معانقہ کرنا سنت ہے یا نہیں

سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین مسئلہ ذیل میں کہ معانقہ کرنا سنت ہے یا نہیں ؟ 

 الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب۔

معانقہ کرنا ( یعنی گلے ملنا ) سنت ہے، احادیث سے یہ ثابت ہے اور علمائے کرام نے اس کی صراحت کی ہے۔ ہمارے یہاں مختلف مواقع پر معانقہ کیا جاتا ہے جیسے جمعہ و عیدین اور سفر سے واپسی پر وغیرہ، یہ اچھا عمل ہے اور سنت کی ادائیگی کی نیت ہوگی تو سنت کا ثواب بھی ملے گا۔

ابو داؤد شریف میں ہے: ” أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَلَقَّى جَعْفَرَ بْنَ أَبِي طَالِبٍ فَالْتَزَمَهُ وَقَبَّلَ مَا بَيْنَ عَيْنَيْهِ “.

ترجمہ: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت جعفر بن ابو طالب سے ملے تو آپ نے انہیں لپٹا لیا اور ان کی دونوں آنکھوں کے درمیان بوسہ دیا۔

( سنن أبي داود في أول كتاب الأدب، باب في قبلة ما بين العينين، جلد 04، صفحہ 356، مطبوعہ مکتبۃ العصریہ بیروت )۔

سنن الترمذی میں ہے: ” عن ‌عائشة قالت: «قدم زيد بن حارثة» المدينة، ورسول الله صلى الله عليه وسلم في بيتي فأتاه فقرع الباب، فقام إليه رسول الله صلى الله عليه وسلم: عريانا يجر ثوبه، والله ما رأيته عريانا قبله ولا بعده، فاعتنقه وقبله “.

ترجمہ: حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا سے روایت ہے کہ حضرت سیدنا زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ مدینہ آئے اور رسول الله صلی الله علیہ وسلم میرے گھر میں تھے وہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس حاضر ہوئے اور دروازہ کھٹکھٹایا تو رسول الله صلی الله علیہ وسلم ان کی طرف برہنہ ( یعنی بغیر قمیص پہنے ) چلے اپنا کپڑا کھینچتے ہوئے، بخدا میں نے آپ کو برہنہ دیکھا نہ اس سے پہلے نہ اس کے بعد تو حضور نے انہیں گلے لگالیا انہیں چوما۔

( سنن الترمذی، جلد 04، صفحہ 450، مطبوعہ دارالغرب الاسلامی-بیروت )۔

مفتی احمد یار خان نعیمی علیہ الرحمہ اس حدیث پاک کے تحت فرماتے ہیں: ” اس حدیث سے معلوم ہوا کہ خوشی میں کسی سے گلے ملنا سنت ہے لہذا عید کے معانقہ کو حرام نہیں کہا جاسکتا “۔

( مرآۃ المناجیح جلد 06، صفحہ 302، مطبوعہ نعیمی کتب خانہ گجرات )۔

میرے آقا اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمٰن معانقہ کے بارے میں دلائل دینے کے بعد ارشاد فرماتے ہیں: ” بالجملہ احادیث اس ( یعنی معانقہ کے سنت ہونے کے ) بارے میں بکثرت وارد، اور تخصیصِ سفر محض بے اصل و فاسد، بلکہ سفر و بے سفر ہر صورت میں معانقہ سنت، اور سنت جب ادا کی جائے گی سنت ہی ہوگی۔

( فتاویٰ رضویہ، جلد 08، صفحہ 615، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن لاہور )۔

واللہ اعلم عزوجل و رسولہ الکریم اعلم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

             کتبہ            

 سگِ عطار محمد رئیس عطاری بن فلک شیر غفرلہ

نظرِ ثانی: ابو احمد مفتی انس رضا قادری دامت برکاتہم العالیہ

( مورخہ 01 ربیع الغوث 1443ھ بمطابق 07 نومبر 2021ء بروز اتوار )۔