کیا نکاح خواں خود گواہ بن سکتا ہے؟

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین اس بارے  میں کہ نکاح خواں خود گواہ بن سکتا ہے؟

الجواب بعون الملک الوهاب اللهم هداية الحق والصواب

نکاح خواں اگر نکاح کا وکیل ہے اور نکاح کرواتے وقت موکل بھی وہاں موجود ہے تو نکاح خواں گواہ بن سکتا کیونکہ موکل کی موجودگی میں اصل عاقد موکل ہی ہوتا ہے اور وکیل گواہ اگرچہ وکیل نکاح کروائے لیکن کل کو اس نکاح کے ہونے کے بارے میں گواہی دینی پڑی تو اس کی گواہی قبول نہیں کی جائے گی کیونکہ یہ اپنے فعل کی گواہی دینا ہے اور اگر نکاح خواں وکیل ہے اور موکل وہاں موجود نہیں تو نکاح خواں گواہ نہیں بن سکتا اس لئے کہ اب وکیل عاقد ہوگا نہ کہ گواہ۔

فتاوی سراجیہ میں ہے:”اذا زوج ابنته العاقلة البالغة بحضرتھا و مع الاب شاھد آخر جاز”ترجمہ:جب باپ نے اپنی عاقلہ بالغہ بیٹی(موکلہ) کا نکاح اس کی موجودگی میں کروایا اس حال میں کہ باپ(وکیل) کے ساتھ ایک اور گواہ بھی ہو تو نکاح ہوجائے گا۔

(فتاوی سراجیہ،کتاب النکاح،باب انعقاد النکاح،صفحہ 192،امین المکتبہ)

بہار شریعت میں ہے:”ایک شخص نے کسی سے کہا کہ میری نابالغہ لڑکی  کا نکاح فلاں سے کردے، اس نے ایک گواہ کے سامنے کر دیا تو اگر لڑکی  کا باپ وقت نکاح موجود تھا تو نکاح ہوگیا کہ وہ دونوں  گواہ ہو جائیں  گے اور باپ عاقد اور موجود نہ تھا تو نہ ہوا۔ یوہیں  اگر بالغہ کا نکاح اس کی  اجازت سے باپ نے ایک شخص کے سامنے پڑھایا، اگر لڑکی  وقت عقد موجود تھی ہوگیا ورنہ نہیں۔یوہیں  اگر عورت نے کسی کو اپنے نکاح کا وکیل کیا، اُس نے ایک شخص کے سامنے پڑھا دیا تو اگر موکلہ موجود ہے ہوگیا ورنہ نہیں۔خلاصہ یہ ہے کہ موکل اگر بوقت عقد موجود ہے تو اگرچہ وکیل عقد کر رہا ہے مگر موکل عاقد قرار پائے گا اور وکیل گواہ مگر یہ ضرور ہے کہ گواہی دیتے وقت اگر وکیل نے کہا، میں  نے پڑھایا ہے تو شہادت نا مقبول ہے کہ یہ خود اپنے فعل کی  شہادت ہوئی۔”

(بہار شریعت،جلد 2،حصہ 7،نکاح کے شرائط،صفحہ 13،14مکتبہ المدینہ)

واللہ اعلم عزوجل و رسولہ اعلم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

کتبہ : ابو بنتین محمد فراز عطاری مدنی بن محمد اسماعیل

نظرِ ثانی: ابو احمد مفتی انس رضا قادری دامت برکاتہم العالیہ