کپورے کھانا کیسا

سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین مسئلہ ذیل میں کہ کپورے کھانا کیسا ہے؟ 

الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب۔

کپورے کھانا مکروہِ تحریمی یعنی ناجائز و گناہ ہے؛ کیونکہ احادیثِ مبارکہ میں اس کو کھانے کی ممانعت بیان کی گئی ہے۔

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے: ’’ کان رسول ﷲصلی ﷲ تعالی علیہ وسلم یکرہ من الشاۃ سبعا المرارۃ، والمثانۃ، والحیاء، والذکر، والانثیین، والغدۃ، والدم‘‘۔

ترجمہ: رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم بکری کی سات چیزوں کو مکروہ قرار دیتے تھے: پتہ، مثانہ، شرمگاہ، ذکر،، کپورے، غدود اور خون۔

 ( المعجم الاوسط، جلد 10، صفحہ217، مطبوعہ دار المعارف، ریاض )۔

 تنویر الابصار میں ہے: ” کرہ تحریما من الشاۃ سبع الحياء والخصية والغدة والمثانة والمرارة والدم المسفوح والذكر “۔

ترجمہ: بکری کے سات اعضاء کو کھانا مکروہ تحریمی ہے: شرمگاہ، کپورے، غدود، مثانہ، پتہ، بہنے والا خون اور ذَکر۔

(تنویر الابصار مع درمختار، جلد 06، صفحہ 749، مطبوعہ دارالفکر، بیروت )۔

فتاوی عالمگیری میں ہے: ” مایحرم اکلہ من اجزاء الحیوان سبعۃ الدم المسفوح والذکر والانثیان والقبل والغدۃ والمثانۃ والمرارۃ “۔ترجمہ:حلال جانور کے جن سات اعضاء کو کھانا، ناجائز ہے، وہ یہ ہیں: بہنے والا خون، ذَکر، کپورے، شرمگاہ، غدود، مثانہ اور پتہ۔

( فتاوی عالمگیری، کتاب الذبائح، جلد 05، صفحہ290، مطبوعہ دار الفکر بیروت ).

سیدی و مرشدی بانی دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطار قادری رضوی ضیائی دامت برکاتہم العالیہ اپنے رسالہ ” ابلق گھوڑے سوار “ میں ارشاد فرماتے ہیں: ” کپُورے کو خُصیَہ، فَوطہ یا بَیْضَہ بھی کہتے ہیں ان کا کھانا مکروہ تحریمی ہے۔ یہ بیل، بکرے وغیرہ ( نَر یعنی مُذَکَّر ) میں نُمایاں ہوتے ہیں۔ مُرغے ( نَر ) کا پیٹ کھول کر آنتیں ہٹائیں گے تو پیٹھ کی اندرونی سطح پر انڈے کی طرح سفید دوچھوٹے چھوٹے بیج نُما نظر آئیں گے یہی کپُورے ہیں۔ ان کو نکال دیجئے۔ افسوس! مسلمانوں کی بعض ہوٹلوں میں دل، کلیجی کے علاوہ بیل، بکرے کے کپُورے بھی توے پر بھون کر پیش کئے جاتے ہیں غالِباً ہوٹل کی زَبان میں اس ڈِش کو ’’کَٹا کَٹ ‘‘کہاجاتا ہے۔ (شاید اس کو ’’ کَٹاکَٹ ‘‘ اِس لئے کہتے ہیں کہ گاہک کے سامنے ہی دِل یا کپُورے وغیرہ ڈال کر تیز آواز سے توے پر کاٹتے اور بُھونتے ہیں اِس سے ’’ کَٹاکَٹ ‘‘ کی آواز گونجتی ہے )۔

( ابلق گھوڑے سوار، صفحہ 40-41، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ کراچی ).

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

               کتبہ            

 سگِ عطار محمد رئیس عطاری بن فلک شیر غفرلہ

نظرِ ثانی: ابو احمد مفتی انس رضا قادری دامت برکاتہم العالیہ

( مورخہ یکم صفر المظفر 1442ھ بمطابق 09 ستمبر 2021ء بروز جمعرات )۔