عورت کے لیے مسواک کرناسنت ہے یا نہیں

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین مسئلہ ذیل میں کہ عورت کے لیے مسواک کرناسنت ہے یا نہیں؟ نیز اگر عورت دنداسہ یا کوئی اورچیز استعمال کرے تو اسے مسواک کا ثواب ملے گا یا نہیں؟

الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب۔

عورتوں کے لئے مسواک کرنا ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ طیبہ طاہرہ رضی اللہ عنھا کی سنت ہے، لیکن عورتوں کے لئے مستحب یہ ہے کہ وہ بجائے مسواک کے دوسری نرم چیزیں، مثلاً مِسِّی کے ذریعے دانت صاف کریں کیونکہ عورتوں کے دانت مَردوں کے مقابلے میں کمزور ہوتے ہیں اور مسواک پر مُوَاظَبَت ( یعنی ہمیشگی ) ان کے دانتوں کو مزید کمزور کر دے گی اور مِسِّی یا کسی پاؤڈر کے ذریعے دانت صاف کرتے وقت حصولِ ثواب کی نیت پائے جانے کی صورت میں مسواک کا ثواب بھی ملے گا کہ عورت کے لئے یہ چیزیں ثواب کے معاملے میں مسواک کے قائم مقام ہیں۔

ابو داؤد شریف کی حدیث پاک میں ہے: ” عن عائشة، أنها قالت: «كان نبي الله صلى الله عليه وسلم يستاك، فيعطيني السواك لأغسله، فأبدأ به فأستاك، ثم أغسله وأدفعه إليه» “.

ترجمہ: ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا فرماتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسواک کر کے مجھے دھونے کے لیے دیتے تو میں خود اس سے مسواک شروع کر دیتی پھر اسے دھو کر آپ کو دے دیتی۔

( سنن أبي داود في كتاب الطهارة، باب غسل السواك، جلد 01، صفحہ 14، مطبوعہ مکتبۃ العصریہ بیروت )۔

اس حدیثِ پاک کے تحت مرآۃ المناجیح میں ہے: ” حضرت عائشہ صدیقہ تبرکًا یہ مسواک کرتیں، پھر دھوکر حضور کی خدمت میں پیش کرتیں، ورنہ عورتوں کے لئے مستحب یہ ہے کہ بجائے مسواک، سکڑا، مِسّی استعمال کریں، انگلی سے دانت صاف کریں، کیونکہ ان کے مسوڑے کمزور ہوتے ہیں۔

( مرآۃ المناجیح جلد 01، صفحہ 263، مطبوعہ نعیمی کتب خانہ گجرات )۔

در المختار میں ہے: ” يقوم العلك مقامه للمرأة مع القدرة عليه.

اسی کے تحت فتاویٰ شامی میں ہے: ” أي في الثواب إذا وجدت النية، وذلك أن المواظبة عليه تضعف أسنانها فيستحب لها فعله “۔

ترجمہ: عورت کے لیے مسواک پر قدرت ہونے کے باوجود علک ( گوند ) مسواک کے ثواب میں قائم مقام ہو جائے گی جب ( ثواب کی ) نیت پائی جائے گی، یہ اس وجہ سے ہے کہ مسواک پر مواظبت ( یعنی ہمیشگی ) سے عورتوں کے دانت کمزور ہو جاتے ہیں لہذا ان کے لئے علک کرنا مستحب ہے۔

( رد المحتار علی الدر المختار، جلد 01، صفحہ 115، مطبوعہ دار الفکر بیروت )۔

ملفوظاتِ اعلیٰ حضرت میں ہے : ’’ عورَتوں کے لیے مِسواک کرنا اُمُّ الْمُؤمنین حضرتِ عائشہ صِدِّیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا کی سُنَّت ہے لیکن اگر وہ نہ کریں تو حرج نہیں۔ ان کے دانت اور مُسَوڑھے بہ نسبت مردوں کے کمزور ہوتے ہیں، ( ان کیلئے ) مسی یعنی دَنداسہ کافی ہے ‘‘۔

(ملفوظاتِ اعلیٰ حضرت صفحہ 357، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ کراچی )۔

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

              کتبہ            

 سگِ عطار ابو احمد محمد رئیس عطاری بن فلک شیر غفرلہ

نظرِ ثانی: ابو احمد مفتی انس رضا قادری دامت برکاتہم العالیہ

( مورخہ 19 ربیع الاول 1443ھ بمطابق 26 اکتوبر 2021ء بروز منگل )۔