کفر کی قسم کھالینا

کفر کی قسم کھالینا

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ دو دوستوں کی آپس میں لڑائی ہوئی ایک نے دوسرے سے کہا کہ اگر میں تم سے بات کروں تو میں کافر ہوجاؤں، اب یہ کہنے والا اپنے دوست سے بات کرنا چاہتا ہے ، کیا وہ بات کرتے ہی کافر ہوجائے گا؟

بسم اللہ الرحمن الرحیم

الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق وا لصواب

صورت مسئولہ میں حکم یہ ہے کہ اس طرح قسم کھانا معاذ اللہ فلاں کام کروں تو کافر ہوجاؤں اس سے قسم ہوجائے گی ، توڑنے پر کفارہ تو بہرحال ہوگا ، البتہ کافر ہوگا یا نہیں اس بارے میں یہ ہے کہ اگر اس کے گمان میں یہ ہے کہ اس قسم کو توڑنے پر کافر ہوجائے گا پھر بھی وہ کام کرے گا تو کافر ہوجائے گا اور اگر اس کے اعتقاد میں کافر ہونا نہیں تو تکفیر نہیں ہوگی۔

بدائع الصنائع میں ہے

” و لو قال: إن فعل كذا ‌فهو ‌يهودي أو نصراني أو مجوسي أو بريء عن الإسلام أو كافر أو يعبد من دون الله أو يعبد الصليب أو نحو ذلك مما يكون اعتقاده كفرا فهو يمين استحسانا والقياس“

ترجمہ:اگر کسی نے کہا میں یہ کام کروں تو یہودی ہوجاؤں یا نصرانی ہوجاؤں یا مجوسی ہوجاؤں یا اسلام سے بری ہو یا صلیب کی عبادت کرنے والا یا کافر یا اللہ کے سوا غیر کی عبادت کرنے والا یا مثل اس کے۔ اگر یہ بات اس نے کفر کااعتقاد رکھتے ہوئے کہی تو یہ قسم ہے استحسانا اور قیاسا۔(بدائع الصنائع، جلد 3 ،صفحہ 8 ، دار الفکر، بیروت)

فتاوی عالمگیری میں ہے:

”ولو قال ان فعل کذا فھو یھودی او نصرانی او مجوسی او بریء من الاسلام او کافر او یعبد من دون اللہ او یعبد الصلیب او نحو ذالک مما یکون اعتقادہ کفرا فھو یمین استحسانا کذا فی البدائع ، حتی لو فعل ذالک الفعل یلزمہ الکفارۃ وھل یصیر کافرا اختلف المشائخ فیہ قال شمس الائمہ السرخسی رحمہ اللہ تعالی : والمختار للفتوی انہ ان کان عندہ انہ یکفر متی اتی بھذا الشرط ومع ھذا اتی یصیر کافرا لرضاہ بالکفر وکفارتہ ان یقول لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ وان کان عندہ انہ اذا اتی بھذا الشرط لا یصیر کافرا لا یکفر“

ترجمہ:اگر کسی نے یہ کہا کہ فلاں کام کیا تو وہ یہودی یا نصرانی یا مجوسی یا اسلام سے بری یا کافر یا وہ غیر اللہ کی عبادت کرے گا یا صلیب کو پوجے گا وغیرہ امور جن کا اعتقاد کفر ہے ، تو استحسانا یہ قسم ہے جیسا کہ البدائع میں ہے۔ حتی کہ اگر اس نے وہ کام کرلیا تو کفارہ لازم ہوگا البتہ اس سے وہ کافر ہوگا یا نہیں اس میں علما کا اختلاف ہے۔ شمس الائمہ سرخسی نے فرمایا : فتوی کے لئے مختار قول یہ ہے کہ اگر اسے یہ گمان ہے کہ کام کرنے پر میں کافر ہوجاؤں گا پھر بھی اس نے کام کیا تو کافرہو جائے گا کیونکہ رضا بالکفر بھی کفر ہوتا ہے اور اس کا کفارہ یہ ہے کہ یہ کہے لا الہ الااللہ محمد رسول اللہ ۔ اگر اسے کافر ہونے کا گمان نہیں پھر کرلیا تو اکافر نہیں ہوگا۔ (فتاوی عالمگیری ، جلد 2 ، صفحہ 60 ، دار الکتب العلمیہ بیروت)

بہار شریعت میں ہے:

”اگر یہ کام کرے یا کیا ہو تو یہودی ہے یا نصرانی یا کافر یا کافروں کا شریک، مرتے وقت ایمان نصیب نہ ہو۔ بے ایمان مرے، کافر ہوکرمرے، اور یہ الفاظ بہت سخت ہیں کہ اگر جھوٹی قسم کھائی یا قسم توڑ دی تو بعض صورت میں کافر ہوجائے گا۔“(بہار شریعت ، جلد 2 ، حصہ 9 ، صفحہ 301 ، مکتبۃ المدینہ کراچی)

واللہ اعلم بالصواب

کتبہ

زوہیب مدنی

25 صفر المظفر 1445

11 ستمبر 2023

Add your Comment