رضاعت کے اقرار کے بعد انکار

رضاعت کے اقرار کے بعد انکار

کیا فرماتے ہیں علماء دین و مفتیان شرع متین اس بارے میں کہ زید نے اپنی پھوپھی زاد سے شادی کی پھر دادی نے کہا کہ تم (یعنی زید)کو میں نے مدت رضاعت میں دودھ پلایا ہے۔زید نے اپنی دادی کی بات کا یقین کرلیا اور اس بات کو مانتے ہوئے اپنی بیوی کو علیحدہ کردیا۔ بعد میں زید کی دادی قسم کھا کر کہتی ہے کہ میں نے تجھے دودھ نہیں پلایا تھا۔ اب زید کے لئے کیا حکم ہے؟ اگر وہ بیوی واپس لاتا ہے تو دیانۃََ مجر م ہوگا یا نہیں؟

بسم اﷲ الرحمن الرحیم

الجواب بعون الوہاب اللہم ہدایۃالحق والصواب

صورتِ مسئولہ میں رجوع نہیں ہوسکتا ہے۔رضاعت کے ثبوت کی دوطریقے ہیں جو جمہور فقہاء سے ثابت ہیں:۔

(1) شہادت شرعیہ (شرعی گواہی یعنی دو گواہ)

(2) اقرار مع الاصرار(اقرار اصرارکےساتھ )

رضاعت کے ثبوت کا تیسرا طریقہ جو فقہاء نے ارشاد فرمایاہے وہ یہ ہے کہ ایک عورت دودھ پلانے کا کہے اور شوہر اس کی تصدیق کردے۔ تصدیق کرنے میں اقرار مع الاصرار والے الفاظ ضروری نہیں ہیں بلکہ کوئی بھی ایسا قول یا فعل کافی ہے جو تصدیق کے لئے ہو۔ پھر جب ایک مرتبہ تصدیق کردی جائے ، دوبارہ اس سے پھر نہیں سکتے۔ لہٰذا مذکورہ مسئلہ میں جب زید نے اپنی دادی کی تصدیق کردی ہے تو اب اس سے پھر نہیں سکتا ہے۔اس کی بیوی اس پر ہمیشہ کے لئے حرام ہے۔

البدائع الصنائع میں ہے

’’الرضاع یظہر بأحد أمرین:أحدہما الإقرار والثانی البینۃ،أما الإقرار فہو أن یقول لامرأۃ تزوجہا: ہی أختی من الرضاع أو أمی من الرضاع أو بنتی من الرضاع ویثبت علی ذلک ویصبر علیہ فیفرق بینہما؛ لأنہ أقر ببطلان ما یملک إبطالہ للحال فیصدق فیہ علی نفسہ، وإذا صدق لا یحل لہ وطؤہا والاستمتاع بہا فلا یکون فی إبقاء النکاح فائدۃ فیفرق بینہما سواء صدقتہ أو کذبتہ؛ لأن الحرمۃ ثابتۃ فی زعمہ‘‘

ترجمہ: رضاعت دو طرح سے ثابت ہوتی ہے :(1) اقرار(2) شرعی گواہی۔اقرار یہ ہے کہ اپنی بیوی کے متعلق کہے یہ میری رضاعی بہن ہے یامیری رضاعی ماں ہے یا میری رضاعی بہن ہے اوراس پر ثابت و مصر رہے تو دونوں کے درمیان تفریق کردی جائے گی۔اسلئے کہ اس نے اس چیز کا بطلان کیا جس کی ملکیت اسے حاصل تھی اور اس نے اپنے نفس پر اس کی تصدیق کی ۔جب اس نے تصدیق کردی تو اس لئے حلال نہیں کہ اس سے عورت سے وطی و استمتاع کرے۔اب نکاح کا باقی رہنا بے فائدہ ہے،تو دونوں میں تفریق کردی جائے گی ،برابر ہے کہ عورت تصدیق کرے یا تکذیب کرے،اس لئے کہ شوہر کے گمان میں حرمت ثابت ہے۔ (بدائع الصنائع فی ترتیب الشرائع،کتاب الرضاع،جلد4،صفحہ14،دار الکتب العلمیۃ،بیروت)

ہندیہ میں ہے

’’ولو تزوج امرأۃ فقالت امرأۃ أرضعتکما فہو علی أربعۃ أوجہ إن صدقاہا فسد النکاح ولا مہر لہا إن لم یدخل بہا وإن کذباہا فالنکاح بحالہ لکن إذا کانت عدلا فالتنزہ أن یفارقہا کذا فی التہذیب‘‘

ترجمہ:اگر شخص نے نکاح کیا اور ایک عورت نے کہا کہ میں نے تم دونوں کو دودھ پلایا ہے تو اس کی چار صورتیں ہیں: اگر مردوعورت نے اس عورت کی تصدیق کردی تو نکاح فاسد ہوجائے گا اور اگر دخول نہیں ہوا تو مہر نہیں ہوگا۔اگر شوہر نے ایک عورت کی بات کی تکذیب کردی تو نکاح قائم ہے۔ البتہ اگر عورت عادلہ ہے تو بہتر ہے کہ عورت کو چھوڑ دے جیسا کہ تہذیب میں ہے۔ (الفتاوی الہندیۃ،کتاب الرضاع،جلد1،صفحہ347، دار الفکر،بیروت)

الموسوعۃ الفقہیہ میں ہے

’’صفۃ التصدیق لفظ أو ما یقوم مقامہ یدل علی توجہ الحق قبل المقر(المصدق )ویقوم مقام اللفظ : الإشارۃ والکتابۃ والسکوت فالإشارۃ من الأبکم ومن المریض فإذا قیل للمریض : لفلان عندک کذا ، فأشار برأسہ أن نعم ، فہذا تصدیق إذا فہم عنہ مرادہ ‘‘

(الموسوعۃ الفقہیۃ الکویتیۃ،جلد12،صفحہ51، دارالسلاسل، الکویت)

الموسوعۃ الفقہیہ میں ہے’’تقدم أن التصدیق ملزم لمن صدق ، وعلی ذلک فلا یجوز الرجوع فیہ بالنسبۃ لحقوق العباد وحقوق اللہ التی لا تدرأ بالشبہات ، کالزکاۃ ، فمن صدق المدعی فیما ادعاہ علیہ من حق فلا یجوز لہ الرجوع متی توافرت شروط التصدیق ولو أقر بنسب ، وصدقہ المقر لہ ، ثم رجع المقر عن إقرارہ لا یقبل منہ الرجوع‘‘

(الموسوعۃ الفقہیۃ الکویتیۃ،جلد12،صفحہ54، دارالسلاسل،الکویت)

واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم

کتبہ

ابو احمد مفتی محمد انس رضا قادری

28ربیع الآخر 1445ھ13نومبر 2023ء

اپنا تبصرہ بھیجیں