حج کے دوران حاجی پر عید کی قربانی واجب ہوتی ہے یا نہیں

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین اس بارے  میں کہ حج کے دوران حاجی پر عید کی قربانی واجب ہوتی ہے یا نہیں؟ اگر حاجی بارہ ذو الحجہ کی مغرب سے پہلے وطن واپس آجائے تو کیا حکم ہے؟                      

 الجواب بعون الملک الوهاب اللهم هداية الحق والصواب

حج قران اور تمتع کرنے والے پر حج کے شکرانے میں قربانی کرنا واجب ہوتا ہے یہ قربانی بقر عید کی قربانی کے علاوہ ہے، بقر عید کی قربانی واجب ہونے نہ ہونے میں قاعدہ یہ ہے کہ اگر حاجی مقیم ہو یعنی حاجی کی نیت مکہ میں کم از کم 15 دن رہنے کی ہو اور اس دوران منی جانا طے نہ ہو تو منی میں اور منی سے واپس مکہ میں آکر بھی مقیم رہے گا لہذا صاحب نصاب ہونے کی صورت میں اس پر قربانی واجب ہوگی اوراگر حاجی مسافر ہے یعنی مکے میں اس کی نیت پورے پندرہ دن رہنے کی نہیں ہے بلکہ اس دوران منی جانا بھی طے ہے تو مکہ اور منی میں اور منی سے واپسی پر مکہ میں یہ مسافر ہی شمار ہوگا اور مسافر پر بقر عید کی قربانی واجب نہیں، البتہ حاجی اگر منی سے واپسی پر مکے میں کم از کم 15 دن رہنے کی نیت سے آئے گا یا 12 ذو الحجہ کے غروب آفتاب سے پہلے پہلے اپنے ملک میں آکر مقیم ہوگیا تو صاحب نصاب ہونے کی صورت میں اس پر بھی قربانی واجب ہوجائے گی۔

لباب المناسک میں ہے:”یجب علی القارن و المتمع ھدی شکرا”ترجمہ:قارن اور متمع پر حج کے شکرانے میں قربانی واجب ہے۔

(لباب المناسک،فصل فی ھدی القارن و المتمع،صفحہ  368،المکتبۃ الامدایہ)

البحر الرائق میں ہے:”و انما یجب علی القارن و المتمع و اما الاضحیة فان کان مسافرا فلا اضحیة علیه والا فعلیه کالمکی”ترجمہ: اور ضرور قارن اور متمع پر حج کی قربانی واجب ہے اور بہر حال بقر عید کی قربانی مسافر حاجی پر واجب نہیں اور مقیم(غنی) حاجی پر واجب ہے جس طرح مکی پر واجب ہوتی ہے۔

(البحر الرائق،جلد 2،کتاب الحج،باب الاحرام،صفحہ 606،دار الکتب العلمیہ)

درمختار میں ہے:”او نوى فيه لكن بموضعين مستقلين كمكة ومنى، فلو دخل الحاج مكة أيام العشر لم تصح نيته؛ لأنه يخرج إلى منى وعرفة فصار كنية الإقامة في غير موضعها، وبعد عوده من منى تصح”ترجمہ:(تو قصر پڑھے گا یعنی وہ مسافر رہے گا) اگر اس نے دو جگہ پندرہ دن کی نیت کی اور اور وہ دونوں الگ الگ مستقل جگہیں ہوں جیسے مکہ اور منی،تو اگر حاجی مکے میں ذوالحجہ کے ابتدائی دس دنوں میں داخل ہوا تو اس کی مقیم ہونے کی نیت درست نہیں اس لئے کہ وہ منی اور عرفات جائے گا تو وہ ایسے مقام پر مقیم ہونے کی نیت کرنے والا ہوا جہاں نیت نہیں ہو سکتی البتہ منی سے واپس آنے کے بعد اقامت کی نیت ہو سکتی ہے۔

(درالمختار، کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ المسافر، جلد 2، صفحہ 729،دار المعرفہ)

عالمگیری میں ہے:” لو کان مسافرا فی اول الوقت ثم اقام فی آخرہ تجب علیه”ترجمہ:اگر اول وقت میں  مسافر تھا اور بارہ ذو الحجہ کے غروب سے پہلے پہلے مقیم ہوگیا تو اس پر بھی قربانی واجب ہوگی۔

(عالمگیری،جلد 5،کتاب الأضحیۃ،الباب الاول،صفحہ 360،دار الکتب العلمیہ)

بہار شریعت میں ہے:”مسافر پر اگرچہ واجب نہیں  مگر نفل کے طور پر کرے تو کرسکتا ہے ثواب پائے گا۔ حج کرنے والے جو مسافر ہوں  اون پر قربانی واجب نہیں  اور مقیم ہوں  تو واجب ہے جیسے کہ مکہ کے رہنے والے حج کریں تو چونکہ یہ مسافر نہیں ان پر واجب ہوگی۔”

(بہار شریعت،جلد 3،حصہ 15،صفحہ 332،مکتبہ المدینہ)

واللہ اعلم عزوجل و رسولہ اعلم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

کتبہ : ابو بنتین محمد فراز عطاری مدنی بن محمد اسماعیل

نظرِ ثانی: ابو احمد مفتی انس رضا قادری دامت برکاتہم العالیہ