ائینہ سلک لباس مرد کے لیے پہننا کیسا

سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین مسئلہ ذیل میں کہ آج کل جو چائینہ سلک لباس چل رہا ہے مرد کے لیے یہ پہننا کیسا ہے؟ بینوا توجروا۔

الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب۔

مرد کے لئے ہر وہ لباس پہننا جائز ہے جو ریشم سے نہ بنا ہو، کسم یا زعفران کا رنگا ہوا کپڑا پہننا مرد کو منع ہے گہرا رنگ ہو کہ سرخ ہوجائے یا ہلکا ہو کہ زرد رہے دونوں کا ایک ہی حکم ہے، تکبر کے طور پر جو لباس ہو وہ بھی منع ہے ( تکبر ہے یا نہیں اس کی پہچان کا طریقہ یہ ہے کہ ان کپڑوں کے پہننے سے پہلے اپنی جو حالت پاتا تھا اگر پہننے کے بعد بھی وہی حالت ہے تو معلوم ہوا کہ ان کپڑوں سے تکبر پیدا نہیں ہوا، اگر وہ حالت اب باقی نہیں رہی تو تکبر آ گیا۔ لہٰذا ایسے کپڑے سے بچے کہ تکبر بہت بری صفت ہے )۔ آج کل جو چائینہ سلک لباس چل رہا ہے مرد کے لیے یہ پہننا جائز ہے جبکہ شوخ نہ ہو ( یعنی عورتوں سے مشابہت نہ ہو ) کیونکہ یہ ریشم سے نہیں بنا ہوتا بلکہ پولیسٹر یا پھر ریڈیم کی ملاوٹ کر کے اسکو چمکدار بنایا جاتا ہے جس سے وہ ریشم کی طرح لگتا ہے، یہ ہماری تحقیق ہے اگر حقیقتاً ایسا ہی ہے تو اس کا استعمال جائز ہے مگر پھر بھی اس سے بچنا بہتر ہے تاکہ لوگ بدگمان نہ ہوں۔

امام بخاری نے ابنِ عباس  رضی اللّٰہ تعالٰی عنہما سے روایت کی کہ ” قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : ” كُلُوا وَاشْرَبُوا، وَالْبَسُوا وَتَصَدَّقُوا فِي غَيْرِ إِسْرَافٍ وَلَا مَخِيلَةٍ”.ترجمہ : اللہ پاک کے آخری نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ” تُو جو چاہے کھا اور تُو جو چاہے پہن، جب تک دو باتیں نہ ہوں، اسراف و تکبر ‘‘۔

(6… ’’ صحیح البخاري ‘‘ ،کتاب اللباس، باب قول اللّٰہ تعالٰی:{ قُلْ مَنْ حَرَّمَ زِیْنَةَ اللّٰهِ الَّتِیْۤ اَخْرَ جَ لِعِبَادِهٖ }، جلد 07، صفحہ 140، مطبوعہ دار طوق النجاۃ بیروت )۔

حدیث پاک میں ہے: ” عَنْ أَبِي مُوسَى ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : ” إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ أَحَلَّ لِإِنَاثِ أُمَّتِي الْحَرِيرَ وَالذَّهَبَ، وَحَرَّمَهُ عَلَى ذُكُورِهَا “. “.ترجمہ: حضرت ابو موسیٰ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ” بے شک اللہ پاک نے میری امت کی عورتوں پر ریشم اور سونے کو حلال رکھا اور مردوں پر ان دونوں کو حرام کیا “۔

(سنن النسائي، جلد 08، صفحہ 190، مطبوعہ مکتب المطبوعات الاسلامیہ – حلب )

اعلیٰ حضرت امامِ اہلسنت الشاہ امام احمد رضا خان علیہ الرحمہ ریشم کی تعریف بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں : ” ریشم کے کیڑے پرورش کئے جاتے ہیں جب ان کے انڈے بچے ہوکر بڑے ہوتے ہیں تو پانی میں ان کو جوش دیا جاتا ہے جب وہ گھل جاتے ہیں تو ان سے تار نکالا جاتاہے وہی ریشم ہے “.

( فتاوی رضویہ، جلد 22، صفحہ 178، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن لاہور )۔

فتاوی امجدیہ میں اسی طرح کے سوال کے جواب میں مفتی امجد علی اعظمی رحمہ اللہ تعالیٰ علیہ لکھتے ہیں: ” اگر یہ چینا سلک نقلی ریشم ہو تو جائز ہو گا جو لوگ اس کے ماہر ہیں وہ شناخت کر سکیں گے کہ یہ اصلی ریشم ہے بہر حال اگر اسکا نقلی ہونا ثابت ہوجائے تو حرام نہ ہو گا پھر بھی احتیاط چاہیے اگرچہ حرام نہ ہو مگر لوگوں کو بدگمانی کا موقع ہے اور ایسے امور سے پرہیز چاہیے حدیث شریف میں ہے: ” اتقوا مواضع التھم “ یعنی تہمت کی جگہوں سے پرہیز کرو۔

( فتاوی امجدیہ، جلد 40، صفحہ 64، مطبوعہ مکتبہ رضویہ )۔

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم 

                   کتبہ            

 سگِ عطار محمد رئیس عطاری بن فلک شیر غفرلہ

نظرِ ثانی: ابو احمد مفتی انس رضا قادری دامت برکاتہم العالیہ

( مورخہ 29 محرم الحرام 1442ھ بمطابق 06 ستمبر 2021ء بروز پیر )۔