ایک بکری کی قربانی سب گھر والوں کی طرف سے

ایک بکری کی قربانی سب گھر والوں کی طرف سے

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کیا گھر کا سربراہ سب گھر والوں کی طرف سے ایک قربانی کر سکتا ہے؟

بسم اللہ الرحمن الرحیم

الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایہ الحق والصواب

بیان کی گئی صورت کا شرعی حکم یہ ہے کہ ہر صاحبِ نصاب عاقل بالغ مقیم مسلمان پر قربانی کرنا واجب ہے ۔اگر ایک گھر میں متعدد صاحبِ نصاب افراد ہوں تو سب گھر والوں کی طرف سے ایک قربانی کافی نہیں ہوگی، بلکہ گھر میں رہنے والے ہر صاحبِ نصاب شخص پر الگ الگ قربانی کرنا لازم ہوگی۔البتہ بڑے جانور اونٹ یا گائے میں کل سات حصے کیے جاسکتے ہیں اگر شرکاء میں سے کسی کا حصہ ساتویں حصہ سے کم ہوا تو کسی کی بھی قربانی نہیں ہو گی اور اگر سات کی بجائے آٹھ بندے شریک ہوئے تو اس صورت میں بھی قربانی جائز نہیں ہوگی۔

حدیث پاک میں ہے:

”عن أبي هريرة، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال:من كان له سعة، ولم يضح، فلا يقربن مصلانا“

ترجمہ : حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو وسعت ہونے کے باوجود قربانی نہ کرے وہ ہماری عید گاہ کے قریب بھی نہ آئے۔(سنن ابن ماجہ،ج2،ص292،مطبوعہ لاہور)

ھدایہ میں ہے:

” قال الاضحیتہ واجبة علی کل حر مسلم مقیم موسر فی یوم الاضحی عن نفسہ“

ترجمہ : امام قدوری رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ہر آزاد،مسلمان،مقیم،اور مالدار پر قربانی کے ایام میں اپنی طرف سے قربانی کرنا واجب ہے۔(ھدایہ،کتاب الذبائح،ج4،ص443،مطبوعہ لاہور)

حضرت امام محمد رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

” فاما شاۃ واحدۃ تذبح عن اثنین او ثلثۃ اضحیۃ فھذہ لا یجزئ و لا یجوز شاۃ الا عن واحد و ھو قول ابی حنیفۃ و العامۃ من فقھائنا “

ترجمہ : بہرحال ایک بکری جو واجب قربانی کے طور پر دو یا تین افراد کی طرف سے ذبح کی جائے تو یہ کافی نہیں ہے ، ایک بکری ایک ہی شخص کی طرف سے جائز ہے اور یہ امامِ اعظم اور ہمارے جمہور فقہا رحمۃ اللہ علیہم کا قول ہے ۔(مؤطاامام محمد،ص282،مطبوعہ کراچی)

بنایہ شرحِ ہدایہ میں ہے :

”و اعلم ان الشاۃ لا تجزئ الا عن واحد و قد روی عن ابن عمر رضی اللہ عنہ انہ قال الشاۃ عن واحد ، ملخصا “

ترجمہ : اور جان لو کہ ایک بکری صرف ایک شخص ہی کی طرف سے کافی ہو گی اور حضرت ابنِ عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا : ایک بکری ایک ہی کی طرف سے (جائز) ہے ۔(البنایۃ مع الھدایۃ ،ج14،ص353 ، مطبوعہ ملتان)

سیدی اعلیٰ حضرت الشاہ امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ ارشاد فرماتے ہیں :

”ایک قربانی نہ سب کی طرف سے ہو سکتی ہے ، نہ سوا مالکِ نصاب کے کسی اور پر واجب ہے ،اگر اس کی بالغ اولاد میں کوئی خود صاحبِ نصاب ہو،تو وہ اپنی قربانی جدا کرے۔“(فتاوٰی رضویہ،ج20،ص369،مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن،لاھور)

تنویر الابصار و درِ مختار میں ہے :

”(تجب شاۃ او سبع بدنۃ) ھی الابل و البقر و لو لاحدھم اقل من سبع لم یجز عن واحد “

ترجمہ : ایک بکری یا بدنہ یعنی اونٹ یا گائے کا ساتواں حصہ واجب ہے اور اگر شرکا میں سے کسی کا حصہ ساتویں حصے سے کم ہو ، تو قربانی کسی ایک کی طرف سے بھی جائز نہیں ہو گی ۔ (تنویر الابصار و الدر المختار،ج9 ص521،525 مطبوعہ ملتان)

خلاصۃ الفتاوی میں ہے :

”لو کانت الشرکاء فی البدنۃ او البقرہ ثمانیۃ لم یجزھم ، و لو کانوا اقل من ثمانیۃ الا ان نصیب واحد منھم اقل من السبع لا یجوز “

ترجمہ : اگر اونٹ یا گائے میں آٹھ لوگ شریک ہوں، تو یہ جائز نہیں ہو گا ، اور اگر وہ آٹھ سے کم ہوں لیکن ان میں سے کسی ایک کا حصہ ساتویں حصے سے کم ہو،تو بھی جائز نہیں ہو گا ۔ (خلاصۃ الفتاوی، ج 4 ،ص315 مطبوعہ کوئٹہ)

صدر الشریعہ مفتی امجدی علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

’’جب قربانی کی شرائط مذکورہ پائی جائیں تو بکری کا ذبح کرنا یا اونٹ یاگائے کا ساتواں حصہ واجب ہے،ساتویں حصہ سے کم نہیں ہو سکتا، بلکہ اونٹ یا گائے کے شرکاء میں اگر کسی شریک کا ساتویں حصہ سے کم ہے،تو کسی کی قربانی نہیں ہوئی، یعنی جس کا ساتواں حصہ یا ا س سے زیادہ ہے اس کی بھی قربانی نہیں ہوئی ،گائے یا اونٹ میں ساتویں حصہ سے زیادہ کی قربانی ہو سکتی ہے، مثلا:گائے کو چھ یا پانچ یا چار شخصوں کی طرف سے قربانی کریں ،ہو سکتا ہے اور یہ ضرورنہیں کہ سب شرکاء کے حصے برابر ہوں ، بلکہ کم و بیش بھی ہوسکتے ہیں،ہاں یہ ضرور ہے کہ جس کا حصہ کم ہے،تو ساتویں حصہ سے کم نہ ہو۔“(بہارشریعت ،ج3،ص335،مکتبۃ المدینہ، کراچی)

واللہ ورسولہ اعلم عزوجل وصلی اللہ علیہ وسلم

کتبہ

مولانا محمد نعمان خواجگی

21 ذوالقعدہ 1446ھ بمطابق 19 مئی 2025ء

نظرثانی:

مفتی محمد انس رضا قادری

اپنا تبصرہ بھیجیں