سیہہ حلال یا حرام ہے؟
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس بارے میں کہ سیہہ کھانا حلال ہے یا حرام؟
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایتہ الحق والصواب
پوچھی گئی صورت کا شرعی حکم یہ ہے کہ سیہہ کھانا حرام ہے کیونکہ حدیث پاک میں اسے خبیث جانور کہا گیا ہے اور کتب فقہ میں فقہاء کرام نے بھی اس کو کھانا حرام لکھا ہے۔
سنن ابوداؤد میں حدیث پاک ہے:
”عَنْ عِيسَى بْنِ نُمَيْلَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ ابْنِ عُمَرَ، فَسُئِلَ عَنْ أَكْلِ الْقُنْفُذِ ؟، فَتَلَا: قُلْ لا أَجِدُ فِي مَا أُوحِيَ إِلَيَّ مُحَرَّمًا سورة الأنعام آية 145، قَالَ: قَالَ شَيْخٌ عِنْدَهُ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: ذُكِرَ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: خَبِيثَةٌ مِنَ الْخَبَائِثِ، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: إِنْ كَانَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذَا، فَهُوَ كَمَا قَالَ مَا لَمْ نَدْرِ“
ترجمہ:حضرت عیسی بن نمیلہ اپنے باپ حضرت نمیلہ سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت نمیلہ فرماتے ہیں کہ میں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کے پاس تھا آپ سے سیہہ کے متعلق پوچھا گیا تو آپ نے یہ آیت پڑھی” قل لا أجد فيما أوحي إلى محرما“ اے نبی! آپ کہہ دیجئیے میں اسے اپنی طرف نازل کی گئی وحی میں حرام نہیں پاتا ان کے پاس موجود ایک بوڑھے شخص نے کہا: میں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ نبی اکرم ﷺ کے پاس اس(سیہہ) کا ذکر کیا گیا تو آپ نے فرمایا: وہ خبیث جانوروں میں سے ایک خبیث جانور ہے ۔تو حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا اگر رسول اللہ ﷺ نے ایسا فرمایا ہے تو بیشک وہ ایسا ہی ہے جو ہمیں معلوم نہیں۔(سنن ابو داؤد ٬کتاب الأطعمۃ٬ باب فی أکل حشرات الأرض٬ صفحہ 600 ٬مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت لبنان)
فتاوی قاضیخان میں ہے:
”و يحرم كل ذي ناب من السبع، و هو الأسد و الذئب و النمر و الفهد و الثعلب و الضبع و الكلب و السنور الأهلي و الوحشي و السنجاب و الفنك و السمور و الدلف و الدب و القرد (چچڑی) و اليربوع و الضب و ابن عرس و ابن آوى و الفيل و الخنزير و جميع الهوام مما يكون سكناه في الأرض، كالفأرة و الوزغة و سام أبرص و القنفذ و الحية و الضفدع“
ترجمہ:ہر اس جانور کا کھانا حرام ہے جس کے پاس نوکیلا دانت (ناب) ہو۔ جیسے: شیر، بھیڑیا، چیتا، تیندوا، لومڑی، لگڑبگڑ، کتا، بلّی (گھریلو اور جنگلی دونوں)، سنجاب، فِنک (ایک قسم کا درندہ)، سَمور، ڈولفن(لومڑی کی قسم)، ریچھ، بندر، چچڑی، یربوع (صحرائی چوہا نما جانور)، اوڈبلا (ضب)، نیولا، گیدڑ، ہاتھی، سور۔اور اسی طرح وہ تمام حشرات الارض بھی حرام ہیں جن کا مسکن زمین ہو۔ جیسے چوہا، چھپکلی، سام ابرص، کانٹوں والا جانور (سیہہ یا Hedgehog)، سانپ اور مینڈک۔(فتاویٰ قاضی خان، کتاب الصید والذبائح٬ جلد 3، صفحہ 247 ٬مطبوعہ کوئٹہ)
مجمع الأنهر فی شرح ملتقی الابحر میں ہے:
”(والحشرات) الصغار من الدواب جمع الحشرة كالفأرة والوزغة وسام أبرص والقنفذ والحية والضفدع والبرغوث والقمل والذباب والبعوض والقراد؛ لأنها من الخبائث وقد قال الله تعالى “ويحرم عليهم الخبائث“
ترجمہ:(حشرات) یعنی چھوٹے چھوٹے جانور، حشرہ کی جمع، جیسے: چوہا، چھپکلی، سام ابرص (زہریلی چھپکلی)، کانٹوں والا جانور (سیہہ/ Hedgehog)، سانپ، مینڈک، پسو، جوئیں، مکھی، مچھر اور جونک؛ یہ سب ناپاک چیزوں میں سے ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ‘اور وہ ان پر ناپاک چیزیں حرام کرتا ہے۔(مجمع الأنهر في شرح ملتقى الأبحر٬ کتاب الذبائح ٬جلد 2 ٬ صفحہ 513 ٬مطبوعہ دار احیاء التراث العربی)
بنایہ شرح ہدایہ میں ہے:
”القنفذ عندنا حرام“
ترجمہ:سیہہ ہمارے نزدیک حرام ہے۔(البنایہ٬جلد 11 ٬صفحہ601 ٬ مطبوعہ بیروت لبنان)
البحر الرائق شرح کنزالدقائق میں ہے:
”سئل الحسن بن علي عن أكل الحية والقنفذ، أو أكل الدواء الذي فيه الحية إذا أشار الطبيب الحاذق بأنه يدفع العلة هل يحل أكله؟ قال: لا“
ترجمہ:سوال کیا گیا حضرت حسن بن علی رضی اللہ تعالی عنہ سے سانپ اور کانٹوں والے جانور (سیہہ / Hedgehog) کو کھانے کے بارے میں، یا اس دوا کے بارے میں جس میں سانپ شامل ہو، اگر ماہر طبیب یہ کہے کہ یہ دوا بیماری کو دور کرتی ہے، تو کیا اس کو کھانا جائز ہے؟انہوں نے فرمایا: نہیں (یہ جائز نہیں ہے)۔(البحر الرائق،کتاب الکراھیۃ٬جلد 8، صفحہ 339 ٬مطبوعہ کتب خانہ کراچی)
ردالمحتار علی الدرالمختار میں ہے:
”(ولا يحل) (ذو ناب يصيد بنابه) فخرج نحو البعير (أو مخلب يصيد بمخلبه) أي ظفره، فخرج نحو الحمامة (من سبع) بيان لذي ناب. والسبع: كل مختطف منتهب جارح قاتل عادة (أو طير) بيان لذي مخلب (ولا) (الحشرات) هي صغار دواب الأرض واحدها حشرة.قوله: (واحدها حشرة): بالتحريك فيهما: كالفأرة والوزغة وسام أبرص والقنفذ والحية والضفدع والزنبور والبرغوث والقمل والذباب والبعوض والقراد“
ترجمہ:وہ جانور (کھانا) حلال نہیں ہے جو ناب (نوکیلے دانت) رکھتا ہو اور ان سے شکار کرتا ہو۔ اس میں اونٹ جیسے جانور شامل نہیں (کیونکہ وہ اپنے دانت سے شکار نہیں کرتے)۔اسی طرح وہ جانور بھی حلال نہیں جو پنجے (ناخن/مخلب) رکھتا ہو اور ان سے شکار کرتا ہو۔ اس میں کبوتر وغیرہ داخل نہیں (کیونکہ وہ اپنے پنجوں سے شکار نہیں کرتے)۔(لفظ سبع کی وضاحت) سبع اُس درندے کو کہتے ہیں جو عادتاً چھیننے والا، نوچنے والا اور قتل کرنے والا ہو۔اسی طرح (حلال نہیں) پرندوں میں سے بھی وہ ہیں جو پنجے سے شکار کرتے ہیں۔اور حشرات الارض بھی حلال نہیں ہیں یعنی حشرات چھوٹے چھوٹے زمین پر چلنے والے جانوروں کو کہتے ہیں، حشرات کی واحد حَشَرة آتی ہے۔مصنف کا قول: “واحدها حشرة” یعنی اس کا واحد “حَشَرة” ہے، اور دونوں میں تحریک(زبر) ہے۔ان (حشرات) کی مثالیں یہ ہیں: چوہا، چھپکلی، سام ابرص (زہریلی بڑی چھپکلی)، کانٹوں والا جانور (سیہہ / Hedgehog)، سانپ، مینڈک، بھڑ، پسو، جوئیں، مکھی، مچھر، چیچڑ۔(رد المحتار علی الدرالمختار٬ کتاب الذبائح٬جلد 9، صفحہ 507-508 ٬مطبوعہ کوئٹہ)
واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
کتبہ
محمد عرفان مدنی قصوری
30 صفر المظفر1447ھ بمطابق 25 اگست 2025ء
نظرثانی:
مفتی محمد انس رضا قادری
موضوع : ناپاک کپڑے مستعمل پانی سے دھونا