نیٹ سے کسی جائز کام کا پروجیکٹ لے کر آگے کسی سے کم پیسوں میں کروانا کیسا ہے

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس بارے میں کہ نیٹ سے کسی جائز کام کا پروجیکٹ لے کر آگے کسی سے کم پیسوں میں کروانا کیسا ہے یعنی ایک بندے نے ویب پیج بنوانے کے لیے ہم سے ایگریمنٹ کیا ہم وہ کام کسی اور سے کم پیسوں میں کروا کر بقیہ پیسے رکھ سکتے ہیں؟

الجواب بعون الملک الوهاب اللهم هداية الحق والصواب

انٹرنیٹ کے ذریعے کسی جائز کام کا پروجیکٹ زیادہ اجرت کے عوض لے کر کسی اور سے کم پیسوں میں وہ کام کروانا جائز ہے اور اس سے حاصل ہونے والا نفع بھی حلال ہے جبکہ پروجیکٹ دینے والے نے لینے والے سے ہی کام کروانے کی شرط نہ رکھی ہو۔وجہ یہ ہے کہ یہ کام کا اجارہ ہے اور کام کا اجارہ کرنے والا خود بھی وہ کام کر سکتا ہے اپنے ملازمین سے بھی کروا سکتا ہے اور کسی دوسرے شخص سے بھی وہ کام کروا سکتا ہے۔

در مختار میں ہے:” (و ان اطلق کان لہ) ای: للاجیر ان یستاجر غیرہ”ترجمہ: اور اگر اسی سے کام کروانے کی قید نہیں لگائی تو اجیر کے لئے جائز ہے کہ کسی اور سے اس کام کا اجارہ کرلے۔

(در مختار مع رد المحتار،جلد 9،کتاب الاجارہ،صفحہ 31،دار المعرفہ)

البحر الرائق میں ہے:”(وان اطلق کان لہ ان یستاجر غیرہ) لان المستحق عمل فی ذمتہ و یمکن استیفاؤہ بنفسہ و بالاستعانۃ بغیرہ بمنزلۃ ایفاء الدین”ترجمہ: اور اگر اسی سے کام کروانے کی قید نہیں تو اجیر کے لئے جائز ہے کہ کسی اور سے اس کام کا اجارہ کرلے اس لئے کہ اجرت کا مستحق اس وقت ہوگا جب اپنے ذمے لگا ہوا کام کرے گا اور اس کام کو پورا کرنا خود بھی ممکن ہے اور کسی دوسرے سے کروانا بھی ممکن ہے یہ دین کی ادائیگی کی طرح ہے(کہ خود بھی ادا کر سکتا ہے اور کسی سے لے کر بھی ادا کر سکتا ہے)۔

بہار شریعت میں ہے:”جس سے کام کرانا ہے اگر اس سے یہ شرط کرلی ہے کہ تم کو خود کرنا ہوگا یا کہہ دیا کہ تم اپنے ہاتھ سے کرنا اس صورت میں خود اسی کو کرنا ضروری ہے اپنے شاگرد یا کسی دوسرے شخص سے کام کرانا جائز نہیں  اور کرادیا تو اجرت واجب نہیں اس صورت میں سے دایہ کا استثنا ہے کہ وہ دوسری سے بھی کام لے سکتی ہے۔ اور اگر یہ شرط نہیں  ہے کہ وہ خود اپنے ہاتھ سے کام کرے گا دوسرے سے بھی کراسکتا ہے اپنے شاگرد سے کرائے یا نوکر سے کرائے یا دوسرے سے اجرت پر کرائے سب صورتیں جائز ہیں

(بہارشریعت،جلد3،صفحہ119،مکتبہ المدینہ)

واللہ اعلم عزوجل و رسولہ اعلم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

کتبہ : ابو بنتین محمد فراز عطاری مدنی بن محمد اسماعیل

نظرِ ثانی: ابو احمد مفتی انس رضا قادری دامت برکاتہم العالیہ

( مورخہ 11 سمبر 2021 بمطابق 6 جمادی الاول،1443ھ بروز ہفتہ)