پینٹ کو فولڈ کرلینا یا شلوار کو اوپر گرس لینا

       نماز میں کپڑے فولڈ کرنا کیسا ہے جیسے پینٹ کو فولڈ کرلینا یا شلوار کو اوپر گرس لینا؟      

    “الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب”

نماز میں کپڑے فولڈ کرنا جیسے پینٹ فولڈ کرنا یا شلوار کو اوپر کی طرف گرسنا یہ مکروہ تحریمی ہے اور نماز کو دوبارہ پڑھنا واجب ہوگا. کیونکہ کپڑے کو  فولڈ کرنا یا سمیٹنا یہ کف ثوب کہلاتا ہے اور نماز کی حالت میں ایسا کرنے سے حدیث مبارکہ میں منع فرمایا گیا ہے.  

بخاری شریف میں ہے:           عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: «أُمِرْتُ أَنْ أَسْجُدَ عَلَى سَبْعَةٍ، لاَ أَكُفُّ شَعَرًا وَلاَ ثَوْبًا»ترجمہ :حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صل اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا “مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں سات ہڈیوں پر سجدہ کروں بال اور کپڑے کو کف (فولڈ) نہ کروں “

(صحیح بخاری، جلد 1، صفحہ 173 رقم الحدیث 816، مطبوعہ دار طوق نجاۃ)

“نزہۃ القاری شرح صحیح بخاری”میں مفتی شریف الحق امجدی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں بال یا کپڑے کو غیر معتاد طریقے سے سمیٹنا مثلاً بالوں کا جوڑا( مردوں کے لیے) باندھنا یا انکو سمیٹ کر عمامے کے اندر کر لینا یا آستین چڑھا لینا یا تہبند اور پائجامے کو گھرس لینا اس سے نماز مکروہ تحریمی ہوتی ہے

(نزہۃ القاری شرح صحیح بخاری جلد 2،صفحہ 64،مطبوعہ فرید بک سٹال)

“درمختار “میں ہے “(و) کرہ (کفہ) ای رفعہ ولو لتراب” :ترجمہ کف ثوب اگرچے مٹی کی وجہ سے ہو مکروہ ہے.

اسی کے تحت” رد المحتار” میں ہے “وحرر الخیر الرملی ما یفید ان الکراھۃ فیہ تحریمیۃ” ترجمہ :خیر رملی کی عبارت کراہت تحریمی کا فائدہ دیتی ہے.

(درمختار مع ردالمحتار، کتاب الصلوۃ، جلد 2، صفحہ 490،مطبوعہ کوئٹہ)

” وقار الفتاوی “میں مفتی وقار الدین علیہ الرحمہ فرماتے ہیں “پائجامہ، تہبند، شلوار، پتلون یا کسی اور کپڑے کو نیچے سے موڑ دینا یا اوپر اٹھا کر اڑس لینا کف ثوب ہے امام بخاری علیہ الرحمہ نے اپنے کتاب صحیح بخاری میں کف ثوب کے بارے میں ایک مستقل باب باندھا ہے اور اس باب میں ایک حدیث حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے«أُمِرْتُ أَنْ أَسْجُدَ عَلَى سَبْعَةٍ، لاَ أَكُفُّ شَعَرًا وَلاَ ثَوْبًا»یعنی نبی کریم صل اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ مجھے سات ہڈیوں پر سجدہ کرنے اور بال اور کپڑے نہ سمیٹنے کا حکم دیا گیا ہے. اسی حدیث کی بناء پر ہمارے تمام فقھاء نے کف ثوب یعنی کپڑے سمیٹنے کو مکروہ تحریمی لکھا ہے……. یہ خیال رہے کہ جو نماز کراہت تحریمی سے پڑھی جائے گی اسکو دوبارہ پڑھنا واجب ہوتا ہے

(وقار الفتاوی، جلد 2، صفحہ 243، بزم وقار الدین کراچی)

“در مختار “میں ہے “کل صلاۃادیت مع کراھۃ التحریم تجب اعادتھا” ترجمہ :ہر وہ نماز جو کراہت تحریمی کیساتھ ادا کی جائے اسکا لوٹانا واجب ہے

 (در مختار مع رد المحتار، کتاب الصلوۃ، جلد 2، صفحہ 182،مطبوعہ کوئٹہ)

    واللہ اعلم ورسولہ اعلم عزوجل و صلی اللہ علیہ و سلم

کتبہ :محمد انس رضا عطاری المدنی بن محمد یامین

: