ایام بیض اور شب براءت کے روزے کی اکٹھی نیت
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس بارے میں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایامِ بیض یعنی تیرہ چودہ اور پندرہ تاریخ کے روزے رکھنے کا حکم دیا کرتے تھے کہ یہ پوری زندگی کے روزوں کی طرح ہیں۔اب ایک شخص ہر ماہ یہ روزے رکھتا ہے اور اسی دوران پندرہ شعبان یعنی شب براءت کا روزہ آجائے تو کیا دونوں کی اکٹھی نیت کی جاسکتی ہے؟
بسم الله الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب الھم ھدایۃ الحق والصواب
بیان کی گئی صورت میں یوں دونوں روزں کی اکٹھی نیت کی جاسکتی ہے کیونکہ دو نفل روزوں کو ایک نیت میں جمع کیا جا سکتا ہے ۔
ردالمختار میں ہے
”قولہ( ولو نافلتین) قد تطلق النافلۃ علی ما یشتمل السنّۃ وھو المراد ھنا قولہ (فعنھما) فکذالصوم عن الیومین وأیّدہ العلامۃ البیری“
ان کا قول اگر دو نفلوں کی نیّت کی کبھی نفل کا اطلاق سنّت پر بھی ہوتا ہے اور یہاں یہی مراد ہے ان کا قول تو ان دونوں کی طرف سے ہو گا پس اسی طرح وہ روزہ دونوں دنوں کی طرف سے ہو گا اور علّامہ بیری نے اس کی تائید کی ہے ۔( ردالمختار ،کتاب الصلوۃ ،فروع فی النیّۃ ،جلد 2 ،صفحہ 154 ، مکتبہ رشیدیہ ،کوئٹہ )
فقہی احکام میں نیت کی حیثیت نامی کتاب میں ہے :
” اگر دو نفل( کہ جن میں سنت بھی شامل ہے) کی نیت سے روزے رکھے تو دونوں ادا ہو جائیں گے ۔“( فقہی احکام میں نیت کی حیثیت ،صفحہ 102 ،مکتبۃ المدینہ کراچی )
واللہ اعلم ورسولہ اعلم عزوجل وصلی الله علیہ وسلم
ابوبکر نیلمی
22 فروری 2023ء