فجر کا وقت تھوڑا ہو اور بندے پر غسل فرض ہے

سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین مسئلہ ذیل میں کہ فجر کا وقت تھوڑا ہو اور بندے پر غسل فرض ہے ،اگر غسل کرے گا تو نما زکا وقت ختم ہوجائے گا توکیا وہ تیمم کرکے نماز پڑھ سکتا ہے؟

الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب۔

   اگر کسی شخص پر غسل  فرض ہےاوروہ مثلاً  نمازِ فجر کے لئے ایسے وقت میں اٹھا کہ نماز کا ٹائم ختم ہونے کے بالکل قریب  ہے ،  اس طرح کہ وہ غسل کر کے دو   رکعت فرض بھی نہیں پڑھ سکتا،تو وہ فوراً تیمم کر کے نماز پڑھ لے،      پھر بعد میں پانی سے طہارت حاصل کر کے غیر مکروہ وقت میں اس نماز کا اعادہ کرے    ( یعنی دوبارہ پڑھے ) ، یہی امام زفر اور ایک روایت کے مطابق ائمہ ثلاثہ  علیھم الرحمہ کا قول ہے اور اسی پر فتویٰ ہے۔

    نوٹ:  غسل سےمرادصابن شیمپووغیرہ کے ساتھ نہانانہیں بلکہ یہ کہ صرف فرائض اداکیے جائیں  یعنی ہونٹ سے  حلق  کی جڑتک منہ کے ہرپرزے،گوشے پرپانی پہنچ جائے، ناک  کےدونوں نتھنوں کاجہاں تک نرم  حصہ ہے،  وہ سارادھل جائے اور پورے جسم پر اس طرح پانی بہا دیا جائے کہ جسم کے ہر ہر بال اور ہر ہر رونگٹے سے پانی کے کم ازکم دو قطرے بہہ جائیں، کوئی حصہ خشک نہ رہے۔

میرے آقا اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان علیہ الرحمہ سے اسی طرح کا سوال ہو اتو آپ علیہ الرحمہ نے جواباً ارشاد فرمایا:       ”  تیمم کرکے نماز وقت میں پڑھ لے بعد کو نہا کر اعادہ کرے بہ یفتی (اسی پر فتویٰ دیا جاتا ہے۔ ت) “۔والله تعالٰی اعلم۔   

( فتاویٰ رضویہ، جلد 03، صفحہ310، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن لاہور)۔

درمختار میں ہے:    ” وَقِيلَ يَتَيَمَّمُ لِفَوَاتِ الْوَقْتِ. قَالَ الْحَلَبِيُّ: فَالْأَحْوَطُ أَنْ يَتَيَمَّمَ وَيُصَلِّيَ ثُمَّ يُعِيدَهُ “.

اسی کے تحت فتاویٰ شامی میں ہے:  ”   )قَوْلُهُ وَقِيلَ يَتَيَمَّمُ إلَخْ  )  هُوَ قَوْلُ زُفَرَ…      (قَوْلُهُ قَالَ الْحَلَبِيُّ) أَيْ الْبُرْهَانُ إبْرَاهِيمُ الْحَلَبِيُّ فِي شَرْحِهِ عَنْ الْمُنْيَةِ، وَذَكَرَ مِثْلَهُ الْعَلَّامَةُ ابْنُ أَمِيرِ حَاجٍّ الْحَلَبِيُّ فِي الْحِلْيَةِ شَرْحِ الْمُنْيَةِ حَيْثُ ذَكَرَ فُرُوعًا عَنْ الْمَشَايِخِ، ثُمَّ قَالَ مَا حَاصِلُهُ: وَلَعَلَّ هَذَا مِنْ هَؤُلَاءِ الْمَشَايِخِ اخْتِيَارٌ لِقَوْلِ زُفَرَ لِقُوَّةِ دَلِيلِهِ ”۔

ترجمہ:  اور کہاگیا ہے کہ (نماز کا ) وقت فوت ہونے کی وجہ سے تیمم کرے۔ امام حلبی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:  ” احوط   ( یعنی زیادہ احتیاط اسی میں ہے ) کہ وہ تیمم کرکے نماز ادا کرے اور پھر اس کااعادہ کرے “۔

( رد المحتار علی الدر المختار، جلد 01، صفحہ 246، مطبوعہ دار الفکر بیروت )۔

میرے آقا اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمٰن فتاویٰ رضویہ شریف میں فرماتے ہیں: ” ہر نمازِ موقت کہ بعدِ فوت جس کی قضا ہے جیسے نمازِ پنجگانہ وجمعہ و وترجب طہارتِ آب سے وقت جاتا ہوتیمم سے وقت کے اندر پڑھ لے کہ قضا نہ ہوجائے پھر پانی سے طہارت کرکے اعادہ کرے “۔

مزید آگے فرماتے ہیں:   ”  ثم اعلم ان جواز التیمم لخوف فوت الوقت قول الامام زفر رحمہ اللّٰہ تعالٰی علی خلاف مذھب ائمتنا الثلٰثۃ رضی اللّٰہ تعالٰی عنھم وقد وافقوہ فی روایۃ وشیدتہ فروع واختارہ کبراء وقوی دلیلہ محققون وبیان ذلک فی جمل“۔

واضح ہو کہ امام زفر رحمہ اللہ تعالیٰ ہمارے تینوں ائمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے مذہب کے برخلاف وقت فوت ہونے کے اندیشہ سے تیمم کو جائز کہتے ہیں۔ ائمہ ثلاثہ سے ایک روایت مذہبِ امام زفر کے موافق بھی آئی ہے متعدد جزئیات سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے۔ کچھ بزرگوں نے اسے اختیار بھی کیا ہے اور کئی محققین نے ان کی دلیل کو تقویت بھی دی ہے۔                             

   ( فتاویٰ رضویہ، جلد 03، صفحہ 439-441، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن لاہور )۔

ایک اور مقام پر اس حوالے سے دلائل لکھنے کے بعد ارشاد فرماتے ہیں :  ” ھذا ماعندی فاستنار بحمداللّٰہ تعالٰی ماجنح الیہ المحقق واتباعہ من قوۃ دلیل زفر بل دلیل ائمتنا جمیعا فی الروایۃ الاخری وکیفما کان لاینزل من ان یؤخذ بہ تحفظا علی فریضۃ الوقت ثم یؤمر بالاعادۃ عملا بالروایۃ المشھورۃ فی المذھب لاجرم ان قال فی الغنیۃ بعد ایراد ماقدمنا عن شمس الائمۃ وحینئذ فالاحتیاط ان یصلی بالتیمم فی الوقت ثم یتوضؤ ویعید لئخرج عن العھدتین بیقین  اھ۔ وقد نقل کلامہ ھذا فی الدر واقرہ ھو والسادۃ الاربعۃ محشوہ ح ط ش وابو السعود وقال الشامی ھذا قول متوسط بین القولین وفیہ الخروج عن العھدۃ بیقین فلذا اقرہ الشارح فینبغی العمل بہ احتیاطا ولاسیما وکلام ابن الھمام یمیل الی ترجیح قول زفر بل قد علمت انہ روایۃ عن مشائخنا الثلٰثۃ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہم ونظیر ھذا مسألۃ الضیف الذی خاف ریبۃ فانھم قالوا یصلی ثم یعید  اھ۔

ترجمہ: ھذا ماعندی (میرے علم وفکر کی رُو سے یہی ہے) اس تفصیل سے بحمداللہ تعالیٰ وہ روشن ہوگیا جس کی طرف محقق علی الاطلاق اور ان کے متبعین کا رُجحان ہے کہ امام زفرکی دلیل بلکہ روایتِ دیگر کے لحاظ سے ہمارے سبھی ائمہ کی دلیل قوی ہے اور جیسا بھی ہو کم از کم اتنا ضرور ہے کہ فریضہ وقت کے تحفظ کیلئے اس قول کو لیا جائے پھر اعادہ کا حکم دیا جائے تاکہ مذہب کی روایتِ مشہورہ پر بھی عمل ہوجائے شمس الائمہ کے حوالہ سے جو ہم نے پہلے بیان کیا اسے ذکر کرنے کے بعد غنیہ میں لکھا ہے: ”اس کے پیشِ نظر احتیاط یہی ہے کہ وقت کے اندرتیمم سے نماز پڑھ لے، پھر وضو کرکے اعادہ کرے تاکہ دونوں ذمہ داریوں سے یقینی طور پر سبکدوش ہوجائے۔

ان کا یہ کلام درمختار میں نقل کرکے برقرار رکھا اور دُرمختار کے چاروں محشی سید حلبی، سید طحطاوی، سید شامی اور سید ابو السعود نے بھی برقرار رکھا۔ اور علامہ شامی نے فرمایا: ”یہ دونوں قولوں کے مابین ایک درمیانی قول ہے، اور اس میں یقینی طور پر ذمہ داری سے سبکدوشی ہے۔اسی لئے شارح نے اسے برقرار رکھا۔تو احتیاطاً اسی پر عمل ہونا چاہئے خصوصاً جبکہ امام ابن الہام کا کلام امام زفر کے قول کی ترجیح کی جانب مائل نظر آتا ہے بلکہ یہ بھی معلوم ہوچکا کہ یہ تو ہمارے تینوں مشائخ سے ایک روایت ہے رضی اللہ تعالٰی عنہم۔اس کی نظیر اس مہمان کا مسئلہ ہے جسے تہمت کا اندیشہ ہو۔اس کے بارے میں فقہاء نے فرمایا ہے کہ نماز پڑھ لے پھر اعادہ کرے۔ اھ

( فتاویٰ رضویہ، جلد 03، صفحہ461، 462، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن لاہور)۔

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

کتبہ

سگِ عطار ابو احمد محمد رئیس عطاری بن فلک شیر غفرلہ

نظرِ ثانی:  ابو احمد مفتی انس رضا قادری دامت برکاتہم العالیہ