قادیانیوں کے متعلق نرم گوشی

قادیانیوں کے متعلق نرم گوشی

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اور مفتیان شرع متن اس شخص کے بارے میں جو اپنے دل میں قادیانیوں کے لیے نرم گوشہ رکھے اور ان سے میل جول کو برا نہ سمجھےاس کے لیے کیا حکم ہے؟ نیز عام کافر اور قادیانیوں میں کیا فرق ہے؟

بسم اللہ الرحمن الرحیم

الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق وا لصواب

قادیانی نبی آخر الزماں محمد مصطفی احمد مجتبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ختمِ نبوت کے منکر ہونے کی وجہ سے دائر اسلام سے خارج اور مرتد و زندیق ہیں۔ ان سے خرید و فروخت، تجارت، لین دین، سلام و کلام، ملنا جلنا، کھانا پینا، شادی و غمی میں شرکت، جنازہ میں شرکت، تعزیت، عیادت، ان کے ساتھ تعاون یا ملازمت سب شریعت اسلامیہ میں ناجائزہیں۔لہٰذا جو قادیانی سے دوستی رکھے اور ان کے ساتھ کھانے پینے میں شریک ہو کم ازکم گناہگار ہے اور اگر ان کے متعلق نرم گوشہ رکھتا ہو اور یہ نظریہ رکھے کہ قادیانیوں کو کافر نہ کہا جائے، ان کو اپنے دین کی تبلیغ کی اجازت ہونی چاہیے وغیرہ تو وہ شخص مسلمان نہ رہے گا کہ قادیانیوں کے کفر میں شک کرنا بھی کفر ہے چہ جائیکہ ان کو صحیح بلکہ مظلوم سمجھتے ہوئے ان کو اپنے باطل مذہب کو عام کرنے کی اجازت دی جائے ۔

قادیانی اور دوسرے غیر مسلموں میں فرق ہے ۔عام غیر مسلموں کے ساتھ خریدو فروخت جائز ہے اگرچہ دوستی وغیرہ ان سے بھی جائز نہیں لیکن قادیانی غیر مسلموں سے بھی بدتر ہیں ہیں کیونکہ یہ مرتد ہیں۔یہ اسلام لاکر کفر میں گئے ،یونہی کفر میں ہونے کے باوجود خود کو مسلمان کہلواتے ہیں۔ دنیا کے دوسرے کافر اپنے کفرپر اسلام کا لیبل نہیں چپکاتے اور لوگوں کے سامنے اپنے کفر کو اسلام کے نام سے پیش نہیں کرتے مگر قادیانی اپنے کفر پر اسلام کا لیبل چپکاتے ہیں اور مسلمانوں کو دھوکہ دیتے ہیں کہ یہ اسلام ہے۔

قرآن کریم میں ہے:

”و لا تركنوا الى الذین ظلموا فتمَسكم الناروما لكم من دون اللہ من اولیآءثم لا تنصرون“

ترجمہ: اور ظالموں کی طرف نہ جھکو کہ تمہیں آ گ چھوئے گی اور اللہ کے سوا تمہاراکوئی حمایتی نہیں پھر مدد نہ پاؤ گے۔(سورہ ھود،پارہ،آیت ۱۱۳)

تفسیر جلالین میں ہے:

”ولا ترکنوا تمیلوا إلی الذین ظلموا بموادة أو مداہنة أو رضي بأعمالہم فتمسّکم تصبکم النار “

ترجمہ:اور اپنے آپ کو ان لوگوں کی طرف جھکنے کی اجازت نہ دیں جنہوں نے آپ پر پیار، چاپلوسی، یا ان کے اعمال کی منظوری کے ساتھ آپ پر ظلم کیا، ایسا نہ ہو کہ آگ آپ کو چھو لے گی اور آگ آپ کو تکلیف دے گی۔(تفسیر جلالین،جزء۱،صفحہ۱۸۹،مکتبہ غوثیہ،کراچی)

تفسیر خزائن العرفان میں ہے:

”اس سے معلوم ہوا کہ خدا کے نافرمانوں کے ساتھ یعنی کافِروں اور بے دینوں اور گمراہوں کے ساتھ میل جول ، رسم و راہ ، مَوَدّت و مَحبت ، ان کی ہاں میں ہاں ملانا ، ان کی خوشامد میں رہنا ممنوع ہے۔“(خزائن العرفان ،صفحہ۴۳۷، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ ، کراچی )

نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خاتم النبیین ہونے کے متعلق اللہ پاک ارشادفرماتاہے

” ما كان محمدابااحدمن رجالكم ولكن رسول اللہ وخاتم النبین وكان اللہ كل شیءعلیما“

ترجمہ: محمد تمہارے مَردوں میں کسی کے باپ نہیں ہیں، لیکن اللہ کے رسول ہیں اور سب نبیوں کے آخر میں تشریف لانے والے ہیں اور اللہ سب کچھ جاننے والاہے۔(سورۃ الاحزاب،پارہ ۲۲،آیت ۴۰)

مذكوره بالا آیتِ مبارکہ کے تحت ختمِ نبوت کے منکر کا حکم بیان کرتے ہوئے عظیم مفسِّر صدر الافاضل مفتی سیّد محمد نعیم الدین مرادآبادی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ لکھتے ہیں :

”حضور کا آخِر ُالانبیاء ہونا قطعی ہے ، نصِ قرآنی بھی اس میں وارِد ہے اور صِحاح کی بَکَثْرَت احادیث تو حَدِّ تواتُر تک پہنچتی ہیں ۔ ان سب سے ثابت ہے کہ حضور سب سے پچھلے (آخری ) نبی ہیں۔آپ کے بعد کوئی نبی ہونے والا نہیں۔ جو حضورصلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کے بعد کسی اور کو نبوت ملنا ممکن جانے ، وہ ختمِ نبوت کا منکر اور کافر ، خارج از اسلام ہے۔ “ (خزائن العرفان فی تفسیر القرآن ،صفحہ۷۸۳، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ ، کراچی )

قرآن کریم میں ہے:

” واما ینسینك الشیطن فلا تقعد بعدالذكرى مع القوم الظّلمین “

ترجمہ: اور اگر شیطان تمہیں بھلا دے تو یاد آنے کے بعد ظالموں کے پاس نہ بیٹھ۔(القرآن الکریم، پارہ ۷، سورۃ الانعام، آیت۶۸)

تفسیرات احمدیہ میں ہے:

”وان القوم الظالمین یعم المبتدع والفاسق والکافر ، والقعود مع کلھم ممتنع “

آیت میں موجودلفظ القوم الظّلمین بدعتی ،فاسق اور کافر سب کو شامل ہے اور ان تمام کے ساتھ بیٹھنا منع ہے۔(تفسیراتِ احمدیہ ، سورہ انعام ، تحت الایۃ۶۸، صفحہ ۳۸۸ ، مطبوعہ کوئٹہ )

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

”فإياكم وإياهم ‌لا ‌يضلونكم، ولا يفتنونكم“

تم ان سے دور رہو اور وہ تم سے دور رہیں ،کہیں وہ تمہیں گمراہ نہ کردیں اور فتنے میں نہ ڈال دیں۔(صحیح المسلم، باب النھی عن الروایۃ عن الضعفاء ،جلد۱ ،صفحه ۳۳،مطبوعه لاھور)

سنن ابن ماجہ میں ہے:

”عن جابر بن عبد اللہ قال قال رسول اللہ صلى اللہ عليه وسلم: إن مرضوا فلا تعودوهم، وإن ماتوا فلا تشهدوهم،

وإن لقيتموهم فلا تسلموا عليهم “

ترجمہ: حضرت جابربن عبد اللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اگر وہ بیمار ہوجائیں ،تو ان کی عیادت نہ کرو، اور اگر وہ مر جائیں ،تو ان کے جنازوں میں نہ جاؤ اوراگر تم ان سے ملو ، تو انہیں سلام نہ کرو۔(سنن ابن ماجہ، کتاب السنّۃ، باب فی القدر ، صفحہ ۱۰۵، مطبوعہ لاھور)‌

قرآن کریم میں ہے:

”لا یتخذالمؤْمنون الكفرین اولیآءمن دون المؤمِنین و من یفعل ذلك فلیس من اللہ فی شیءالاان تتقوا منهم تقىةو یحذركم اللہ نفسه والى اللہ المصیر“

ترجمہ: مسلمان مسلمانوں کو چھوڑ کر کافروں کو اپنا دوست نہ بنائیں اور جو کوئی ایسا کرے گاتو اس کا اللہ سے کوئی تعلق نہیں مگر یہ کہ تمہیں ان سے کوئی ڈر ہو اور اللہ تمہیں اپنے غضب سے ڈراتا ہے اور اللہ ہی کی طرف لوٹنا ہے۔(سورہ ال عمران،پارہ ۳،آیت۲۸)

تفسیر صراط الجنان میں ہے:

”حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ تعالی عنہ نے جنگ احزاب کے موقع پر سید ِدو عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے عرض کیا کہ میرے ساتھ پانچ سو یہودی ہیں جو میرے حلیف ہیں ، میری رائے ہے کہ میں دشمن کے مقابلے میں ان سے مدد حاصل کروں۔ اس پر یہ آیتِ کریمہ نازل ہوئی اور کافروں کو دوست اور مدد گار بنانے کی ممانعت فرمائی گئی۔“(جمل، اٰل عمران، تحت الآیۃ: ۲۸،جلد ۱ ،صفحہ ۳۹۳)

تفسیر صراط الجنان میں ہے:

” کفار سے دوستی و محبت ممنوع و حرام ہے، انہیں راز دار بنانا، ان سے قلبی تعلق رکھنا ناجائز ہے۔ البتہ اگر جان یا مال کا خوف ہو تو ایسے وقت صرف ظاہری برتاؤ جائز ہے۔ یہاں صرف ظاہری میل برتاؤ کی اجازت دی گئی ہے، یہ نہیں کہ ایمان چھپانے اور جھوٹ بولنے کو اپنا ایمان اور عقیدہ بنا لیا جائے بلکہ باطل کے مقابلے میں ڈٹ جانا اور اپنی جان تک کی پرواہ نہ کرنا افضل و بہتر ہوتا ہے جیسے سیدناامامِ حسین رضی اللہ تعالی عنہ نے جان دے دی لیکن حق کو نہ چھپایا۔ آیت میں کفار کو دوست بنانے سے منع کیا گیا ہے اسی سے اس بات کا حکم بھی سمجھاجاسکتا ہے کہ مسلمانوں کے مقابلے میں کافروں سے اتحاد کرنا کس قدر برا ہے۔“(تفسیر صراط الجنان،جلد۱،مکتبۃالمدینہ،کراچی)

قادیانیوں کےمرتد ہونے کے متعلق اعلیٰ حضرت امامِ اہلِ سنّت الشاہ امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

لکھتے ہیں:

”لا الہ الا اﷲ محمد رسول اﷲ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے بعد کسی کو نبوت ملنے کاجو قائل ہو ، وہ تو مطلقاً کافر مرتد ہے اگرچہ کسی ولی یا صحابی کے لیے مانے،لیکن قادیانی توایسا مرتدہے جس کی نسبت تمام علمائے کرام حَرمَیْن شریفین نے بِالْاِتفاق تحریر فرمایا ہے کہ: من شَک فی کفرہ فقدکفر یعنی جو اس کے کفر میں شک کرے ،تووہ بھی کافرہوجائے گا۔“ (فتاویٰ رضویہ، جلد۲۱،صفحہ۲۷۹تا۲۸۰،مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن،لاھور)

فتاوی مصطفویہ میں ہے:

”اس (قادیانی )سے سلام ،کلام ، ربط، ضبط اس کے ساتھ کھانا ،پینا، راہ رسم رکھنا سب حرام ہے۔“(فتاوی مصطفویہ ، کتاب الصلاۃ، صفحہ ۲۰۹ ، مطبوعہ شبیر برادرز،لاھور)

قادیانی نظریات

مرزا غلام احمد قادیانی اپنے متعلق لکھتا ہے :

” جو شخص تیری پیروی نہیں کرے گا اور تیری بیعت میں داخل نہیں ہوگا اور تیرا مخالف رہے گا وہ خدا اور رسول کی نافرمانی کرنے والا اور جہنمی ہے ۔ “(تذکرہ ،صفحہ نمبر۲۸۰)

آئینہ کمالات میں ہے:

”کُل مسلمانوں نے مجھے قبول کر لیا اور میری دعوت کی تصدیق کر لی مگر کنجریوں اور بدکاروں کی اولاد نے مجھے نہیں مانا ۔“(آئینہ کمالات: ص ٥٤٧)

تذکرہ میں ہے:

”جو دشمن میرا مخالف ہے. وہ عیسائی ، یہودی ، مشرک اور جہنمی ہے ۔“ (نزول المسیح ص ٤، تذکرہ ٢٢٧)

نجم الہدی میں ہے:

”میرے مخالف جنگلوں کے سؤر ہو گئے اور ان کی عورتیں کتیوں سے بڑھ گئیں ۔“ (نجم الہدیٰ ص ٥٣ مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی)

انوار الاسلام میں ہے:

”جو ہماری فتح کا قائل نہ ہوگا تو صاف سمجھا جائے گا کہ اس کو ولد الحرام بننے کا شوق ہے اور حلال زادہ نہیں ۔“(انوارالاسلام ص ٣٠مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی)

حقیقت الوحی میں ہے:

”جو شخص مجھ پر ایمان نہیں رکھتا وہ کافر ہے ۔“ (حقیقت الوحی نمبر ١٦٣، از مرزا غلام احمد قادیانی )

اسی طرح مرزا بشیر احمد (مرزا غلام احمد قادیانی کا بیٹا).غلام احمد قادیانی کے نہ ماننے والوں کے بارے میں لکھتا ہے :

” کُل مسلمان جو حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کی بیعت میں شامل نہیں ہوئے ۔ خواہ انہوں نے حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کا نام بھی نہیں سنا ۔ وہ کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں ۔“ (آئینہ صداقت صفحہ نمبر ۳۵،چشتی)

مرزا بشیر احمد ایک اور کتاب میں لکھتا ہے :

” ہرایک ایسا شخص جو موسیٰ کو تو مانتا ہے مگر عیسیٰ کونہیں مانت, یا عیسیٰ کو مانتا ہے مگر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں مانتا, اور یا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کومانتا ہے پر مسیح موعود (مرزاقادیانی) کو نہیں مانتا. وہ نہ صرف کافر بلکہ پکا کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہے ۔“ (کلمہ الفصل صفحہ:۱۱۰)

معلوم ہوا مرزائی اپنے دین کا نام اسلام اورہمارے دین کا نام کفر رکھتے ہیں ۔ اور مرزا پر ایمان نہ لانے والی حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی ساری امت کو “کافر” قرار دیتے ہیں ۔ مرزا قادیانی کے دو بڑے جرم ہوئے ۔

ایک یہ کہ نبوت کا دعویٰ کر کے ایک نیا دین ایجاد کیا اور اس کا نام اسلام رکھا ۔ دوسرا جرم یہ کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے لائے ہوئے دین کو کُفر کہا ۔ آپ بتائیے کہ کیا کسی یہودی ، عیسائی ، ہندو ، سکھ ، پارسی یا مجوسی نے اس جرم کا ارتکاب کیا ہے ؟ کیا انہوں نے اپنے مذہب کو اسلام کہا ہے ؟

اب تو آپ کی سمجھ میں آگیا ہوگا کہ مرزاقادیانی اورمرزائیوں کا کفر اس قدر بدترین کیوں ہے ۔ اور یہ دنیا بھر کے کافروں سے بدتر کافر و زندیق کیوں ہیں ۔ صرف یہی نہیں بلکہ مرزائی قادیانی بد ترین گستاخان رسول بھی ہیں ۔ کیونکہ انہوں نے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی ختم نبوت پر ڈاکہ ڈالا ہے ۔ اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے بعد ایک اور نبی گھڑ لیا ہے ۔ اس کے علاوہ مرزا نے اپنی کتب میں جابجا اللہ کے مقرب نبی مسیح (عیسیٰ بن مریم) علیہ السلام کو گندی ننگی گالیاں دی ہیں ۔

مرزا قادیانی بکتا ہے :

” ایک دفعہ مجھے ایک دوست نے صلاح دی کہ ذیابیطس کے لئے افیون مفید ہوتی ہے پس علاج کی غرض سے مضائقہ نہیں کہ افیون شروع کر دی جائے ، میں نے جواب دیا کہ آپ نے مہربانی کی کہ ہمدردی فرمائی لیکن اگر میں ذیابیطس کے لئے افیون کھانے کی عادت کر لوں تو میں ڈرتا ہوں کہ لوگ ٹھٹھا کرکے یہ نہ کہیں کہ پہلا مسیح (عیسیٰ علیہ السلام) تو شرابی تھا اور دوسرا (مرزا قادیانی) افیونی ہوا ۔“ (خزائن جلد ۱۹ صفحات ۴۳۴ تا ۴۳۵،چشتی)

مزید بکتا ہے:

” ایک دفعہ حضرت عیسیٰ زمین پر آئے تھے تو اس کا نتیجہ یہ ہوا تھا کہ کئی کروڑ لوگ دنیا میں مشرک ہوگئے ۔ دوبارہ آکر کیا بنائیں گے کہ لوگ ان کے آنے کی خواہشمند ہیں ۔“ (اخبار بدر ۔ قادیان ، مورخہ ۹ مئی ۱۹۰۷ء جلد ۶ نمبر ۱۹ صفحہ۵)

فتاوی رضویہ میں امام احمدرضاخان رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں :

”شراب کا پینا ، اس کا بنانا ، اس کا بیچنا تینوں حرام ہیں اور یہ بھی معلوم ہیں کہ شریعت میں خنزیر حرام اور نجس العین ہے ۔ اس کا گوشت فروخت کرنا، لینا دینا، کھانا پیناقطعی حرام ہے۔ اب ایک آدمی وہ ہے جو شراب فروخت کرتا ہے یہ بھی مجرم ہے، اور ایک دوسرا آدمی ہے جو شراب فروخت کرتا ہے اور مزید ستم یہ کرتا ہے کہ شراب پر زمزم کا لیبل چپکاتا ہے یعنی شراب بیچتا ہے اس کو زم زم کہہ کر، مجرم دونوں ہیں لیکن ان دونوں مجرموں کے درمیان کیا فرق ہے؟ وہ آپ خوب سمجھتے ہیں ۔

اسی طرح آدمی خنزیر فروخت کرتا ہے مگر اس کو خنزیر کہہ کر فروخت کرتا ہے ۔ وہ صاف صاف کہتا ہے کہ یہ خنزیر کا گوشت ہے جس کو لینا ہے لے جائے اور جو نہیں لینا چاہتا وہ نہ لے ۔ یہ شخص بھی خنزیر بیچنے کا مجرم ہے لیکن اس کے مقابلے میں ایک اور شخص ہے جو خنزیر اور کتے کا گوشت فروخت کرتا ہے بکری کا گوشت کہہ کر۔ مجرم وہ بھی ہے اور مجرم یہ بھی ۔ دونوں مجرم ہیں لیکن ان دونوں کے جرم کی نوعیت میں زمین و آسمان کافرق ہے۔ ایک حرام کو بیچتا ہے۔ اس حرام کے نام سے ، جس کے نام سے بھی مسلمان کو گھن آتی ہے اور دوسرا اسی حرام کو بیچتا ہے ۔ حلال کے نام سے، جس سے ہر شخص کو دھوکہ ہوسکتا ہے اور وہ اس کے ہاتھ سے خنزیر کا گوشت خرید کر اوراسے حلال اور پاک سمجھ کر کھاسکتا ہے۔ پس جو فرق خنزیر کو خنزیر کہہ کر بیچنے والے کے درمیان اور خنزیر کو بکری یا دنبہ کہہ کر بیچنے والے کے درمیان ہے۔ ٹھیک وہی فرق یہودیوں، عیسائیوں، ہندوؤں، سکھوں کے درمیان اور قادیانیوں کے درمیان ہے۔ کفر ہر حال میں کفر ہے۔ اسلام کی ضد ہے لیکن دنیا کے دوسرے کافر اپنے کفرپر اسلام کا لیبل نہیں چپکاتے اور لوگوں کے سامنے اپنے کفر کو اسلام کے نام سے پیش نہیں کرتے مگر قادیانی اپنے کفر پر اسلام کا لیبل چپکاتے ہیں اور مسلمانوں کو دھوکہ دیتے ہیں کہ یہ اسلام ہے ۔

مِرزائیوں (قادیانیوں) کے کفر پر مُطَّلع ہوکر انہیں کافِر نہ سمجھنے والا خود کافِرمرتد ہے ۔“ (فتاوٰی رضویہ جلد نمبر ۱۴صفحہ نمبر ۳۲۱،رضا فاونڈیشن،لاہور)

واللہ اعلم و رسولہ اعلم عزوجل وصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

کتبہ

ممبر فقہ کورس

۰۲صفرالمظفر۱۴۴۶ھ بمطابق 08-08-2024

اپنا تبصرہ بھیجیں