گمراہ اور کافر شخص سے دینی کاموں کے لیے چندہ لینا

گمراہ اور کافر شخص سے دینی کاموں کے لیے چندہ لینا

کیا فرماتے ہیں علماء دین و مفتیان شرع متین اس بارے میں کہ کسی بدمذہب(یعنی جو اہل سنت میں سے نہ ہو)، کافر، مرتد سے مسجد و مدرسہ یا کسی دینی کام کے لیے چندہ لینا کیسا ہے؟اگر وہ خود ہی دیدے تو کیا کریں؟

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

الجواب بعون الملک الوہاب الھم ھدایۃ الحق والصواب

مسجد و مدرسہ ہو یا کوئی بھی دینی کام گمراہ ،کافر اور مرتد سے چندہ نہیں لینا چاہیے۔احادیث سے ثابت ہے کہ حضور علیہ السلام نے غیر مسلموں کی مدد لینے سے منع فرمایا ہے۔پھر قادیانیوں جیسے مرتد ین کے احکام تو اور زیادہ سخت ہیں کہ ان سے بات چیت بھی منع ہے چہ جائیکہ چندہ لیا جائے۔

البتہ اگر کوئی کافر یا بدمذہب خود بخود نیاز مندانہ طور پر چندہ دیتا ہے تو شرعا چندہ لینا جائز ہے جبکہ بعد میں کوئی مداخلت نہ کرے،اگر چندہ دے کردینی معاملات میں مداخلت کرتا ہے ،اپنا رعب ڈالتا ہے تو ایسے کافر و بدمذہب سے چندہ لینا جائز نہیں ہے۔ موجودہ دور میں بدمذہبوں سے زیادہ احتیاط ضروری ہے کہ بدمذہب زیادہ چندہ دے کرمسجد انتظامیہ میں حصہ لینے کی کوشش کرتے ہیں اور اپنی بدمذہبی پھیلانے کی اور اپنے مسلک کا امام لانے کی کوشش کرتے ہیں،ایسی صورت حال میں بدمذہبوں سے چندہ لینا ناجائز ہے۔

اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

’’نامسلم کا عطیہ کہ اس کے اپنے مال سے ہو خصوصاً اپنے اسلامی کام میں نہ لانا چاہئے۔ نبی صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں’’انی نھیت عن زبد المشرکین رواہ ابوداؤد والترمذی عن عیاض بن حمار رضی اﷲتعالیٰ عنہ وھو حدیث حسن صحیح‘‘ بیشک مجھے مشرکوں کے عطیہ سے منع کردیا گیا ہے۔ اس کو ابوداؤد اور ترمذی نے عیاض بن حمار رضی اﷲتعالیٰ عنہ سے روایت کیا اور یہ حدیث حسن صحیح ہے۔

اورفرماتے ہیں صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم’’انی لااقبل ھدیۃ مشرک رواہ الطبرانی الکبیرعن کعب بن مالک رضی اﷲتعالٰی عنہ بسند صحیح‘‘ بیشک میں مشرک کاہدیہ قبول نہیں کرتا۔اسے طبرانی نے کبیر میں کعب بن مالک رضی اﷲتعالیٰ عنہ سے صحیح سند کے ساتھ روایت کیا۔

اورفرماتے ہیں صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم’’انا لانقبل شیئامن المشرکین رواہ احمد والحاکم عن حکیم بن حزام رضی اللہ تعالی عنہ ‘‘ بے شک ہم مشرکوں کی کوئی شے قبول نہیں کرتے ۔اسے احمد اور حاکم نے حکیم بن حزام رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیا ۔

اور فرماتے ہیں صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم’’انا لانستعین بمشرک رواہ احمد وابوداؤد وابن ماجۃ عن ام المؤمنین الصدیقۃ رضی اﷲتعالٰی عنہا‘‘ بیشک ہم مشرکوں سے مدد طلب نہیں کرتے۔ اس کو ابوداؤد اور ابن ماجہ نے ام المومنین صدیقہ رضی اﷲتعالیٰ عنہا سے روایت کیا۔

او رحدیثیں جواز واجازت میں بھی ہیں اور توفیق بتوفیق اﷲتعالیٰ ہمارے فتویٰ میں ہے۔‘‘(فتاوٰ ی رضویہ،جلد16،صفحہ467،رضافاؤنڈیشن،لاہور)

ایک جگہ فرماتے ہیں:

’’مسجد میں صرف اہلسنت کا پیسہ لیا جائے، کافروں یا مرتدوں کا ناپاک مال نہ لیا جائے۔‘‘(فتاوی رضویہ،جلد16،صفحہ56،رضافاؤنڈیشن،لاہور)

سیدی اعلیٰ حضرت امام احمدرضاخان علیہ رحمۃ الرحمن ارشادفرماتے ہیں:’’مسجد میں دینے کے سبب اگر اس کی مسجد میں کوئی مداخلت رہے گی تولیناجائز نہیں اور اگر نیاز مندانہ طورپر پیش کرتاہے (کہ بعد میں ا س کامسجد میں کوئی اثرورسوخ نہ ہوگا)توحرج نہیں۔‘‘ (فتاوی رضویہ،جلد16،صفحہ520،رضافاؤنڈیشن،لاہور)

واللہ اعلم ورسولہ عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم

کتبہ

ابواحمدمفتی محمد انس رضا قادری

24رجب المرجب1444ھ ۔16فروری 2023ء

اپنا تبصرہ بھیجیں