کیا مرد بوسکی کپڑا پہن سکتا ہے ؟

سوال:کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلے کے بارے میں کہ کیا مرد بوسکی(boski) کپڑا پہن سکتا ہے ؟

الجواب بعون الملك الوھاب اللھم ھدایة الحق و الصواب؟

شرعی اعتبار سے مرد کو ریشم کا کپڑا پہننا حرام ہے اور ریشم سے مراد وہ کپڑا ہے جو ریشم کے کیڑوں سے حاصل ہونے والے تار سے بنایا جاتا ہے۔سوال میں جس کپڑے کا ذکر ہے وہ اور اس کے علاوہ دیگر برانڈز جو مارکیٹ میں ریشمی کپڑے کہلاتے ہیں عوام نے ان کپڑوں کی نرمی اور نزاکت کی وجہ سے انکو ریشم سمجھ لیا ہے لیکن ان کپڑوں میں اصلی ریشم نہیں ہوتا بلکہ ان میں پولیسٹر ہوتا ہے یا پھر ریڈیم کی ملاوٹ کر کے اسکو چمکدار بنایا جاتا ہے جس سے وہ ریشم کی طرح لگتا ہے،یہ ہماری تحقیق ہے اگر حقیقتا ایسا ہی ہے تو اس کا استعمال جائز ہے مگر پھر بھی اس سے بچنا بہتر ہے تاکہ لوگ بدگمان نہ ہوں۔

حدیث پاک میں ہے: “ان اللہ عزوجل احل لاناث امتی الحریر و الذھب و حرّمه علی ذکورھا”ترجمہ: بے شک اللہ پاک نے میری امت کی عورتوں پر ریشم اور سونے کو حلال رکھا اور مردوں پر ان دونوں کو حرام کیا۔

(سنن النسائي، کتاب الزینۃ من السنن، باب تحریم الذھب علی الرجال، الحدیث ۵۱۵۸)

اعلیٰ حضرت امام اہلسنت الشاہ امام احمد رضا خان علیہ الرحمہ ریشم کی تعریف بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں : “ریشم کے کیڑے پرورش کئے جاتے ہیں جب ان کے انڈے بچے ہوکر بڑے ہوتے ہیں تو پانی میں ان کو جوش دیا جاتا ہے جب وہ گھل جاتے ہیں تو ان سے تار نکالا جاتاہے وہی ریشم ہے۔”

(فتاوی رضویہ، جلد22، صفحہ178،رضا فاؤنڈیشن لاہور)

فتاوی امجدیہ میں اسی طرح کے سوال کے جواب میں مفتی امجد علی اعظمی رحمہ اللہ تعالیٰ علیہ لکھتے ہیں: “اگر یہ چینا سلک نقلی ریشم ہو تو جائز ہوگا جو لوگ اس کے ماہر ہیں وہ شناخت کر سکیں گے کہ یہ اصلی ریشم ہے بہر حال اگر اسکا نقلی ہونا ثابت ہوجائے تو حرام نہ ہوگا پھر بھی احتیاط چاہیے اگرچہ حرام نہ ہو مگر لوگوں کو بدگمانی کا موقع ہے اور ایسے امور سے پرہیز چاہیے حدیث شریف میں ہے “اتقوا مواضع التھم تہمت کی جگہوں سے پرہیز کرو۔

(فتاوی امجدیہ، جلد4، صفحہ64، مکتبہ رضویہ)

البتہ کسی کپڑے میں اصلی ریشم ہو تو اسکا پہننا حرام ہی رہے گا۔

واللہ اعلم عزوجل و رسولہ اعلم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

کتبہ : ابو بنتین محمد فراز عطاری مدنی بن محمد اسماعیل

نظرِ ثانی: ابو احمد مفتی انس رضا قادری دامت برکاتہم العالیہ

(تاریخ 05صفرالمظفر1440ھ بمطابق 15 اکتوبر 2018ء،بروز پیر)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔