی نیت گوشت حاصل کرنے کی نہ ہو نہ ہی ان میں کوئی غیر مسلم ہو،لہذا اجتماعی قربانی میں اگر کوئی غیر مسلم یا ایسا بدمذہب شامل ہوگیا جس کی بدمذہبی حد ک ف ر تک پہنچی ہو تو کسی کی قربانی نہیں ہوگی کیونکہ غیر مسلم اہل قربت سے نہیں اور جب بعض کی طرف سے قربت واقع نہیں ہوگی تو کسی کی طرف سے نہیں ہوگی کیونکہ قربانی میں قربت کے حصے نہیں ہو سکتے۔

شرح النقایۃ میں ہے:”و ان کان احدھم ای احد السبعة کافرا اور مریدا اللحم لا اى لا یصح عن احد لان الکافر لیس من اھل القربة و قصد اللحم ینافیھا و اذا لم یقع البعض قربة لم یقع الکل،اذ الاراقة لا تجزي فی حق القربة”ترجمہ: اگر (قربانی کرنے والے) سات شریکوں میں سے کوئی ایک بھی غیر مسلم ہو یا اس کا ارادہ صرف گوشت حاصل کرنے کا ہو تو کسی ایک کی قربانی بھی نہیں ہوگی اس لئے کہ غیر مسلم اہل قربت سے نہیں اور گوشت کا ارادہ کرنا قربت کے منافی ہے اور جب بعض کی طرف سے قربت نہ ہوئی تو سب کی طرف سے قربت نہیں ہوگی کیونکہ حق قربت میں قربانی متجزی نہیں۔

(فتح باب العنایة،جلد 3،کتاب الاضحیة،صفحه 78،دار ارقم)

الاختیار میں ہے: “وإِن اشترك سبعة في بقرة أو بدنة جاز إن كانوا من أهل القربة يعني مسلمين و يريدونها یعني يريدون القربة، حتى لو كان أحدهم كافرا أو أراد اللحم لا القربة لا يجزئ واحدا منهم لأن الدم لا يتجزأ ليكون بعضه قربة و بعضه لا”ترجمہ:اگر گائے یا اونٹ میں سات افراد شریک ہوئے تو جائز ہے جبکہ وہ سب اہل قربت سے ہوں یعنی مسلمان ہوں اور وہ قربت کا ارادہ بھی رکھتے ہوں یہاں تک کہ اگر ان میں سے ایک بھی غیر مسلم ہو یا فقط گوشت کا ارادہ رکھتا ہو تو کسی کی قربانی نہیں ہوگی اس لئے کہ قربانی اس اعتبار سے متجزی نہیں کہ بعض کی طرف سے قربت ہو اور بعض کی طرف سے نہ ہو۔

(الاختیار لتعلیل المختار جلد 5،کتاب الاضحیہ،صفحہ 18،دارالفکر)

واللہ اعلم عزوجل و رسولہ اعلم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

کتبہ : ابو بنتین محمد فراز عطاری مدنی بن محمد اسماعیل

نظرِ ثانی: ابو احمد مفتی انس رضا قادری دامت برکاتہم العالیہ

( مورخہ 25 جون 2021 بمطابق 14 ذو القعدہ المبارک 1442ھ بروز جمعہ )