عیدین کی راتوں کی فضیلت

سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین مسئلہ ذیل میں کہ عیدین کی راتوں کی کیا فضیلت ہے ؟ 

جواب:

عیدین کی راتوں میں جو عبادت کرتا ہے اسے بھلائی کرنے والا لکھ دیا جاتا ہے، اس کا دل مردہ نہیں ہوتا، جیسا کہ احادیث سے ثابت ہے۔

حضرت معاذ بن جبل رضی ﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” من أَحْيَا اللَّيَالِي الْخمس وَجَبت لَهُ الْجنَّة لَيْلَة التَّرويَة وَلَيْلَة عَرَفَة وَلَيْلَة النَّحْر وَلَيْلَة الْفطر وَلَيْلَة النّصْف من شعْبَان “. ترجمہ: جو پانچ راتوں میں شب بیداری کرے اس کے لیے جنت واجب ہے، ذی الحجہ کی آٹھویں، نویں، دسویں رات، عیدالفطر کی رات اور شعبان کی پندرھویں رات ( یعنی شب براءت )۔‘‘

ایک اور حدیث پاک میں حضرت سیدنا عبادہ بن صامت رضی ﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” من أَحْيَا لَيْلَة الْفطر وَلَيْلَة الْأَضْحَى لم يمت قلبه يَوْم تَمُوت الْقُلُوب “ ترجمہ: جو عیدین ( یعنی عید الفطر اور عید الاضحیٰ ) کی راتوں میں قیام کرے، اس کا دل نہ مرے گا جس دن لوگوں کے دل مریں گے۔

( الترغیب و الترھیب، کتاب العیدین والأضحیۃ، الترغیب في إحیاء لیلتی العیدین، جلد 02، صفحہ 98، مطبوعہ دار الکتب العلمیہ بیروت ).

واللہ اعلم عزوجل و رسولہ الکریم اعلم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

           کتبہ             

 سگِ عطار محمد رئیس عطاری بن فلک شیر غفرلہ

نظرِ ثانی: ابو احمد مفتی انس رضا قادری دامت برکاتہم العالیہ