سلام میں مغفرتہ کا اضافہ کرنا کیسا؟

سوال:کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلے کے بارے میں کہ سلام میں مغفرتہ کا اضافہ کرنا کیسا؟

الجواب بعون الملك الوھاب اللھم ھدایة الحق و الصواب

سلام کے الفاظ جو تقریبا احادیث میں منقول ہیں وہ برکاتہ تک ہی ہیں اور یہی سنت مبارکہ ہے،برکاتہ کے بعد کسی لفظ کا اضافہ کرنا سنت نہیں اس لئے جو سنت ہے اسی کا اتباع کیا جائے کہ اسی میں برکت ہے البتہ اگر کسی نے برکاتہ کے بعد مغفرتہ کا اضافہ کردیا  تو گناہ نہیں۔

در مختار میں ہے:”ولا يزيد الراد على وبركاته” ترجمہ: سلام کا جواب دینے والا وبرکاتہ کے بعد کسی چیز کا اضافہ نہ کرے۔

اس کے تحت رد المحتار میں ہے: “قال فی التاترخانیة : و الافضل للمسلم ان یقول:السلام علیکم و رحمة الله و بركاته، و المجيب كذلك يرد، ولا ينبغي ان يزاد على البركات شئی” ترجمہ: تاترخانیہ میں فرمایا : مسلمان کیلئے افضل یہ ہے کہ السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ کہے اور جواب دینے والا بھی اسی طرح جواب دے اور وبرکاتہ پر کسی لفظ کا اضافہ کرنا مناسب نہیں۔

(رد المحتار علی الدر المختار، ج 9، کتاب الحظر و الاباحۃ باب الاستبراء و غیرہ، صفحہ 593،مکتبہ دار عالم الکتب)

موطا امام محمد میں ہے :”قال ابن عباس: ان السلام انتھی الی البرکۃ” ترجمہ: حضرت عبد اللہ ابن عباس رضی اللہ عنھما نے فرمایا: سلام برکاتہ پر مکمل ہوجاتا ہے۔

اس کے تحت امام محمد رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : “و بھذا ناخذ: اذا  قال السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ فلیکفف فان اتباع السنۃ افضل” ترجمہ: اسی پر ہمارا عمل ہے کہ جب کوئی السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ کہیے تو چاہیے کہ اس پر زیادتی سے رک جائے اس لئے کہ بے شک سنت کی پیروی کرنا افضل ہے۔

(الموطا للام محمد، ابواب السیر، باب رد السلام، ج 2، حدیث 913، صفحہ 357، مکتبۃ البشری)

اعلی حضرت امام اہلسنت امام احمد رضا خان علیہ الرحمۃ اسی طرح کے سوال کے جواب میں فرماتے ہیں: کم از کم السلام علیکم اوراس سے بہتر ورحمۃ اللہ ملانا اور سب سے بہتر وبرکاتہ شامل کرنا اور اس پر زیادت نہیں۔ پھرسلام کرنے والے نے جتنے الفاظ میں سلام کیا ہے جواب میں اتنے کا اعادہ تو ضرور ہے اور افضل یہ ہے کہ جواب میں زیادہ کہے۔ اس نے السلام علیکم کہا تویہ وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ کہے۔ اور اگر اس نے السلام علیکم ورحمۃ اللہ کہا تو یہ وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ کہے اوراگر اس نے وبرکاتہ تک کہا تو یہ بھی اتنا ہی کہے کہ اس سے زیادت نہیں۔

(فتاوی رضویہ، جلد22، صفحہ409، رضا فاؤنڈیشن)

بہار شریعت میں ہے: بہتر یہ ہے کہ سلام میں رحمت و برکت کا بھی ذکر کرے یعنی السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہٗ کہے اور جواب دینے والا بھی وہی کہے برکاتہ، پر سلام کا خاتمہ ہوتا ہے۔ اس کے بعد اور الفاظ زیادہ کرنے کی ضرورت نہیں۔

(بہار شریعت، ج3 ، حصہ16، صفحہ 459-460، مکتبۃ المدینہ)

واللہ اعلم عزوجل و رسولہ اعلم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

کتبہ : ابو بنتین محمد فراز عطاری مدنی بن محمد اسماعیل

نظرِ ثانی: ابو احمد مفتی انس رضا قادری دامت برکاتہم العالیہ

(تاریخ 11اکتوبر 2018، بمطابق 1 صفر المظفر1440ھ،بروز جمعرات)