کالا جوتا اور کالا موزہ پہننا

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین مسئلہ ذیل میں کہ کالا جوتا اور کالا موزہ پہننا کیسا ہے؟ ب

الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

کالے جوتے پہننے سے بچنا چاہیے کیونکہ یہ غم کا سبب بنتے ہیں، اس کی جگہ پیلے رنگ کے جوتے پہننے چاہیے کیونکہ اس سے غم کم ہوتے ہیں۔ نیز کالے رنگ کے موزے پہننا علماءِ کرام کا طریقہ ہے لہذا کالے رنگ کے موزے پہن سکتے ہیں۔

اللہ پاک قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے: « اِنَّهَا بَقَرَةٌ صَفْرَآءُۙ-فَاقِعٌ لَّوْنُهَا تَسُرُّ النّٰظِرِیْنَ ». ترجمہ کنزالایمان: وہ ایک پیلی گائے ہے جس کی رنگت ڈہڈہاتی دیکھنے والوں کو خوشی دیتی۔

اس آیتِ مبارکہ کے تحت تفسیرِ قرطبی میں ہے: ” قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: الصُّفْرَةُ تَسُرُّ النَّفْسَ. وَحَضَّ عَلَى لِبَاسِ النِّعَالِ الصُّفْرِ، حَكَاهُ عَنْهُ النَّقَّاشُ. وَقَالَ علي ابن أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: مَنْ لَبِسَ نَعْلَيْ جِلْدٍ أَصْفَرَ قَلَّ هَمُّهُ، لِأَنَّ اللَّهَ تَعَالَى يَقُولُ: ” صَفْراءُ فاقِعٌ لَوْنُها تَسُرُّ النَّاظِرِينَ” حَكَاهُ عَنْهُ الثَّعْلَبِيُّ. وَنَهَى ابْنُ الزُّبَيْرِ وَمُحَمَّدُ بْنُ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ لِبَاسِ النِّعَالِ السُّودِ، لِأَنَّهَا تُهِمُّ “. ترجمہ: حضرت ابنِ عباس رضی اللّٰہ عنھما فرماتے ہیں: ” زرد ( یعنی پیلا رنگ دل کو خوش کرتا ہے۔ ( مزید ) آپ نے پیلے رنگ کے جوتے پہننے کی بھی ترغیب دلائی۔ یہ روایت حضرت ابنِ عباس رضی اللّٰہ عنھما سے حضرتِ نقاش نے بیان کی ہے۔ حضرتِ سیدنا علی المرتضی کرم اللہ وجہ الکریم فرماتے ہیں: ” جس نے پہلے رنگ کا جوتا پہنا اس کے غم کم ہوں گے؛ کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ” صَفْراءُ فاقِعٌ لَوْنُها تَسُرُّ النَّاظِرِينَ “۔

اور حضرت سیدنا عبد اللہ بن زبیر اور محمد بن ابو کثیر علیھما الرحمہ نے کالے جوتے پہنے سے منع فرمایا ہے کیونکہ یہ غم کا باعث ہوتے ہیں “۔

 ( تفسیرِ القرطبی، جلد 01، صفحہ 451، مطبوعہ دارالکتب المصریہ- قاہرہ )۔

اعلی حضرت امام احمد رضا خان علیہ الرحمہ فرماتے ہیں : سیاہ جوتا رنج ( یعنی غم ) اور زرد ( yellow ) خوشی لاتا ہے۔

( حیاتِ اعلیٰ حضرت، جلد 03، صفحہ 97، مطبوعہ فیضانِ امام احمد رضا لاہور )

( یاد رہے کہ سیاہ جوتے کے استعمال سے منع فرمانے کا مطلب ہر گز یہ نہیں کہ سیاہ جوتے کا استعمال ناجائز و حرام ہے۔ استعمال کر سکتے ہیں مگر اجتناب کرنا ( یعنی بچنا ) مناسب معلوم ہوتا ہے )

کالے رنگ کے موزے کے حوالے سے فقہ حنفی کی مشہور کتاب ” فتاویٰ عالمگیری “ میں ہے: ” الْخُفُّ الْأَحْمَرُ خُفُّ فِرْعَوْنَ وَالْخُفُّ الْأَبْيَضُ خُفُّ هَامَانَ وَالْخُفُّ الْأَسْوَدُ خُفُّ الْعُلَمَاءِ “. ترجمہ: سرخ رنگ کے موزے فرعون کے، سفید رنگ کے موزے ہامان کے، اور کالے رنگ کے موزے علماء کے موزے ہوتے ہیں۔

( الفتاویٰ الھندیۃ، جلد 05، صفحہ 334، مطبوعہ دار الفکر بیروت )

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

                     کتبہ            

 سگِ عطار محمد رئیس عطاری بن فلک شیر غفرلہ

نظرِ ثانی: ابو احمد مفتی انس رضا قادری دامت برکاتہم العالیہ

( مورخہ 04 محرم الحرام 1442ھ بمطابق 13 اگست 2021ء بروز جمعہ )