عورتوں کو مسجد میں دم کرنا اور تعویذات دینا
کیا فرماتے ہیں علماء دین و مفتیان شرع متین اس بارے میں کہ ہماری مسجد میں ایک بابا جی تعویذ دیتا اور دم کرتا تھا۔ ان کے پاس اکثر عورتیں آتی تھیں اور اکثر شرعی پردے کے بغیر آتی تھیں۔ نماز ی نماز پڑھ کر جارہے ہوتے تھے اور عورتیں آرہی ہوتی تھیں اور مسجد کا دوازہ بھی ایک ہے۔ نمازیوں نے اعتراض کیا تو وہ باباجی تعویذ و دم کرنے کے لئے مسجد کی ساتھ والی گلی میں چلے گئے۔اب وہ پھر مسجد میں آکر تعویذ و دم کرنا چاہتا ہے۔قرآن وحدیث کی روشنی میں ارشاد فرمائیں اس کی شرعا اجازت ملتی ہے جبکہ عورتیں اکثر بغیر پردہ اور بعض ایام مخصوصہ میں ہوتی ہیں؟
بسم اﷲ الرحمن الرحیم
الجواب بعون الوہاب اللہم ہدایۃالحق والصواب
روحانی علاج مساجد میں کرنا اور عورتوں کا مسجد میں آنا درست نہیں اس میں کئی شرعی خرابیاں ہیں:
٭ بعض عورتیں ناپاکی کے ایام میں آئیں گی جبکہ اس حالت میں آنا ناجائز و گناہ ہے۔
٭ بعض عورتیں اپنے بچوں کو بھی ساتھ لے کر آئیں گے ،جو مسجد میں شور مچائیں گے اور یہ بھی شرعا درست نہیں ۔
٭ کئی عورتیں بے پردہ آئیں گی اور راستے میں مردوں سے بھی اختلاط ہوگا جیسا کہ سوال میں صراحت ہے اور یہ بھی شرعا منع ہے ۔
فی زمانہ عورتوں سے یہ توقع ہو نا بہت مشکل ہے کہ وہ تمام کی تمام پاکی کی حالت ،باپردہ ،بغیر چھوٹے بچوں کے اور نماز کے اوقات کے علاوہ آئیں، مسجد کے تقدس کا خیال رکھیں،نیز روحانی علاج کرنے والے عامل حضرات بھی باعمل ہوں یہ بھی مشکل ہے ،اس لیے شرعا مطلقا ہی مسجد میں عورتوں کے لیے روحانی علاج کرنے کی ممانعت ہے۔البتہ اگر فقط مردوں کا روحانی علاج مسجد میں کیا جائے ،مسجد کے تقدس کا خیال رکھا جائے اور عاملین بھی مستند ہوں جیسا کہ تعویذات عطاریہ کا نظام ہے تو اس میں شرعا کوئی حرج نہیں۔
ابوداؤد کی حدیث پاک ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا
”لا أحل المسجد لحائض ولا جنب‘‘
ترجمہ : میں مسجد کو حائضہ اور جنبی کے لئے حلال نہیں کرتا۔ (سنن ابی دائود ،کتاب الطہارت،باب فی الجنب یدخل المسجد،جلد1،صفحہ109،دارالفکر،بیروت)
تبیین الحقائق میں ہے
’’یمنع الحیض دخول المسجد‘‘
ترجمہ: حیض والی عورت کا مسجد میں داخلہ ممنوع ہے۔(تبیین الحقائق ،کتاب الطہارت، مدۃ الحیض،جلد1،صفحہ56،المطبعۃ الکبری الأمیریۃ ،بولاق ، القاہرۃ)
المعجم الکبیر للطبرانی ،السنن الکبری للبیہقی اور سنن ابن ماجہ کی حدیث پاک ہے رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا
’’جنبوا مساجدکم صبیانکم ومجانینکم وشراء کم و بیعکم و خصوماتکم ورفع اصواتکم واقامۃ حدودکم وسل سیوفکم‘‘
ترجمہ:اپنی مساجد کو اپنے بچوں ،پاگلوں،خریدوفروخت،جھگڑے،آواز بلندکرنے،حدود قائم کرنے اور تلوارکھینچنے سے بچاؤ۔ (ابن ماجہ،ابواب المساجد،باب ما یکرہ فی المساجد ،جلد1،صفحہ247،داراحیاء الکتب العربیہ،حلبی)
درمختار میں ہے
’’یحرم ادخال صبیان و مجانین حیث غلب تجنیسھم والا یکرہ‘‘
ترجمہ:جب بچو ں اور پاگلوں کا مسجد کو ناپاک کرنے کاگمان غالب ہو تو ان کو مسجد میں لانا حرام ورنہ مکروہ ہے۔ (درمختار معہ ردالمحتار ،کتاب الصلوٰۃ،باب یفسد صلاتہ او یکرہ۔۔،جلد1،صفحہ656،دارالفکر،بیروت)
فتاوی رضویہ میں ہے:
” عورتیں نماز مسجد سے ممنوع ہیں اور واعظ یا میلاد خواں اگر عالم سنی صحیح العقیدہ ہو اور اس کا وعظ وبیان صحیح ومطابق شرع ہو اور جانے میں پوری احتیاط اور کامل پردہ ہو اور کوئی احتمال فتنہ نہ ہو اور مجلس رجال سے دور ان کی نشست ہو تو حرج نہیں مگر مساجد کے جانے میں ان شرائط کا اجتماع خیال و تصور سے باہر شاید نہ ہوسکے” ومن لم یعرف اھل زمانہ فھو جاہل “ (جو کوئی اپنے زمانے والوں کو نہ پہچانے تو نادان (اور ناسمجھ) ہے۔ ت) واللہ تعالیٰ اعلم۔(فتاوی رضویہ،جلد22،صفحہ239،رضافاؤنڈیشن،لاہور)
واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم
کتبہ
ابو احمد مفتی محمد انس رضا عطاری
27 محرم الحرام 1445ھ بمطابق15 اگست 2023ء