ریکارڈ اذان کا شرعی حکم
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلے میں کہ کیا مسجد میں اذان کے وقت ریکارڈڈ اذان چلائی جاسکتی ہے؟
بسم الله الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایة الحق وا لصواب
اذان ایک عبادت ہے جس کو شریعت کے مخصوص مشروع کئے گئے طریقے پر دینا سنت موکدہ ہے ۔اس لئے ریکارڈڈ اذان سے یہ سنت ادا نہیں ہوگی ۔اگر ریکارڈڈ اذان کے بعد جماعت قائم کی تو نماز ہوجائے گی اگرچہ مکروہ عمل ہے ۔
البدائع والصنائع میں ہے،
”وَأَمَّا بَيَانُ كَيْفِيَّةِ الْأَذَانِ فَهُوَ عَلَى الْكَيْفِيَّةِ الْمَعْرُوفَةِ الْمُتَوَاتِرَةِ مِنْ غَيْرِ زِيَادَةٍ وَلَا نُقْصَانٍ عِنْدَ عَامَّةِ الْعُلَمَاءِ“
یعنی اکثر علماء کے نزدیک اذان کو اس کے معروف ومتواترہ(جو طریقہ شروع سے رائج ہو) طریقے پر بغیر کسی کمی وزیادتی کے دینا لازمی ہے ۔(البدائع والصنائع،فصل بیان کیفیة الاذان ،جلد1، صفحہ نمبر147، التراث )
فتاوی عالمگیری میں ہے،
”وَالصَّحِيحُ أَنَّهُ سُنَّةٌ مُؤَكَّدَةٌ. وَيَنْبَغِي أَنْ يَكُونَ الْمُؤَذِّنُ رَجُلًا عَاقِلًا صَالِحًا تَقِيًّا عَالِمًا بِالسُّنَّةِ“
یعنی صحیح یہ ہے کہ اذان سنت مؤکدہ ہے۔ اور مؤذن مرد ،عاقل ، نیک، پرہیزگار، اور سنت کا جاننے والا ہونا چاہئے۔(فتاوی عالمگیری،الباب الثانی فی الاذان،جلد اول،صفحہ نمبر 53،التراث )
رد المحتار میں اذان کے کچھ آداب بیان کئے گئے ہیں
” إنَّ الْمَحَلَّ مُتَّسِعًا (يَمِينًا وَيَسَارًا) فَقَطْ؛ لِئَلَّا يَسْتَدْبِرَ الْقِبْلَةَ (بِصَلَاةٍ وَفَلَاحٍ) وَلَوْ وَحْدَهُ أَوْ لِمَوْلُودٍ؛ لِأَنَّهُ سُنَّةُ الْأَذَانِ مُطْلَقًا (وَيَسْتَدِيرُ فِي الْمَنَارَةِ) لَوْ مُتَّسِعَةً وَيُخْرِجُ رَأْسَهُ مِنْهَا (وَيَقُولُ) نَدْبًا“
یعنی(اذان کے آداب میں سے ہےکہ)اذان وسعت والی جگہ پر ہو کہ صرف (دائیں اور بائیں طرف مڑ سکے) ، قبلہ کی طرف نہ مڑ سکے (حی علی الصلاح ،حی علی الفلاح کے وقت)، چاہے وہ اکیلا ہو یا بچہ کے کان میں اذان دے ؛ کیونکہ یہ اذان کی مخصوص سنت ہے (اور منارے میں گھومے ) اگر وہ منارہ وسیع ہو اور اپنا سر منارے سے باہر نکالے ( حی علی الصلوة وحی علی الفلاح کہتے وقت ) یہ مستحب ہے۔(رد المحتار،باب الاذان ،جلد اول،صفحہ نمبر387، التراث )
بہار شریعت میں ہے:
”مسجد میں بلا اذان واقامت جماعت قائم کرنا مکروہ ہے۔“ (بہار شریعت،حصہ سوم،اذان کا بیان ،مکتبة المدینہ )
ھذا ماظھر لعبد الضعیف والله اعلم عزوجل ورسوله اعلم صلی الله علیه وآله وسلم بالصواب
کتبہ
محمد مبین مدنی(ممبر فقہ کورس)
۱۸ جولائی ۲۰۲۴ بمطابق ۱۲ محرم الحرام ۱۴۴۶ ھ
نظر ثانی:
مفتی محمد انس رضا قادری