یکم محرم الحرام یومِ شہادتِ فاروق اعظم ہے یا نہیں؟

یکم محرم الحرام یومِ شہادتِ فاروق اعظم ہے یا نہیں؟

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس بارے میں کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ کی شہادت یکم محرم کو ہوئی یا ذو الحجہ کی آخری تاریخوں میں ہوئی تھی؟

بسم اللہ الرحمن الرحیم

الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق وا لصواب

حضرت عمر فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شہادت حقائق وشواہد کی روشنی میں یکم محرم الحرام 24ھ کو ہونا ثابت ہے۔اس پر کثیر مستند دلائل موجود ہیں ۔ بعض کتب میں 26 یا 27 ذوالحجہ کو یوم شہادت قرار دیا گیا ہے،لیکن یہ روایات بہت ضعیف ہیں۔ کئی علماء نے ان میں تطبیق یوں دی ہے کہ 26 اور 27 ذوالحجہ یہ قول آپ کی شہادت سے متعلق نہیں بلکہ جس دن آپ رضی اللہ عنہ کو زخمی ہوئے اسکے متعلق ہے۔

یکم محرم الحرام کو شہید ہونے پر دلائل

صحیح بخاری میں ہے:

”قال رایت عمر ابن الخطاب۔۔۔۔ غداۃاصیب۔۔۔۔فما ھو الا ان کبر ۔۔۔فسمعتہ یقول قتلنی او اکلنی الکلب حین طعنہ“

ترجمہ:میں نے آپ کو دیکھا۔۔۔۔جس صبح آپ قتل کئے گئے تھے ۔۔۔آپ نے صرف تکبیر تحریمہ ہی کہی تھی۔۔۔۔میں نے آپ کو کہتے ہوئے سنا:کہ مجھے کتے نے قتل کیا ہے یا کھا لیا ہے جب آپ کو (فیروز نامی شخص نے خنجر مار کر) زخمی کردیا تھا۔ (صحیح البخاری،كتاب اصحاب النبی علیہ السلام، باب قصة البيعة، والاتفاق على عثمان بن عفان وفيه مقتل عمر بن الخطاب رضي الله عنهما،جلد5،صفحہ15،حدیث3700،دارطوق النجاۃ،مصر)

اس کی شرح میں عمدۃ القاری میں ہے:

”ھذا القصۃ کانت فی اربع بقین من ذی الحجۃ سنۃثلث و عشرین“

ترجمہ: یہ قصہ معرض وجود میں آیا جبکہ23ھ کی ذوالحجہ کی چار راتیں باقی تھیں۔(یعنی 26ذوالحجہ تھی۔)(عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری ،كتاب بدء الخلق،باب ما جاء في قول الله تعالى: ﴿وهو الذي يبدأ الخلق ثم يعيده وهو أهون عليه﴾ ،جو16،ص210،دار الفكر بيروت)

المستدرک للحاکم میں حدیث موجود ہے:

”قال اصیب العمر یوم الاربعاء لاربع لیال بقین من ذی الحجۃ “

ترجمہ:حضرت معدان بن ابی طلحہ نے کہا حضرت عمر بدھ کے دن زخمی کیے گئے جبکہ ذی الحجہ کی چار راتیں باقی تھیں ۔(یعنی 26 ذی الحجہ کو)(المستدرك على الصحيحين للحاكم،كتاب معرفة الصحابة،جلد 3 ،صفحہ97،دار الكتب العلمية ، بيروت)

أبو بكر بن أبي شيبة اپنی المصنف میں حدیث نقل کرتے ہیں

” حدثنا ابن علية، عن سعيد، عن قتادة، عن سالم بن أبي الجعد، عن معدان بن أبي طلحة اليعمري، قال: «أصيب عمر يوم الأربعاء لأربع بقين من ذي الحجة»“

ترجمہ:معدان بن ابی طلحہ فرماتے ہیں حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ کو بدھ کے دن زخم لگا ذوالحجہ کے ابھی چار دن باقی تھے۔(المصنف ابن أبي شيبة،كتاب التأريخ،جلد 8،صفحہ 12،دار التاج ،لبنان)

اسی طرح التاريخ الكبير للبخاري, حرف العين،باب عمر،ج7،ص174،الناشر المتميز للطباعة والنشر والتوزيع، الرياض،سير أعلام النبلاء،سير الخلفاء الراشدين،سير الخلفاء الراشدين،جلد راشدون،صفحہ 95،مؤسسة الرسالة اور متعدد کتب میں یہی عبارت نقل کی گئی ہے۔

المحنمیں محمد بن احمد بن تميم التميمی المغربی الافريقی(المتوفى: 333ه) لکھتے ہیں

” قال ابن اسحاق وحدثني يحيى بن عباد بن عبد الله بن الزبير عن أبيه عن جده عبد الله بن الزبير قال طعن عمر يوم الأربعاء لثلاث بقين من ذي الحجة ثم بقي ثلاثة أيام ثم مات رحمه الله “

ترجمہ:حضرت عبد اللہ بن زبیر نے فرمایا:حضرت عمر رضی اللہ عنہ پر بدھ کے دن اس وقت حملہ کیا گیا جب ذوالحجہ کے ختم ہو نے میں تین راتیں باقی تھیں پھر آپ نے تین دن بعد یعنی یکم محرم الحرام کو وفات پائی،اللہ عزوجل ان پر رحم کرے۔ (كتاب المحن ذكر مقتل عمر بن الخطاب رحمه الله وكيف أصيب – صفحہ 66 مکتبۃ دار الغرب الاسلامی )

تاریخ دمشق میں ہے

”أخبرنا أبو الأعز قراتكين بن الأسعد أنا أبو محمد الجوهري أنا أبو الحسن بن لؤلؤ أنا محمد بن الحسين بن شهريار نا أبو حفص الفلاس قال واستخلف أبو بكر عمر فملك عمر عشر سنين وستة أشهر وثمان ليال وطعن لليال بقين من ذي الحجة فمكث ثلاث ليال ثم مات يوم السبت لغرة المحرم سنة أربع وعشرين“

ترجمہ:ابو حفص فلاس نے فرمایا:حضرت عمر رضی اللہ عنہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے خلیفہ بنے اور آپ نے دس سال چھ مہینے آٹھ راتیں خلافت کی، ذوالحجہ کی جب تیں راتیں باقی تھیں اس وقت آپ پر حملہ کیا گیا اور آپ نے تین راتیں زخمی حالات میں گزارنے کے بعد یکم محرم الحرام سن 24 ہجری کو ہفتے کے دن وفات پائی۔

(تاريخ دمشق لابن عساكر، عمر بن الخطاب بن نفيل بن عبد العزى بن رياح بن عبد الله بن قرط بن رزاح ،جلد44 صفحہ 478، مكتبہ دار الفکر)

المستدرك على الصحيحين میں حدیث پاک موجود ہے:

”حدثني أبو بكر محمد بن أحمد بن بالويه الجلاب، ثنا محمد بن أحمد بن النضر، ثنا معاوية بن عمرو، ثنا زائدة، عن ليث، عن نافع، عن ابن عمر ﵄ قال: «عاش عمر ثلاثا بعد أن طعن، ثم مات فغسل وكفن»“

ترجمہ: حضرت ابن عمر نے فرمایا: کہ حضرت عمرزخم لگنے کے 3 دن بعد زندہ رہے،اور پھرآپ فوت (شہید)ہوئے تو آپ کو غسل اور کفن دیا گیا ۔(المستدرك على الصحيحين للحاكم،كتاب معرفة الصحابة،جلد 3 ،صفحہ98،دار الكتب العلمية ، بيروت)

اسی طرح کی روایت السنن الكبرى البيهقي،كتاب الجنايات،كتاب الديات،جلد8،صفحہ86،دار الكتب العلمية، بيروت میں، اسی طرح التلخيص الحبير،أضواء السلف جلد3،صفحہ 1284،دار أضواء السلف میں، اسی طرح اتحاف الخيرة المهرة بزوائد المسانيد العشرة كتاب المناقب، فضائل أميرالمؤمنين عثمان بن عفان ﵁الألباب،جلد7،صفحہ 171،مؤسسة قرطبة مصر میں ،اسی طرح غذاء الألباب في شرح منظومة الآداب السفاريني جلد1،صفحہ156،مؤسسة قرطبة ، مصر میں اس روایت کو محدثین نے نقل کیا ہے۔

یکم محرم الحرام 24ھ کو آپ رضی اللہ عنہ کو دفن کئے جانے پر دلائل

شرح ألفية العراقي میں ابن العيني فرماتے ہیں:

”واتفقوا على أنه دُفِنَ في مُسْتَهَل المحرم سنة أربع وعشرين“

ترجمہ: اس بات پرعلماء نے اتفاق کیا کہ آپ رضی اللہ تعالی عنہ کو یکم محرم الحرام 24ھ کو دفن کیا گیا۔(شرح ألفية العراقي ابن العيني،تواريخ الرواة والوفيات،ص365،مركز النعمان للبحوث والدراسات الإسلامية ، اليمن)

أبو الفضل زين الدين عبد الرحيم بن الحسين کی شرح التبصرة والتذكرة ألفية العراقي میں بھی یہی عبارت (واتفقوا على أنه دُفِنَ في مُسْتَهَل المحرم سنة أربع وعشرين)موجود ہے ۔(شرح التبصرة والتذكرة ألفية العراقي جلد3،صفحہ303،دار الكتب العلمية، بيروت)

إبراهيم بن موسى بن أيوب الشذا الفياح من علوم ابن الصلاح میں بھی مذکورہ عبارت(واتفقوا على أنه دُفِنَ في مُسْتَهَل المحرم سنة أربع وعشرين) کو لے کر آئے ہیں۔(الشذا الفياح من علوم ابن الصلاح،جلد2،صفحہ725،مكتبة الرشد)

صفة الصفوة میں ابن الجوزي (ت ٥٩٧) حدیث نقل کرتے ہیں:

”قال سعد بن أبي وقاص طعن عمر يوم الأربعاء لأربع ليال بقين من ذي الحجة سنة ثلاث وعشرين ودفن يوم الأحد صبيحة هلال المحرم“

ترجمہ:سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا،حضرت عمر بن خطاب بدھ کے دن( خنجر) کے ساتھ زخمی کیے گئے،جبکہ 23ھ ذوالحجہ کی ابھی چار راتیں باقی تھیں اور 24ھ یکم محرم الحرام اتور کی صبح دفن کیے گئے ۔(صفة الصفوة،

ذكر المشهورين بالعلم والزهد والتعبد من أصحاب رسول الله ﷺ جلد 1،صفحہ109،دار الحديث، القاهرة، مصر)

علاء الدين مغلطاي بن قليج الحنفي ٧٦٢ ھ اكمال تهذيب الكمال جلد5،صفحہ447دار الكتب العلمية، بيروت ،لبنان میں،ابن حجر عسقلانی ٨٥٢ إنباء الغمر بأبناء العمر جلد4،صفحہ131،المجلس الأعلى للشئون الإسلامية ، مصر میں،حسين بن محمد بن الحسن الدِّيار بَكْري ٩٦٦ تاريخ الخميس في أحوال أنفس النفيس,جلد2،صفحہ 250،دار صادر، بيروت میں اس روایت کو لیکر آئے ہیں ۔

البداية والنهاية میں ابن كثير لکھتے ہیں:

”خلافة أمير المؤمنين عثمان بن عفان ﵁ ثم استهلت سنة أربع وعشرين ففي أول يوم منها دفن أمير المؤمنين عمر بن الخطاب ﵁، وذلك يوم الأحد في قول “

ترجمہ:خلافت امیر المؤمنین حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ ،پھر سن24ھ کا ظہور ہوا ،اس کے پہلے دن یکم محرم الحرام کو امیر المومنین حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو دفن کیا گیااور یہ ایک قول کے مطابق اتوار کا دن تھا ۔(البداية والنهاية ،خلافة أمير المؤمنين عثمان بن عفان،جلد 10،صفحہ208،مطبعة السعادة ، القاهرة)

یکم محرم الحرام 24ھ کے علاوہ شہادت کی روایات کا جائزہ

تاریخ طبری کے حوالے یہ اعتراض کیا جاتا ہے کہ اس میں 26 ذو الحجہ کو شہادت کا ذکر ہےاس اعتراض کا جواب یہ ہے کہ امام طبری نے ان مختلف اقوال کو ذکر کیا ہے جن میں تاریخ شہادت مختلف بیان کی گئی ہیں۔ چنانچہ پہلا قول تو 27 ذی الحجہ کا بتایا ہے

”قَالَ: ثُمَّ تُوُفِّيَ لَيْلَةَ الأَرْبِعَاءِ لثلاث ليال بقين من ذي الحجة سنة ثَلاثٍ وَعِشْرِينَ“

ترجمہ: پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا انتقال بدھ کی رات 27 ذوالحجہ کو ہوا۔ (تاريخ الطبري تاريخ الرسل والملوك وصلة تاريخ الطبري ذكر الخبر عن وفاه عمر جلد4 صفحہ 193 مکتبہ دار المعارف مصر)

اس کا جواب یہ ہے کہ یہ روایت نہایت کمزور ہے کیونکہ اس قول کو بیان کرنے والے دو راوی سلیمان بن عبد العزیز اور جعفر بن عبد الرحمن تو مجہول الحال ہیں اور ایک راوی عبد العزیز بن عمران متروک ہے۔

دوسرا قول یکم محرم الحرام کا ذکر کیا ہے

”قَالَ أَبُو جَعْفَرٍ: وَقَدْ قِيلَ إِنَّ وَفَاتَهُ كَانَتْ فِي غُرَّةِ الْمُحَرَّمِ سَنَةَ أَرْبَعٍ وَعِشْرِينَ“

ترجمہ: ابوجعفر نے کہا کہ کہا گیاحضرت عمر رضی اللہ عنہ کا انتقال یکم محرم الحرام 24 سن ہجری کو ہوا۔(تاريخ الطبري تاريخ الرسل والملوك وصلة تاريخ الطبري – ذكر الخبر عن وفاه عمر جلد4 صفحہ 193 مکتبہ دار المعارف مصر)

تیسرا قول 26 ذی الحجہ کا ذکر کیا ہے

” توفي عمر رضي اللَّه تعالى عنه لأربع ليال بقين من ذي الحجة، وبويع لعثمان بْن عفان لليلة بقيت من ذي الحجة، فاستقبل بخلافته المحرم سنة أربع وعشرين“

ترجمہ:حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی وفات 26 ذوالحجہ کو ہوئی اور حضرت عثمان کی 29 ذوالحجہ کو بیعت لی گئی اور انھوں نے یکم محرم الحرام کو خلافت سنبھالی۔( تاريخ الطبري تاريخ الرسل والملوك وصلة تاريخ الطبري ذكر الخبر عن وفاه عمر جلد4 صفحہ 193 –194+ مکتبہ دار المعارف مصر)

اس کا جواب یہ ہے کہ امام طبری نے یہ قول ابن سعد کا ہی ذکر کیا ہے لیکن یہ روایت انتہائی کمزور ہے۔

چوتھا قول ابو معشر کا 26 ذی الحجہ کا ذکر کیا ہے

”وحدثني أحمد بْن ثابت الرازي، قال: حَدَّثَنَا محدث، عن إسحاق ابن عيسى، عن أبي معشر، قال: قتل عمر يوم الأربعاء لأربع ليال بقين من ذي الحجة تمام سنة ثلاث وعشرين، وكانت خلافته عشر سنين وستة أشهر وأربعة أيام، ثم بويع عثمان بْن عفان“

ترجمہ کا خلاصہ: حضرت عمر کو 26 ذوالحجہ کو بدھ کے دن قتل کیا گیا اور ان کی خلافت کی مدت 10 سال چھ مہینے چار دن تھی پھر حضرت عثمان کی بیعت کی گئی۔( تاريخ الطبري تاريخ الرسل والملوك وصلة تاريخ الطبري ذكر الخبر عن وفاه عمر جلد4 صفحہ 419 مکتبہ دار المعارف مصر)

اس کا جواب یہ ہے کہ اس کو احمد بن ثابت الرازی کے طریق سے ہے روایت کیا گیا ہے جو کہ کذاب تھا۔

پانچواں قول ہشام بن محمد کا 27 ذی الحجہ کا ذکر کیا ہے

”وحدثت عن هشام بْن مُحَمَّد، قال: قتل عمر لثلاث ليال بقين من ذي الحجة سنة ثلاث وعشرين وكانت خلافته عشر سنين وستة أشهر وأربعة أيام ولم يزل يذكر الله إلى أن توفي ليلة الأربعاء لثلاث بقين من ذي الحجة سنة ثلاث وعشرين“

ترجمہ کا خلاصہ : حضرت عمر کو 27 ذوالحجہ کو قتل کیا گیا اور ان کی خلافت کی مدت 10 سال چھ مہینے چار دن تھی اور آپ اللہ کا ذکر کرتے ہوئے بدھ کی رات 27 ذوالحجہ کو انتقال فرماگئے۔( تاريخ الطبري تاريخ الرسل والملوك وصلة تاريخ الطبري ذكر الخبر عن وفاه عمر جلد4 صفحہ 419 مکتبہ دار المعارف مصر)

اس کا جواب یہ ہے کہ یہ روایت بلا سند اور منقطع ہے جو نہایت ہی کمزور ہے۔

اسی طرح تاریخ ابن خلدون کے حوالے سے بھی اعتراض کیا جاتا ہے کہ اس میں بھی شہادت کی تاریخ یکم محرم الحرام نہیں ہے جیسا کہ

”قَالَ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِعُثْمَانَ بْنِ مُحَمَّدٍ الأَخْنَسِيِّ فَقَالَ: مَا أَرَاكَ إِلا قَدْ وَهِلْتَ. تُوُفِّيَ عُمَرُ لأَرْبَعِ لَيَالٍ بَقِينَ مِنْ ذِي الْحِجَّةِ“

ترجمہ: عثمان اخنسی نے کہا کہ میری رائے کے مطابق حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی وفات 26 ذوالحجہ کو ہوئی۔ ( تاريخ ابن خلدون – مقتل عمر وأمر الشورى وبيعة عثمان رضي الله عنه – جلد 2 صفحہ 569 المكتبة الشاملة الحديثة )

اس کا جواب یہ ہے کہ یہ بلاسند ہے نیز عثمان اخنسی بھی ثقہ راوی نہیں۔تقریب التہذیب میں ابن حجر عسقلانی ”عثمان اخنسی “کے بارے میں لکھتے ہیں:

”عثمان ابن محمد ابن المغيرة ابن الأخنس الثقفي الأخنسي حجازي صدوق له أوهام“

ترجمہ :عثمان ابن محمد ابن المغيرة ابن الأخنس الثقفي الأخنسي حجازي سچا راوی ہے لیکن اسکو کثیر وہم ہیں۔(تقریب التہذیب ،باب العین،صفحہ386،دار الرشيد،سوريا)

اسی طرح البدایہ النھایہ تاریخ ابن کثیر کے حوالے سے یہ اعتراض کیا جاتا ہے کہ اس میں بھی یکم محرم الحرام کو شھادت کا ذکر نہیں ہے ۔ اس کا جواب یہ ہے کہ ابن کثیر نے پہلا قول یہ ذکر کیا ہے

” قَالَ الْوَاقِدِيُّ: حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: طُعِنَ عُمَرُ يَوْمَ الْأَرْبِعَاءِ لِأَرْبَعِ لَيَالٍ بَقِينَ مِنْ ذِي الْحِجَّةِ سَنَةَ ثَلَاثٍ وَعِشْرِينَ، وَدُفِنَ يَوْمَ الْأَحَدِ صَبَاحَ هِلَالِ الْمُحَرَّمِ “یعنی حضرت عمر کو بدھ کے دن 26 ذوالحجہ کو حملہ کر کے زخمی کیا گیا اور یکم محرم الحرام کو دفن کیا گیا۔

اس قول کے بعد مزید مختلف اقوال ذکر فرمانے کے بعد آخر میں فرمایا

”وَالْقَوْلُ الْأَوَّلُ هُوَ الْأَشْهَرُ “

یعنی پہلا قول یکم محرم الحرام والا زیادہ مشہور ہے۔

(البداية والنهاية، قبل صفتہ عمر بن الخطاب رضي الله عنه – جلد 7 صفحہ 138مطبوعہ دار الفکر)

لہذا مستند دلائل سے ثابت ہوا کہ یکم محرام الحرام حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا یوم شہادت ہے۔ بعض صلح کلی قسم کے مولویوں کا رافضیوں کو خوش کرنے کے لیے ہرسال اس مسئلہ کو اٹھانا اور ضعیف روایات پیش کرکے یہ ثابت کرنا کہ آپ کی شہادت محرم سے پہلے ہے یہ درست نہیں۔

واللہ اعلم باالصواب

کتبہ :غلام رسول قادری مدنی

نظر ثانی وترمیم : مفتی محمد انس رضا قادری

6محرم الحرام1445ھ25جولائی2023ء

اپنا تبصرہ بھیجیں