بکری کی قربانی افضل ہے یا بکرے کی

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ بکری کی قربانی افضل ہے یا بکرے کی ؟

اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ

بکری کی قربانی بکرے کی قربانی سے افضل ہے کیونکہ اس کا گوشت اچھا ہوتا ہے البتہ اگر بکرا خصی ہو تو اس کی قربانی بکری کی قربانی سے افضل ہے کیونکہ خصی بکرے کی قربانی خود حضور نبی کریم علیہ افضل الصلوٰۃ والتسلیم نے کی ہے اور اسی کو پسند فرمایا اور اس کا گوشت بھی اچھا ہوتا ہے

“درمختار” میں ہے :وَالْأُنْثَى مِنْ الْمَعْزِ أَفْضَلُ مِنْ التَّيْسِ إذَا اسْتَوَيَا قِيمَةً

اور بکری کی جنس سے مؤنث(بکری) افضل ہے بکرے سے جب دونوں قیمت کے اعتبار سے برابر ہوں

(  الدر المختار ج6 کتاب الاضحیۃ ص 322 مبطوعہ  دار الفکر البیروت ).

“رد المحتار”میں اس کی شرح کرتے ہوئے فرماتے  ہیں:قَوْلُهُ وَالْأُنْثَى مِنْ الْمَعْزِ أَفْضَلُ)  مَشَى ابْنُ وَهْبَانَ عَلَى أَنَّ الذَّكَرَ فِي الضَّأْنِ وَالْمَعْزِ أَفْضَلُ لَكِنَّهُ مُقَيَّدٌ بِمَا إذَا كَانَ مَوْجُوءًا، أَيْ مَرْضُوضَ الْأُنْثَيَيْنِ: أَيْ مَدْقُوقَهُمَا.قَالَ الْعَلَّامَةُ عَبْدُ الْبَرِّ: وَمَفْهُومُهُ أَنَّهُ إذَا لَمْ يَكُنْ مَوْجُوءًا لَا يَكُونُ أَفْضَلَ.اور “صاحبِ در مختار” کا قول کہ: ”بکری کی جنس میں سے مؤنث افضل ہے“

علامہ ابن وہبان اس طرف گئے ہیں کہ بھیڑ اور بکری میں سے مذکر افضل ہے لیکن(ان کے افضل ہونے کیلئے) ساتھ قید یہ ہے کہ جب یہ خصی ہوں یعنی جب ان کے خصیے کوٹ دیئے گئے ہوں علامہ عبد البر نے فرمایا کہ اس کا مفہوم یہ ہے کہ جب یہ خصی نہ ہوں تو یہ (مذکر) افضل نہیں ہونگے

(درد المحتار ج6 کتاب الاضحیۃ ص 322 مبطوعہ دار الفکر البیروت)

“بہار شریعت” میں ہے :بکری بکرے سے افضل ہے مگر خصی بکرا بکری سے افضل ہے

(بہارشریعت حصہ 15 قربانی کا بیان ص 342 مطبوعہ مکتبۃ المدینہ)

اور دوسری جگہ فرمایا:بکری کی قسم میں  سے قربانی کرنی ہو تو بہتر سینگ والا مینڈھا چت کبرا ہو جس کے خصیے کوٹ کر خصی کر دیا ہو کہ حدیث میں  ہے حضور نبی اکرم  صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلَّم  نے ایسے مینڈھے کی قربانی کی.

(بہارشریعت حصہ 15 قربانی کا بیان ص 346 مطبوعہ مکتبۃ المدینہ)

واللہ تعالی اعلم بالصواب والیہ المرجع والمآب

مجیب :عبدہ المذنب ابو معاویہ زاہد بشیر عطاری مدنی

المدنی زیدمجدہ