کسی کی طرف سے قسم کھانا
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ شرعاجس پر قسم لازم ہو وہ خود قسم نہ اٹھا ئے اور کسی کو اپنا نائب بنا دے جو اس کی طرف سے قسم کھائے تو کیا یہ جائز ہے یا اس کوخودہی حلف اٹھانا پڑے گا ؟آج کل پنچائیت میں یہ بات عام ہے کہ یہ فیصلہ کیا جاتا ہے کہ فلاں نیک شخص اس بندے (جس پر الزام ہو)کے طرف سے قسم کھائے گا،یہ فیصلہ کرنا کیسا ہے اور اس نیک بندے کا قسم کھانا کیسا ہے
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق وا لصواب
مذکورہ صورت میں شرعی حکم یہ ہے کہ جس پر قسم کھانا لازم ہے تو وہی قسم کھائے گا کوئی دوسرا شخص اسکی طرف سے قسم نہیں کھائے گا کیونکہ اس میں نائب بنانا درست نہیں ہے تو جب قسم میں نائب بنانا درست نہیں تو پنچائیت عدالت وغیرہ کے کہنے پر بھی کسی کی طرف سے قسم کھانا جائز نہیں ہے ۔
درمختار میں ہے
”النيابة تجری فی الاستحلاف لا الحلف و فرع علی الاول کقولہ فالوکیل و الوصی والمتولی و ابو الصغیر یملک الاستحلاف فلہ طلب یمین خصمہ ولا یحلف احد منھم الا اذا ادعی علیہ العقد او صح اقرارہ علی الاصیل فیستحلف حینئذ “
ترجمہ : قسم لینے میں نیابت جاری ہے نہ کہ قسم کھانے میں اور فرع بیان کی گئی ہے پہلی پر اپنے اس قول سے کہ وکیل ،وصی، متولی اور نابالغ کا والد وہ قسم لینے کے مالک ہے پس انکے لئے جائز ہے کہ وہ اپنے مدمقابل سے قسم کو طلب کرے اور ان میں سے کوئی ایک قسم کھا نہیں سکتا مگر جب ان پر عقد کو دعوی ہو یا انکا اقرار اصیل پر درست ہو تو اسوقت قسم کھا سکتے ہیں۔ (در مختار ،جلد 8 ،کتاب دعوی صفحہ نمبر 300 مکتبہ دار الکتب العلمیہ بیروت )
فتاوی رضویہ میں سیدی اعلی حضرت امام احمد رضا خان علیہ الرحمہ الرحمن اسی طرح کے سوال کے جواب میں فرماتے ہیں:
زید متولی پر حلف متوجہ نہیں متولی پر حلف صرف اسوقت میں آتا ہے جب خود اس پر کسی عقد کا دعوی کیا جائے یا کوئی مدعی ہو کب فلاں زمین وقفی اس نے میرے اجارے میں دی عقد تمام ہو گیا اور اب قبضہ نہیں دیتا یا اسکے مثل اور دعوی تنویر الابصار میں ہے وصی متولی اور نابالغ کا باپ قسم لے سکتے ہیں ان سے قسم نہیں لی جا سکتی۔ (فتاوی رضویہ ،جلد 18، صفحہ 302۔303 ، رضا فاونڈیشن لاہور )
بہار شریعت میں ہے :
”حلف میں نیابت نہیں ہو سکتی کہ ایک شخص کی جگہ دوسرا شخص قسم کھا جائے استحلاف میں نیابت ہو سکتی ہے یعنی دوسرا شخص مدعی کے قائم مقام ہوکر حلف طلب کر سکتا ہے جیسے وکیل مدعی اور ولی اور وصی اور متولی کہ اگر یہ مدعی ہوں حلف کا مطالبہ کر سکتے ہیں اور مدعی علیہ ہوں تو ان پر حلف عائد نہیں ہوتا ہاں! اگر ان پر دعوی ایسے عقد کے متعلق ہو جو خود ان کا کیا ہو یا انہوں نے اصیل پر اقرار کیا ہو اور اب انکار کرتے ہیں تو حلف ہوگا ۔“(بہار شریعت، جلد 2 ،حصہ 13 ، صفحہ 1037 مکتبہ المدینہ، کراچی)
واللہ اعلم و رسولہ اعلم عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم
کتبہ ابو اویس محمد ریحان عطاری
21صفر المظفر 1445
8 ستمبر 2023