شیئرز کا کاروبار جائز ہے یا نہیں

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین اس بارے  میں کہ شیئرز کا کاروبار جائز ہے یا نہیں؟

الجواب بعون الملک الوهاب اللهم هداية الحق والصواب

شیئرز کے کاروبار میں کئی شرعی خرابیاں پائی جاتی ہیں لہذا اس کا کاروبار ناجائز ہے،مثلا ترجیحی حصص میں شیئر ہولڈر کو قرض کے عوض نفع ملتا ہے جو کہ سود ہے،اسی طرح مساواتی حصص والا شیئر ہولڈر ترجیحی حصص والوں کا نقصان پورا کرنے کے لئے براہ راست سود کی ادائیگی کرتا ہے اور بعض علماء کے  نزدیک سود کی ادائیگی میں تعاون کرتا ہے،بہر دو صورت یہ حرام ہے،اس کے علاوہ خرید و فروخت کا طریقہ شرعی اصولوں کے خلاف ہوتا ہے جیسے بعض اوقات جو چیز موجود نہیں ہوتی اس کی خرید و فروخت ہو رہی ہوتی ہے خصوصا ابتدائی شیئرز میں جہاں چیز کا وجود ہی نہیں ہوتا اور بیع ہو رہی ہوتی ہے یہ بھی ناجائز ہے،پھر ایک عمومی خرابی یہ ہے کہ منقولی چیز پر قبضہ کیے بغیر آگے شیئر بیچا جا رہا ہوتا ہے جو کہ ناجائز ہے۔

حدیث پاک میں ہے:”کل قرض جر منفعۃ فھو ربا”ہر وہ قرض جو نفع لائے وہ سود ہے۔

(کنز العمال،الکتاب الثانی،الباب الثانی،فصل في لواحق كتاب الدين،جلد 6،صفحہ 238)

اللہ پاک فرماتا ہے:”وَ اَحَلَّ اللّٰهُ الْبَیْعَ وَ حَرَّمَ الرِّبٰواؕ”ترجمہ:حالانکہ اللہ نے خرید و فروخت کو حلال کیا اورسود کو حرام کیا۔(البقرہ:275)

مسلم شریف میں ہے:”لعن رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم اکل الربا و موکلہ و کاتبہ و شاھدیہ” ترجمہ :رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے سود کھانے والے ، کھلانے والے ، سود لکھنے والے اور سود کے گواہوں پر لعنت فرمائی ہے ۔

(مسلم ، جلد 3،کتاب البیوع،باب الربا،صفحہ 1219،دار احیاء التراث)

اللہ پاک فرماتا ہے:”وَ لَا تَعَاوَنُوْا عَلَى الْاِثْمِ وَ الْعُدْوَانِ”ترجمہ:اور گناہ اور زیادتی پر باہم مدد نہ کرو۔(المائدہ:2)

حدیث پاک میں ہے:”لا یحل بیع ما لیس عندک”ترجمہ:جو چیز تیرے پاس موجود نہیں اس کی بیع حلال نہیں۔

(ابن ماجہ،جلد3،کتاب التجارات،باب النهي عن بيع ما ليس عندك،صفحہ 31،دار المعرفہ)

عن عبد اللہ رضي اللہ عنه قال : ” كانوا يبتاعون الطعام في اعلى السوق فيبیعونه في مكانه، فنهاهم رسول اللہ صلى اللہ عليه وسلم أن يبيعوه في مكانه حتى ينقلوه.” ترجمہ:حضرت عبد اللہ ابن عمر رضی اللہ عنھما سے روایت ہے فرماتے ہیں: لوگ بازار میں غلہ خرید کر اُسی جگہ (بغیر قبضہ کیے) بیچ ڈالتے تھے۔رسول اللہ صلی اللہ  تعالٰی علیہ وسلم   نے اسی جگہ بیع کرنے سے منع فرمایا، جب تک منتقل نہ کرلیں۔

(صحیح البخاري،کتاب البیوع،باب منتہی التلقی،الحدیث: 2167،صفحہ 519،دار ابن کثیر)

قال ابن عباس : ولا أحسب كل شيء إلا مثله” ترجمہ: عبداللہ  بن عباس رضی اللہ  تعا لٰی عنہما کہتے ہیں  ، جس کو رسول اللہ  صلی اللہ  تعالٰی علیہ و سلم   نے قبضہ سے پہلے بیچنا منع کیا، وہ غلہ ہے مگر میرا گمان یہ ہے کہ ہر(منقولی) چیز کا یہی حکم ہے۔

(بخاري،کتاب البیوع،باب بیع الطعام قبل ان یقبض،صفحہ 513،حدیث 2136،دار ارقم)

عمدۃ القاری میں ہے:”قولہ(حتی ینقلوہ) الغرض منہ:حتی یقبضوہ لان العرف فی قبض المنقول ان ینقل عن مکانہ” ترجمہ: منتقل کرنے سے مراد قبضہ کرنا ہے کیونکہ منقولی اشیاء میں عرف یہی ہے کہ اس جگہ سے منتقل کر کے قبضہ کرتے ہیں۔

(عمدۃ القاری،جلد 11،صفحہ 410،دار الکتب العلمیہ)

مفتی اعظم پاکستان مفتی وقار الدین رضوی قادری رحمۃ اللہ علیہ ارشاد فرماتے ہیں:”کسی کمپنی کے شیئرز خریدنے کا مطلب یہ ہے کہ آپ نے اس کمپنی کے ایک حصہ کو خریدلیا ہے اور آپ اس حصہ کے مالک ہوگئے اور وہ کمپنی جو جائز و ناجائز کام کرے گی اس میں آپ بھی حصہ دار ہوں گے۔ جتنی کمپنیاں قائم ہوتی ہیں وہ اپنے شیئرز کے اعلان کے ساتھ مکمل تفصیلات بھی شائع کردیتی ہیں کہ یہ کمپنی کتنے سرمایہ سے قائم کی جائے گی ، اس میں غیر ملکی سرمایہ کتنا ہوگا اور ملکی قرضہ کتنا ہوگا اور کمپنی قائم کرنے والے اپنا کتنا سرمایہ لگائیں گے اورکتنے سرمایہ کے شیئرز فروخت کیے جائیں گے؟ لہٰذا شیئرز خریدنے والااس سود کے لین دین میں شریک ہوجائے گا۔ جس طرح سود لینا حرام ہے اسی طرح سود دینا بھی حرام ہے تو وہ شیئرز خریدنا بھی حرام ہے ۔”

( وقارالفتاوی، جلد1،صفحہ 234،بزم وقارالدین،کراچی)

مفتی نظام الدین صاحب دامت برکاتہم العالیہ فرماتے ہیں:”مساواتی حصص اپنی حقیقتِ شرعیہ کے لحاظ سے سرمایہ شرکت ہیں اور ان کے ذریعے کمپنی میں زرکاری شرکت کی ایک خاص قسم ”شرکت عنان “ہے جو شرعا جائز ہے، اس لیے کمپنی میں یہ زرکاری بھی جائز ہونی چاہیے۔لیکن کمپنی خسارے کی صورت میں اپنے ذمہ کا سود اداکرنے کے لیے ہر شریک سے کچھ نہ کچھ لیتی ہے، تو یہ جانتے ہوئے کمپنی میں شرکت قبول کرنا ایک ناجائز کام میں تعاون کا ذریعہ ہوا، اس لیے کمپنی کا شریک بننا ناجائز ہے۔“

(شیئرز کا کاروبار شرعی مسائل ،صفحہ59،فرید بک سٹال،لاهور)

واللہ اعلم عزوجل و رسولہ اعلم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

کتبہ : ابو بنتین محمد فراز عطاری مدنی بن محمد اسماعیل

نظرِ ثانی: ابو احمد مفتی انس رضا قادری دامت برکاتہم العالیہ

( مورخہ 12 اگست 2021 بمطابق 03 محرم الحرام 1442ھ بروز جمعرات )