بیوی کی دبر (پیٹھ ،پچھلے مقام میں )جماع کو حلال سمجھنا
کیا فرماتے ہیں علماء دین و مفتیان شرع متین اس بارے میں کہ لواطت کوحلال سمجھنے والا تو کافر ہے کیا جو شخص اپنی بیوی کی دبر میں جماع کو حلال سمجھے وہ بھی کافر ہے یا نہیں؟
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
پوچھی گئی صورت کا حکم یہ ہے کہ اللہ پاک نے شہوت کو پورا کرنے کے لئے جائز صورت نکالی ہے کہ سنت نکاح کے ذریعے حلال طریقے کے ساتھ زوجہ سے فرج یعنی آگے والے مقام میں جماع و وطی کی جائے اور یہ فرج ہی مقام حرث یعنی کھیتی (اولاد)کے حصول کا محل ہے۔ مگر بیوی کی دبر یعنی پیچھے کے مقام میں وطی قرآن و سنت کی روشنی میں نہایت غلیظ و شنیع، برا اور ناجائز عمل ہے، بلکہ زنا سے بھی سخت حرام ہے۔ مختلف احادیث مبارکہ میں اس کی مذمّت بیان کی گئی حتی کہ ایک حدیث پاک میں ہے کہ اللہ عزوجل ایسے آدمی کی طرف نظر رحمت نہیں فرماتا، ایک میں ہے کہ ایسا آدمی ملعون ہے۔ معاذاللہ! بہرحال دبر یعنی پیچھے والا مقام غلاظت و گندگی کا مقام(پاخانے کی جگہ)ہے۔ مقام حرث کے بجائے مقام فرث (غلاظت) ہے۔ اگرچہ بعض علما کے نزدیک اس کو عمل جائز سمجھنے والا کافر ہے۔ مگر صحیح و معتمد علیہ قول کے مطابق بیوی کی دبر میں وطی حلال سمجھنے والے کی تکفیر نہیں کی گئی یعنی اسے کافر نہیں کہا جائے گا۔ مگر پھر بھی مذکورہ بالا مذمت اور سخت حکم اس فعل کے برا ہونے کے لئے کافی ہے کہ ہر سلیم الفطرت آدمی اسے ہر گز اچھا نہیں سمجھے گا۔
ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
”نِسَآؤُكُمْ حَرْثٌ لَّكُمْ۪ فَاْتُوْا حَرْثَـكُمْ اَنّٰى شِئْتُمْ وَ قَدِّمُوْا لِاَنْفُسِكُمْؕ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّكُمْ مُّلٰقُوْهُؕ وَ بَشِّرِ الْمُؤْمِنِیْنَ“
ترجمہ: تمہاری عورتیں تمہارے لئے کھیتیاں ہیں تو اپنی کھیتیوں میں جس طرح چا ہو آؤ اور اپنے فائدے کا کام پہلے کرو اور اللہ سے ڈرتے رہو اور جان رکھو کہ تم اس سے ملنے والے ہو اور اے حبیب ایمان والوں کو بشارت دو۔(البقرہ، آیت223)
اس آیتِ مبارکہ کے تحت تفسیر صراط الجنان میں ہے:
”وہ(بیویاں)تمہاری کھیتیاں ہیں یعنی عورتوں کی قربت سے نسل حاصل کرنے کا ارادہ کرو، نہ کہ صرف اپنی خواہش پوری کرنے کا۔ نیز عورت سے ہر طرح ہم بستری جائز ہے لیٹ کر، بیٹھ کر، کھڑے کھڑے، بشرطیکہ صحبت اگلے مقام میں ہو کیونکہ یہی راستہ کھیتی یعنی اولاد کا ثمرہ حاصل کرنے کا ہے۔“(صراط الجنان جلد1،تفسیر سورۂ بقرہ، آیت 223، مکتبۃ المدینہ)
سورة البقرة کی آیت نمبر دو سو تئیس(223) کا شانِ نزول اور اس کی مزید وضاحت کے لیے احادیث مبارکہ درج ذیل ہیں:
”عَنِ ابْنِ الْمُنْکَدِرِ سَمِعْتُ جَابِرًا قَالَ کَانَتِ الْیَهودُ تَقُولُ إِذَا جَامَعَها مِنْ وَرَائِها جَاءَ الْوَلَدُ أَحْوَلَ فَنَزَلَتْ {نِسَـآؤُکُمْ حَرْثٌ لَّـکُمْ فَاْتُوْا حَرْثَکُمْ اَنّٰی شِئْتُمْ وَقَدِّمُوْا لِاَنْفُسِکُمْ ط وَاتَّقُوا اﷲَ وَاعْلَمُوْٓا اَنَّکُمْ مُّلٰقُوْه ط وَبَشِّرِ الْمُؤْمِنِیْنَ }
ترجمہ:ابن المکندر کا بیان ہے کہ میں نے حضرت جابر رضی اللہ تعالٰی عنہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ یہود کہا کرتے تھے کہ جو آدمی پیچھے کی جانب سے عورت کے ساتھ جماع کرتا ہے، تو اس سے پیدا ہونے والا بچہ بھینگا ہوتا ہے۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی: تمہاری عورتیں تمہاری کھیتیاں ہیں اس لیے تم اپنی کھیتیوں میں جیسے چاہو آؤ، اور اپنے لیے آئندہ کا کچھ سامان کر لو۔ اور ﷲ کا تقویٰ اختیار کرو اور جان لو کہ تم اس کے حضور پیش ہونے والے ہو، اور (اے حبیب!) آپ اہلِ ایمان کو خوشخبری سنا دیں ۔(کہ ﷲ کے حضور ان کی پیشی بہتر رہے گی۔)(بخاري، الصحیح، 4: 1645، رقم: 4254، دار ابن کثیر الیمامة بیروت ، مسلم، الصحیح، 2: 1058، رقم: 1435، دار احیاء التراث العربي بیروت ، ترمذي، السنن، 5: 215، رقم: 2978، دار احیاء التراث العربي بیروت ،ابن ماجه، السنن، 1: 620، رقم: 1925، دار الفکر بیروت،)
اس حدیثِ مبارکہ کی شرح بیان کرتے ہوئے مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ تحریر فرماتے ہیں:
”عورت کی دبر میں وطی کرنا تمام دینوں میں حرام ہے اسلام میں حرام قطعی ہے کہ اس کا منکر کافر ہے اس کا مرتکب فاسق و فاجر یہاں یہ مطلب ہے کہ مرد عوت کے پیچھے کھڑے ہو کر یا بیٹھ کر فرج میں صحبت کرے تو بچہ کی آنکھ میں خرابی ہوتی ہے کہ وہ بھینگا ہوتا ہے، اس آیت میں نِساؤکم، سے مراد مطلقًا عورتیں ہیں، خواہ اپنی بیویاں ہوں یا اپنی لونڈیاں اور یہاں بمعنی، این نہیں بلکہ بمعنی، کیف ہے یعنی، تعمیم مکان کے لیے نہیں، بلکہ تعمیم کیفیت کے لیے ہے اسی لیےحرثکم ارشاد ہوا یعنی اپنی کھیتیوں میں جس طرح چاہو جاؤ کھڑے، بیٹھے، لیٹے، آگے سے یا پیچھے سے بشرطیکہ فرج میں صحبت ہو کہ فرج ہی کھیتی ہے نہ کہ اور جگہ اس آیت کی تحقیق ہماری تفسیر نعیمی پارہ دوم میں ملاحظہ کیجئے۔ مقصد یہ ہے کہ جیسے کھیت میں تخم کسی طرح ڈال دو بفضلہ تعالیٰ پیداوار ہوتی ہے یوں ہی اپنی بیوی یا لونڈی کے پاس کسی طرح جاؤ مقدر میں جیسا بچہ ہے ویسا ہوگا آگے پیچھے ہونے سے بچہ پر اثر نہیں پڑتا۔“(مرآۃ المناجیح، شرح مشکوٰۃ المصابیح، جلد5، صفحہ62- نعیمی کتب خانہ گجرات)
مسند احمد،ترمذی اور نسائی وغیرہ کی حدیث پاک میں ہے:
”عَنْ خُزَیْمَة بْنِ ثَابِتٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اﷲِصلیٰ الله علیه وآله وسلم إِنَّ اﷲَ لَا یَسْتَحْیِي مِنْ الْحَقِّ لَا تَأْتُوا النِّسَاءَ فِي أَدْبَارِهنَّ“
حضرت خزیمہ رضیٰ اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ حق بات کہنے سے نہیں شرماتا۔ عورتوں سے ان کے پیچھے کی جگہ میں جماع نہ کرو۔( أحمد بن حنبل، المسند، 5: 214، رقم: 21914، مؤسسة قرطبة مصر،ترمذي، السنن، 3: 468، رقم: 1164،ابن ماجه، السنن، 1: 619، رقم: 1924،نسائي، السنن الکبری، 5: 316، رقم: 8984، دار الکتب العلمیة بیروت)
مسند احمد و ابوداؤد کی حدیث پاک میں ہے:
”عَنْ أَبِي هرَیْرَة قَالَ قَالَ رَسُولُ اﷲِصلیٰ الله عیه وآله وسلم مَلْعُونٌ مَنْ أَتَی امْرَأَتَه فِي دُبُرِها“
حضرت ابوہریرہ رضیٰ اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اپنی بیوی کے پاخانے کے مقام میں صحبت کرنے والا ملعون ہے۔ (أحمد بن حنبل، المسند، 2: 444، رقم: 9731، أبي داؤد، السنن، 2: 249، رقم: 2162، دار الفکر)
ترمذی نسائی وغیرہ کی حدیث پاک میں ہے:
”عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اﷲِصلیٰ الله عیه وآله وسلم لَا یَنْظُرُ اﷲُ إِلَی رَجُلٍ أَتَی رَجُلًا أَوِ امْرَأَة فِي الدُّبُرِ“
حضرت ابن عباس رضی اﷲ عنہما سے روایت ہے حضور نبی اکرم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اس شخص کی طرف (نظر رحمت سے) نہیں دیکھتا جو کسی مرد یا عورت سے غیر فطری عمل کرے۔(ترمذي، السنن، 3: 469، رقم: 1165،نسائي، السنن الکبری، 5: 320، رقم: 9001،أبو یعلی، المسند، 4: 266، رقم: 2378، دار المأمون للتراث دمشق)
فتاوی ہندیہ میں ہے:
”وفي كتاب الحيض للإمام السرخسي لو استحل وطء امرأته الحائض يكفر، وكذا لو استحل اللواطة من امرأته وفي النوادر عن محمد رحمه الله تعالى لا يكفر في المسألتين هو الصحيح“
ترجمہ:امام سرخسی کی کتاب الحیض میں ہے،اگر کسی نے عورت سے حیض کی حالت میں وطی کو حلال کہا تو اس کی تکفیر کی جائے گی،اسی طرح حکم ہے اگر اپنی بیوی سے لواطت کو حلال جانا۔ اور امام محمد رحمہ اللّٰہ سے نوادر میں منقول ہے کہ دونوں مسئلوں میں حلال جاننے والے کی تکفیر نہیں کی جائے گی یعنی اسے کافر نہیں کہا جائے گا۔ یہی صحیح قول ہے۔(ہندیہ،کتاب السیر،الباب التاسع، مطلب في موجبات الكفر۔۔۔، 2/ 273 ، دارالفکر بیروت)
تنویر الابصار و درمختار میں ہے:
”(و) وطؤها (يكفر مستحله) كما جزم به غير واحد، وكذا مستحل وطء الدبر عند الجمهور مجتب (وقيل لا) يكفر في المسألتين، وهو الصحيح خلاصة (وعليه المعول) ؛ لأنه حرام لغيره“
ترجمہ:اور حائضہ سے وطی حلال جاننے والے کی تکفیر کی جائے گی جیسا کہ کئی علما نے جزم فرمایا،اسی طرح دبر میں وطی کو حلال جاننے والے کا حکم ہے۔ جمہور کے نزدیک. اور ایک قول یہ کہ دونوں مسائل میں تکفیر نہیں کی جائے گی یعنی کافر نہیں کہا جائے گا اور یہی صحیح ہے۔اور اسی پر بھروسہ ہے کیونکہ لواطت حرام لغیرہ ہے۔(درمختار مع ردالمختار کتاب الطھارۃ،باب الحیض، 1/ 297 ، دارالفکر بیروت)
علامہ شامی رحمہ اللّٰہ فرماتے ہیں:
”أقول: وسيأتي في كتاب الإكراه أن اللواطة أشد حرمة من الزنا؛ لأنها لم تبح بطريق ما لكون قبحها عقليا، ولذا لا تكون في الجنة على الصحيح. اه۔۔(قوله؛ لأنه حرام لغيره) أي حرمته لا لعينه، بل لأمر راجع إلى شيء خارج عنه وهو الإيذاء.قال في البحر عن الخلاصة: من اعتقد الحرام حلالا أو على القلب يكفر إذا كان حراما لعينه وثبتت حرمته بدليل قطعي. أما إذا كان حراما لغيره بدليل قطعي أو حراما لعينه بإخبار الآحاد لا يكفر إذا اعتقده حلالا. اهـ ومثله في شرح العقائد النسفية“
ترجمہ: میں کہتا ہوں اور عنقریب کتاب الاکراہ میں آئے گا کہ لواطت زنا سے بھی سخت حرام ہے کہ جس کا قبح عقلی ہو کسی طریقے میں مباح نہیں ہوتا اسی لئے یہ معاملہ جنت میں بھی نہیں ہو گا۔۔۔اور مصنف کا قول کہ یہ حرام لغیرہ ہے یعنی اس کی حرمت اس کے عین کے سبب نہیں بلکہ خارجی شئ کے سبب ہے اور وہ گندگی ہے۔بحر میں خلاصہ سے فرمایا جس نے حرام کو حلال جانا یا اس کے برعکس یعنی حلال کو حرام کہا،اس کی تکفیر کی جائے گی جبکہ حرام لعینہ ہو اور اس کی حرمت دلیل قطعی سے حاصل ہو اور جب حرام لغیرہ ہو دلیل قطعی کے ساتھ یا حرام لعینہ خبر واحد سے ثابت ہو تو تکفیر نہیں کی جائے گی جب حلال کا اعتقاد کرے۔ اسی طرح شرح عقائد نسفیہ میں ہے۔(ردالمختار ،کتاب الطھارۃ،باب الحیض،1/ 297 ،دارالفکر بیروت)
واللّٰہ تعالیٰ اعلم و رسولہ اعلم باالصواب
صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ و آلہ و اصحابہ و بارک و سلم
ابوالمصطفٰی محمد شاہد حمید قادری
3ربیع الاول 1445ھ
20ستمبر2024ء