عید کی نماز میں اگر امام کی کچھ تکبیریں رہ جائیں

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین اس بارے  میں کہ عید کی نماز میں اگر امام کی کچھ تکبیریں رہ جائیں تو کیا حکم ہے؟                                

الجواب بعون الملک الوهاب اللهم هداية الحق والصواب

گر عید کی نماز میں امام سے زائد تکبیریں رہ گئیں تو اس پر سجدہ سہو واجب ہوگا کیونکہ زائد تکبیریں نماز کے واجبات میں سے ہیں اور بھولے سے نماز کا  واجب چھوٹ جائے تو سجدہ سہو واجب ہوتا ہے،البتہ متاخرین علما نے فرمایا کہ جمعہ و عیدین میں جماعت کثیر ہو تو سجدہ سہو نہ کرنا بہتر ہے تاکہ لوگ پریشانی کا شکار نہ ہوں اور سجدہ سہو نہ کرنے سے نماز درست ہوجائے گی۔

عالمگیری میں ہے:”و منھا تکبیرات العیدین قال فی البدائع اذا ترکھا او نقص منھا او زاد علیھا او اتی بھا فی غیر موضعھا فانہ یجب علیہ السجود۔۔۔۔۔۔۔قالوا لا یسجد للسھو فی العیدین و الجمعہ لئلا یقع الناس فی فتنہ”ترجمہ: اور نماز کے واجبات میں عید کی زائد تکبیریں بھی ہیں،بدائع میں فرمایا اگر امام زائد تکبیریں ساری چھوڑ دے یا کچھ چھوڑ دے یا تکبیریں زیادہ کہہ دے یا تکبیروں کو غیر محل میں کہے تو اس پر سجدہ سہو واجب ہوگا۔۔۔۔۔مشائخ نے فرمایا عیدین اور جمعہ میں سجدہ سہو نہ کرے تاکہ لوگ فتنے میں نہ پڑیں۔

(عالمگیری،جلد 1،کتاب الصلاۃ،باب سجود السہو،صفحہ 141،دار الکتب العلمیہ)

درمختار میں ہے:”والسهو في صلاة العيد والجمعة و المكتوبة و التطوع سواء و المختار عند المتأخرين عدمه في الأوليين لدفع الفتنة”ترجمہ:نماز عید،جمعہ،فرض و نفل سب میں سہو (کا حکم) ایک جیسا ہے اور متاخرین کے نزدیک جمعہ اور عیدین میں سجدہ سہو نہ کرے تاکہ فتنہ نہ ہو۔

(الدر المختار،جلد 2، کتاب الصلاۃ،باب سجود السہو،صفحہ 675،دار المعرفہ)

بہار شریعت میں ہے:”عیدین کی سب تکبیریں  یا بعض بھول گیا یا زائد کہیں یا غیرمحل میں  کہیں  ان سب صورتوں  میں  سجدۂ سہو واجب ہے۔۔۔۔۔۔جمعہ و عیدین میں  سہو واقع ہوا اور جماعت کثیر ہو تو بہتر یہ ہے کہ سجدۂ سہو نہ کرے”۔

(بہار شریعت،جلد1،حصہ 4،سجدہ سہو کا بیان،صفحہ 714،مکتبۃ المدینہ)

واللہ اعلم عزوجل و رسولہ اعلم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

کتبہ : ابو بنتین محمد فراز عطاری مدنی بن محمد اسماعیل

نظرِ ثانی: ابو احمد مفتی انس رضا قادری دامت برکاتہم العالیہ