ہڈی،کوئلہ اور گوبر سے استنجاء کا حکم

ہڈی،کوئلہ اور گوبر سے استنجاء کا حکم

سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس بارے میں کہ ہڈی، کوئلہ اور گوبر سے استنجاء کرنا کیسا ہے ؟

بسم اللہ الرحمن الرحیم

الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

بیان کی گئی صورت کا شرعی حکم یہ ہے کہ ہڈی، گوبر اور کوئلہ سے استنجاء کرنا مکروہ تحریمی و ناجائز ہے کیونکہ احادیث میں اسکی ممانعت آئی ہے اور وجہ ممانعت یہ ہے کہ(1) یہ تنیوں چیزیں جنوں کی خوراک ہے اور بعض روایتوں کے مطابق ہڈی جنوں کی اور گوبر جنوں کے چوپایوں کی خوراک ہے (2) ہڈی سے استنجاء کرنے کی صورت میں ضرر پہنچنے کا بھی اندیشہ ہے اور کوئلہ سے استنجاء کے مکروہ ہونے میں سابقہ ممانعت کے ساتھ ساتھ یہ ہے کہ اس صورت میں شرمگاہ آلودہ ہو جائیگی۔

سنن ابی داؤد میں ہے: “من عقد لحيته او تقلد وترا او استنجى برجع دابة او عظم فإن محمدا صلى الله عليه وسلم منه بريء” ترجمہ: جس شخص نے اپنی داڑھی میں گرہ لگائی یا جانور کے گلے میں تانت کا حلقہ ڈالا یا جانور کے گوبر، لید یا ہڈی سے استنجاء کیا تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس سے بری ہیں۔ (سنن ابی داؤد، کتاب الطھارۃ، باب ماینھی عنہ ان یستنجی بہ، روایت36، جلد1، صفحہ 17، مطبوعہ مکتبہ رحمانیہ)

سنن ابی داؤد میں ہے: “عن عبد الله بن مسعود قال قدم وفد الجن على رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقالوا يا محمد انه امتک ان يستنجوا بعظم او روثة او حممة، فإن الله تعالى جعل لنا فيها رزقا قال فنهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن ذلک” ترجمہ: حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جنوں کا ایک وفد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے عرض کیا: آپ اپنی امت کو ہڈی، لید اور کوئلے سے استنجاء کرنے سے منع فرما دیجئیے کیونکہ ان میں اللہ تعالیٰ نے ہمارے لیے روزی بنائی ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرما دیا۔ (سنن ابی داؤد، کتاب الطھارۃ، باب ماینھی عنہ ان یستنجی بہ، روایت 39، جلد1، صفحہ 17، مطبوعہ مکتبہ رحمانیہ)

الدر المختار مع تنویر الابصار میں ہے: “(وكره) تحريما (بعظم وطعام وروث۔۔۔وفحم وعلف حیوان)” ترجمہ: اور ہڈی، کھانے، گوبر،کوئلہ اور جانوروں کے چارے کے ساتھ استنجا کرنا مکروہ تحریمی ہے۔ (رد المحتار علی الدر المختار، کتاب الطھارۃ، مطلب اذا دخل المستنجی فی ماء قلیل، جلد1، صفحہ605،607، مطبوعہ مکتبہ رحمانیہ)

اسکے تحت رد المحتار میں ہے: “قوله (كره تحريما ) کذا استظھرہ فی البحر للنهي الوارد في ذلک” ماتن کا قول (مذکورہ چیزوں سے استنجا مکروہ تحریمی ہے) ایسے ہی البحر الرائق میں اسکی تائید کی ہے، اسکے متعلق وارد ہونے والی ممانعت کی وجہ سے۔(رد المحتار علی الدر المختار،کتاب الطھارۃ، مطلب اذا دخل المستنجی فی ماء قلیل، جلد1، صفحہ605، مطبوعہ مکتبہ رحمانیہ)

رد المحتار میں ہے: “قولہ( وكل ما ينتفع به) أي: لإنسي أو جني أو دوابهما۔۔۔قوله (مع الكراهة) أي: التحريمية في المنهي عنه والتنزيهية في غيره” ترجمہ: اور ماتن کا قول کہ ہر وہ چیز جس سے انسانوں ، جنات، یا انکے جانوروں کے لیے نفع اٹھایا جائے(اس سے استنجاء مکروہ ہے) یعنی جس چیز سے منع کیا گیا ہے اسمیں مکروہ تحریمی ہے اور اسکے علاوہ میں مکروہ تنزیہی ہے(اس سے معلوم ہوا کہ ہڈی، گوبر اور کوئلہ سے استنجاء مکروہ تحریمی ہے، کیونکہ ان سے استنجاء کرنے کی ممانعت حدیث میں آئی ہے اور علامہ شامی رحمۃ اللہ نے تصریح فرمائی ہے کہ جسکی ممانعت موجود ہے وہ تحریمی ہے)۔(رد المحتار علی الدر المختار،کتاب الطھارۃ، مطلب اذا دخل المستنجی فی ماء قلیل، جلد1، صفحہ607، مطبوعہ مکتبہ رحمانیہ)

البحر الرائق شرح کنز الدقائق میں ہے: (لا بعظم وروث وطعام ویمین )ای لایستنجی بھذہ الاشیاء والمراد انہ یکرہ بھا کما صرح بہ الشارح والظاھر انھا کراھۃ تحریم للنھی الوارد فی ذلک” ترجمہ: ہڈی، گوبر ، کھانے اور سیدھے ہاتھ سے استنجا نہ کرے یعنی ان چیزوں کے ساتھ استنجاء مکروہ ہے ،جیسا کہ شارح نے اس کی تصریح کی اور ظاہر یہ ہے کہ یہ مکروہ تحریمی ہے اس میں وارد ہونے والی ممانعت کی وجہ سے۔(البحر الرائق، کتاب الطھارۃ، باب الانجاس، جلد، صفحہ 420، مطبوعہ دار الکتب العلمیہ)

حاشیۃ الطحطاوی مع مراقی الفلاح میں ہے: “(ویکرہ الاستنجاء بعظم)۔۔ وروث لقولہ علیہ الصلاۃالسلام:لاتستنجوابالروث ولابالعظام فانھما زاد اخوانکم من الجن فاذا وجدوھما صار العظم کأن لم یؤکل فیأکلونہ، وصارالروث شعیرا وتبنا لدوابھم معجزۃللنبی صلی اللہ علیہ وسلم والنھی یقتضی کراھۃ التحریم۔۔۔وفحم لتلویثہ) ولماروی انہ لما قدم وفد الجن علی النبی صلى الله عليه وسلم، فقالوا يا رسول اللہ انه امتک ان يستنجوا بعظم او روثة او حممة، فإن الله تعالى جعل لنا فيها رزقا قال فنهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن ذلک” ترجمہ: اور ہڈی اور گوبر کے ساتھ استنجاء مکروہ ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان کی وجہ سے کہ تم گوبر اور ہڈیوں کے ساتھ استنجاء نہ کرو کیونکہ یہ تمہارے جن بھائیوں کی خوراک ہے، پس جب وہ ان دونوں کو پاتے ہیں تو ہڈی ایسے ہو جاتی ہے جیسے وہ کھائی ہی نہیں گئی پھر وہ اسکو کھاتے ہیں اور گوبر انکے جانوروں کا اناج اور چارہ ہوجاتا ہے، یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا معجزہ ہے اور (یہ) ممانعت کراہت تحریمی کا تقاضا کرتی ہے۔۔۔ اور کوئلہ (کے ساتھ استنجاء مکروہ ہے) شرمگاہ کے آلودہ ہونے کی وجہ سے اور اس حدیث کی وجہ سے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے کہ جب جنوں کا ایک وفد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے عرض کیا آپ اپنی امت کو ہڈی، لید اور کوئلہ سے استنجاء کرنے سے منع فرما دیجئیے کیونکہ ان میں اللہ تعالیٰ نے ہمارے لیے روزی بنائی ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرما دیا۔(حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح، کتاب الطھارۃ، فصل فیما یجوز بہ الاستنجاء، صفحہ 49، 50، مطبوعہ قدیمی کتب خانہ)

امداد الفتاح شرح نور الایضاح میں ہے: “(ویکرہ الاستنجاء بعظم) ورورث لقولہ علیہ السلام لاتنجسوا بالروث ولابالعظام فانھما زاد اخوانکم من الجن۔۔۔والنھی یقتضی کراھۃ التحریم۔۔۔(وفحم) لتلویثہ” ترجمہ: اور ہڈی اور گوبر کے ساتھ استنجاء مکروہ ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان کی وجہ سے کہ تم گوبر اور ہڈیوں کے ساتھ استنجاء نہ کرو کیونکہ یہ تمہارے جن بھائیوں کی خوراک ہے۔۔۔اور ممانعت کراہت تحریمی کا تقاضا کرتی ہے۔۔۔ اور کوئلہ کے ساتھ(استنجاء مکروہ ہے) شرمگاہ کے آلودہ ہونے کی وجہ سے۔(امداد الفتاح شرح نور الایضاح، کتاب الطھارۃ، فصل فیما یجوز بہ الاستنجاء ومالایجوزبہ، صفحہ 62،63، مطبوعہ مکتبہ رحمانیہ)

فتاوی رضویہ میں ہے: “مسئلہ: کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ہڈی سے استنجا کس وجہ سے ناجائز ہے اور یہ جو کہتے ہیں کہ وہ خوراك جن کی ہے اس کی اصل ہے یا نہیں اور اگر خوراك جِن کی ہے تو اُن کے کفاروں کی ہے یا مسلمانوں کی بھی۔۔۔۔الجواب : قوم جِنْ کے وفد جوبارگاہِ اقدس حضور پُرنور سید العالمین صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم میں حاضر ہوئے اور اپنے اور اپنے جانوروں کے لئے خوراك طلب کی اُن سے ارشاد ہوا :لکم کل عظم ذکر اسم الله یقع فی ایدیکم اوفرمایکون لحما وکل بعرۃ علف لدوابکم۔ تمہارے لئے ہر ہڈی ہے جس پر اللہعزوجل کا نام پاك لیا جائے یعنی حلال مذکّٰی جانور کی ہڈی ہو وہ تمہارے ہاتھ میں اُس حال پر ہوگی جیسی اُس وقت تھی جب اُس پر گوشت پورا اور کامل تھا (یعنی گوشت چھُڑائی ہُوئی ہڈی تمہیں مع گوشت ملے گی) اور ہر مینگنی تمہارے چوپایوں کے لئے چارہ ہے۔ پھر انسانوں سے ارشاد فرمایا : فلاتستنجوا بھما فانھما طعام اخوانکم رواہ مسلم فی صحیحہ عن ابی مسعود رضی الله تعالٰی عنہ۔ والله تعالٰی اعلم۔ ہڈی اور مینگنی سے استنجاء نہ کرو کہ وہ تمہارے بھائیوں کی خوراك ہے۔ اسے امام مسلم رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے اپنی صحیح میں حضرت ابومسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت کیا ہے۔ اور اللہ تعالٰی بہتر جانتا ہے۔(اعلی حضرت رحمۃ اللہ علیہ سے ہڈی سے استنجاء کے ناجائز ہونے کے متعلق سوال ہوا اور آپ نے اسکے جواب میں حدیث پیش کی اور ناجائز کا اطلاق مکروہ تحریمی پر ہوتاہے)۔” (فتاوی رضویہ، جلد4، صفحہ 585، مطبوعہ رضافاؤنڈیشن)

علامہ صدیق ہزاروی لکھتے ہیں” ان دونوں چیزوں (ہڈی اور گوبر) سے استنجا کرنا مکروہ تحریمی ہے۔(ترجمہ وشرح نور الایضاح، آداب استنجاء، صفحہ 37، مطبوعہ مکتبہ قادریہ)

واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم

کتبہ۔۔۔۔۔۔۔

ممبر فقہ کورس

Arfq_2025_215

15 رمضان المبارک 1446ھ بمطابق16 مارچ 2025ء

08 رمضان المبارک 1446ھ بمطابق 09 مارچ 2025ء

ہفتہ وار فتویٰ۔۔۔۔۔

اپنا تبصرہ بھیجیں